امریکہ نے رواں ماہ روس کے خلاف ایٹمی حملے کی مشق کی: ماسکو

ماسکو کا یہ الزام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کے مسئلے پر روس اور امریکہ کے درمیان شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔

10 جنوری 2016 کی اس تصویر میں امریکی بی 52 بمبار کو جنوبی کوریا کے ایف 15 طیاروں کے ساتھ پرواز کرتے دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی )

روس کے وزیر دفاع نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی بمبار طیاروں نے اس ماہ کے شروع میں دو مختلف سمتوں سے روس پر ایٹمی حملے کی مشق کی اور روسی سرحد کے 20 کلومیٹر قریب تک پہنچے۔ تاہم پینٹاگون کا کہنا ہے کہ مشقوں کا اعلان پہلے کیا گیا تھا اور یہ بین الاقوامی پروٹوکولز کے مطابق کی گئیں۔

ماسکو کا یہ الزام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کے مسئلے پر روس کا واشنگٹن کے ساتھ شدید تناؤ ہے اور امریکی حکام یوکرین پر ممکنہ روسی حملے کے بارے میں خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ تاہم روس نے ایسے کسی حملے کی منصوبہ بندی کی تردید کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روسی وزیر دفاع سرگئے شوئیگو نے کہا کہ ماسکو نے امریکی سٹریٹجک بمبار طیاروں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ نوٹ کیا ہے، اور اس ماہ روس کے قریب 30 پروازیں کی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ ہے۔

شوئیگو نے خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ اس ماہ کے شروع میں روس کے خلاف امریکہ کی طرف سے جوہری حملے کا تربیتی مظاہرہ کیا گیا تھا۔

وزیر دفاع نے ایک بیان میں دعوٰی کیا کہ امریکی فوجی مشقوں ’گلوبل تھنڈر‘ کے دوران 10 امریکی سٹریٹجک بمبار طیاروں نے مغربی اور مشرقی اطراف سے روس کے خلاف جوہری ہتھیار چلانے کی مشق کی۔

ان کے بیان کے مطابق یہ مشقیں روسی سرحد کے ’کم از کم قربت 20 کلومیٹر قریب تھیں۔‘

شوئیگو نے بتایا کہ روسی فضائی دفاعی یونٹس نے امریکی سٹریٹجک بمبار طیاروں کو دیکھا، ان کا پیچھا کیا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اقدامات کیے گئے، جن کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

مگر پینٹاگون ترجمان لیفٹیننٹ کرنل انتون سیملروتھ۔ نے تردید کرتے ہوئے کہا، ’ان مشقوں کا اعلان اس وقت کھلے عام کیا گیا تھا اور (اسٹریٹجک کمانڈ)، (یورپی کمانڈ)، اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی گئی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ تربیت اور مل کر کام کرنے کے موقعوں کے ساتھ ساتھ تمام قومی اور بین الاقوامی تقاضوں اور پروٹوکول کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اعلیٰ روسی اور امریکی فوجی افسران، چیف آف جنرل سٹاف ویلری گیراسیموف اور چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف سٹاف مارک ملے نے منگل کو ٹیلی فون پر بات کی لیکن دونوں طرف سے بات چیت کے مواد کا انکشاف نہیں ہوا۔

العریبیہ نیٹ کے مطابق شوئیگو نے یہ تبصرہ چینی وزیر دفاع وی فینگے کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ روس کی مشرقی سرحدوں کے قریب امریکی بمبار طیاروں کی پروازیں چین کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

شوئیگو نے کہا، ’اس پس منظر میں، روس اور چینی ہم آہنگی عالمی معاملات میں ایک مستحکم عنصر بن رہی ہے۔‘

روسی وزارت دفاع نے کہا کہ روس اور چین نے حال ہی میں اپنی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

روس اور امریکہ کے تعلقات اس وقت سے تنزلی کی طرف جانا شروع ہوئے جب صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ماسکو پر 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت اور امریکی وفاقی ایجنسیوں کی ہیکنگ میں ملوث ہونے پر پابندیاں عائد کیں۔ ماسکو ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

امریکہ نے 10 روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا حکم بھی دیا تھا اور روس کی رقم ادھار لینے کی صلاحیت پر نئی پابندیاں عائد کر دیں تھیں۔ جس کا جواب ماسکو نے 10 امریکی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے، سابق اور موجودہ امریکی حکام کو بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ روس میں امریکی سفارت خانے پر پابندیاں عائد کر کے دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا