گلوبل وارمنگ: ’اے سی اور فریج گرمی میں اضافہ کر رہے ہیں‘

ماہرین کے مطابق، اے سی اور فریجوں میں استعمال ہونے والی گیس سے زمین کے گرد اوزون کی تہہ کمزور ہوتی ہے اور سورج کی تپش زمین پر زیادہ پڑتی ہے۔

ایئر کنڈیشنر سمیت فریج اور ٹھنڈک حاصل کرنے کے دوسرے آلات کا استعمال روز بروز بڑھتا جارہا ہےاور ماہرین کے مطابق اس کی وجہ لائف سٹائل میں تبدیلی ہے کیونکہ ہر کوئی سہولت چاہتا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)

گرمی سے بچاو کے لیے لوگ ایئر کنڈیشنر کا استعمال کرتے ہیں لیکن شاید بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ ایئر کنڈیشنر کے استعمال سے سطح زمین پر گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایئر کنڈیشنر اور فریج جیسے آلات میں استعمال ہونے والی ہائڈرو فلورو کاربن گیس (ایچ اف سی) ماحول کے لیے کاربن ڈائ اکسائڈ گیس سے بھی زیادہ خطرناک گیس جو زمین کے گرد اوزون گیس کی تہہ کو کمزور کرتی ہے، جس سے سورج کی گرمائش زمین پر زیادہ پڑ پاتی ہے اور اس طرح  درجہ حرارت میں تسلسل سے اضافہ ہوتا ہے جو ماحولیاتی تبدیلی یا کلائمیٹ چینج کا سبب بنتا ہے۔

ایچ ایف سی گیس فریجوں میں ریفریجنٹ کے طور پر ٹھنڈک برقرار رکھنے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔

امریکی ادارے کلائمیٹ انسٹیٹوٹ کی تحقیق کے مطابق ایچ ایف سی دنیا میں 20 فیصد بجلی گھروں میں ایئر کنڈیشنر اور پنکھے چلانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جبکہ بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس میں بھی خوردنی تیل کا استعمال ہوتا ہے جو کاربن ڈائی اکسائڈ پیدا کر کے ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ بنتا ہے۔

کولنگ یا درجہ حرارت کم کرنے کے لیے توانائی کی طلب میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ بین الاقوامی ایجنسی برائے انرجی کے مطابق 2050 تک توانائی کی طلب میں تین گنا اضافہ ہوجائے گا۔

یہ طلب 2000 میں 600 ٹیرا واٹس فی گھنٹہ سے بڑھ کر 2016 میں دو ہزار ٹیرا واٹس فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔

کنزورشیم فار ڈویلپمنٹ اینڈ پالیسی ریسرچ کے مطابق مستقبل میں اے سی کی متوقع طلب میں اضافے کے حوالے سے پاکستان دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔

ادارے کے اعدادو و شمار کے مطابق، پاکستان میں ہر سال 13 لاکھ سے زائد فریج خریدے جاتے ہیں۔ ملک میں فریجوں کی اس طلب میں 2001 کے نسبت 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں 2011 میں ہر 100 گھرانوں میں سے صرف 12 میں فریج کی سہولت موجود تھں، تاہم اب یہ شرح بڑھ کر 40  گھرانوں تک پہنچ گئی ہے۔

ٹھنڈک کے متبادل ذرائع

ایئر کنڈیشنر سمیت فریج اور ٹھنڈک حاصل کرنے کے دوسرے آلات کا استعمال روز بروز بڑھتا جارہا ہےاور ماہرین کے مطابق اس کی وجہ لائف سٹائل میں تبدیلی ہے کیونکہ ہر کوئی سہولت چاہتا ہے۔

ڈاکٹر اشفاق الرحمان پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کے سابق سربراہ ہیں اور ماحولیاتی معاملات پر گہری نطر رکھتےہیں۔ ان کے مطابق لوگ ایئر کنڈیشنر کے عادی ہوگئے ہیں اور اب اس کے استعمال میں کمی شاید ممکن نہ ہو۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ٹھنڈک کے لیے ان آلات میں جو گیس استعمال ہوتی ہے اس کے متبادل گیس بنانے پر کام کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ’ابھی جو گیس ایئر کنڈیشنر اور دیگر ٹھنڈک کےآلات میں استعمال ہوتی ہے یہ ماحول کے لیے خطرناک ہے جس کی وجہ سے کرہ ارض کا درجہ حرارت روز بروز بڑھتا جارہا  ہے۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا قدرتی یا گھریلو طور پر ایسا کوئی حل ہے جس کی مدد سے کمروں کو ٹھنڈا رکھا جا سکے، تو انہوں نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں اب بھی لوگ کمروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے چھت کو سفید چونا یا رنگ کرتے ہیں۔ 

ان کے مطابق یہی سفید چونا یا رنگ سورج کے شعاوں کو زیادہ شدت سے آنے سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ انسولیشن کے ذریعے بھی گھروں اور کمروں کو  زیادہ حرارت سے بچایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر اشفاق نے کہا: ’آج کل انسولیشن کے مخلتف طریقے متعارف کیے گئیں ہے لیکن ابھی تک دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں اس کا استعمال اتنا عام نہیں ہے۔ اس قسم کے طریقوں سے ہم کرہ ارض کے درجہ حرارت کوکنٹرول کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈبل گلیزنگ بھی ایک ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے کمروں کو ٹھنڈا رکھا جاسکتا ہے۔ اس طریقہ کار میں کھڑکیوں کو دونوں جانب سے شیشہ لگایا جاتا ہے جس کے اندرایک خاص گیس ہوتی ہے۔ اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کمرہ ٹھنڈا ہو تو گرم نہیں ہوتا اور سردیوں میں اگر گرم ہو تو جلدی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔

کیگالی معاہدہ اور پاکستان

زمین پر بڑھتی گرمی کی شدت کو کم کرنے اور ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کے لیے 2015 میں پیرس میں اقوامی متحدہ کے کلائمیٹ چینج ادارے کے سالانہ اجلاس میں ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا جس میں دنیا بھر سے تقریباً 200 ممالک نے ہامی بھری تھی کہ وہ اس صدی کے اختتام تک زمین کے درجہ حرارت کو صنعتی انقلاب کے دور سے دو ڈگری زیادہ کی سطح سے کم پر ہی محدود رکھنے میں کوشاں ہوں گے۔

اسی طرح 2016 میں ایچ ایف سی گیس کے استعمال کو کم کرنے کے لیے ’کیگالی معاہدہ‘ کیا گیا تھا جس پر 197 ممالک نے اتفاق کیا۔ یہ معاہدہ جنوری 2019 سے نافذ العمل ہے اور اس پر پاکستان نے بھی دستخط کیے ہیں۔

معاہدے کے تفصیل میں لکھا ہے کہ ہر سال اس گیس کے استعمال میں 10 فیصد اضافہ ہورہا ہے جس سے زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کے استعمال کو کم کرنا ہوگا۔

معاہدے کے تحت ترقی یافتہ ممالک 2019 سے ایچ ایف سی گیس کے استعمال کو اس طرح کم کرنا شروع کریں گے کہ 2026 تک ان کے ہاں اس کا استعمال 2012 کے استعمال کا صرف 15 فیصد ہوجائے۔

اسی طرح ابھرتی ہوئی معیشتیں جیسے چین، برازیل اور کچھ افریقی مملک 2024  اور ترقی پذیر مملک جیسے پاکستان اور بھارت 2028 میں اس گیس کا استعمال کم کرنا شروع کریں گے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ان ممالک میں گرمی کی شدت بہت زیادہ ہے اور دوسری طرف معاشی مسائل بھی موجود ہیں۔

ڈاکٹر شفیق کے مطابق یہ نہایت ہی اہم معاہدہ ہے جس پر پاکستان نے دستخط کیے ہیں لیکن اب اس پر عملی کام کرنا حکومت کا کام ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت نے ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے کو ابھی تک سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔ ’موجود حکومت درخت لگانے پر زور دیتی ہے جو ایک آچھا قدم ہے لیکن یہ مسئلہ صرف درخت لگانے سے حل نہیں ہوگا۔‘

’اس مسئلے کے حل کے لیے بظاہر معمولی کام کرنے ہوتے ہیں جیسا کے عوام میں آگاہی پیدا کرنا یا جو کمروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے گھریلو طریقہ کار کی بات میں نے کی۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جو بظاہرمعمولی لگتی ہیں لیکن مستقبل میں اس کا فائدہ ضرور نکلے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات