کیا پاکستان میں ہسپتال جاننے والوں کے کہنے پر ہی اچھا علاج کرتے ہیں؟

امریکہ سے پاکستان آنے والے میرے دوست نے جب ہسپتال میں اپنے برے تجربے کا لوگوں سے ذکر کیا تو بہت سے لوگوں نے انہیں کہا کہ وہ انہیں بتاتے۔ وہ وہاں فون کر دیتے یا ان کے ساتھ چلے جاتے تو ان کے ساتھ ایسا نہ ہوتا۔

 میں نے  اپنے دوست سے پوچھا کہ پاکستان کا  ٹرپ کیسا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جس دن سے آئے ہیں ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں(فائل فوٹو:اے ایف پی)

میرے ایک دوست امریکہ میں رہتے ہیں۔ ان کی پیدائش پاکستان میں ہوئی تھی۔ 25 سال وہیں رہے پھر امریکہ منتقل ہو گئے۔ 

کچھ ہفتے پہلے ان کا پیغام موصول ہوا کہ وہ اپنی بھانجی کی شادی میں شرکت کے لیے دو ہفتوں کے لیے پاکستان جا رہے تھے۔

انہوں نے اپنے ٹرپ کی پوری منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ کہاں جائیں گے۔ کس سے ملیں گے۔ کیا کھائیں گے۔ کیا پیئیں گے۔ سب کچھ طے تھا۔

اس گفتگو کے بعد میرا سوشل میڈیا ڈیٹوکس شروع ہوگیا تو ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ پرسوں کسی کام سے اکاؤنٹ کھولا تو ان سے بات چیت ہوئی۔

میں نے پوچھا ٹرپ کیسا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جس دن سے آئے ہیں ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

آگے بڑھنے سے پہلے بتاتی چلوں کہ میرے دوست کی عمر 55 سال ہے اور وہ اپنی پیدائش سے ہی سپائنا بیفیڈیا نامی مرض کا شکار ہیں۔

یہ مرض نیورل ٹیوب جو ماں کے رحم میں بچے کا دماغ، ریڑھ کی ہڈی اور ان کے گرد ٹشو بناتی ہے، میں خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

اس خرابی کی وجہ سے بچے کی ریڑھ کی ہڈی ٹھیک طرح سے نہیں بن پاتی اور اس کی پیدائش معذوری کے ساتھ ہوتی ہے۔

میرے دوست اپنی پیدائش کے بعد پانچ سال تک پاکستان میں ایک ہسپتال میں ہی زیرِ علاج رہے۔ وہاں سے انہیں وہیل چئیر کے ساتھ ڈسچارج کیا گیا۔ وہ تب سے اپنی نقل و حرکت کے لیے وہیل چیئر کا استعمال کر رہے ہیں۔ 

انہیں اپنے آنے کے کچھ ہی دن بعد پیشاب کی نالی میں انفیکشن ہوا تھا جس کے علاج کے لیے وہ اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال گئے تھے۔

اس انفیکشن کا علاج ایک چھوٹا سا عمل تھا جس سے وہ ماضی میں بھی کئی بار گزر چکے ہیں۔ انہوں نے اس عمل کے دوران دیکھا کہ نرس اپنا کام دھیان سے نہیں کر رہا تھا۔

نرس نے اس عمل کے بعد ان کے مثانے میں پیشاب کے اخراج کے لیے ایک ٹیوب لگائی۔ اس وقت بھی اس نے دھیان نہیں دیا کہ آیا اس نے اپنا کام ٹھیک سے کیا بھی ہے یا نہیں۔

انہوں نے کچھ دیر بعد ٹیوب کے ساتھ منسلک تھیلی میں خون دیکھا تو نرس کو اس کی غلطی بتائی جس پر وہ ان سے بدتمیزی کرنے لگا۔

انہوں نے اسے بتایا کہ وہ ماضی میں کئی بار اس عمل سے گزر چکے ہیں۔ وہ اس کی غلطی پہچان سکتے ہیں۔

معاملہ یورالوجسٹ تک گیا تو اس نے بھی ان کی تائید کی۔

اس کے باوجود نرس نے یا ہسپتال نے ان سے معذرت کرنے کی زحمت نہیں کی بلکہ ایک ٹیسٹ کروانے کا کہہ دیا۔

انہیں اپنے علاج کا بِل ملا تو اس میں انہوں نے دو عدد ایسے دستانوں کی رقم بھی درج دیکھی جو ان کے علاج کے دوران استعمال نہیں ہوئے تھے۔

 انہوں نے اس پر اعتراض کیا تو انہیں آگے سے کہہ دیا گیا کہ وہ ایک معمولی سی رقم پر بحث کر رہے ہیں۔

انہیں اس بدتمیزی پر بہت حیرانی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بات رقم کی نہیں ہے، بات دھوکے کی ہے۔ میں اس چیز کے پیسے کیوں دوں جو میں نے یا کسی نے میرے لیے استعمال ہی نہیں کی۔

انہیں اس کی ادائیگی بہر حال کرنی پڑی۔

ادائیگی کے بعد ہسپتال کا نرس ان کی وہیل چئیر سنبھالے انہیں ہسپتال سے باہر جانے میں مدد دے رہا تھا۔

ہسپتال کے مرکزی گیٹ پر وہیل چئیر کے لیے بنا ریمپ تنگ اور خطرناک تھا۔ اس سےانہیں نیچے لاتے ہوئے نرس کے ہاتھ سے ان کی وہیل چئیر کا ہینڈل نکل گیا اور وہ اس سے باہر نکل کر گر پڑے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا سر اور کندھا سامنے موجود ریلنگ پر لگا اور پاؤں پر بھی سخت رگڑ آئی۔ اس کے بعد وہ ایک دوسرے ہسپتال گئے جہاں انہوں نے اپنے پاؤں کا ایکسرے اور مرہم پٹی کروائی۔

اگلے کچھ دن انہوں نے اپنے انفیکشن کے علاج کے لیے ایک اور ہسپتال کے چکروں میں گزارے۔

انہوں نے جب اپنے برے تجربے کا لوگوں سے ذکر کیا تو بہت سے لوگوں نے انہیں کہا کہ وہ انہیں بتاتے۔ وہ وہاں فون کر دیتے یا ان کے ساتھ چلے جاتے تو ان کے ساتھ ایسا نہ ہوتا۔

انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا پاکستان میں ہسپتال والے جاننے والوں کے فون  پر ہی ٹھیک طرح سے علاج کرتے ہیں؟

اس سارے تجربے سے انہیں اتنی کوفت ہوئی کہ انہوں نے اس شادی میں بھی شرکت نہیں کہ جس کے لیے وہ امریکہ سے پاکستان آئے تھے۔ 

ہسپتال والوں کے غیر پیشہ ورانہ رویے کی وجہ سے نہ صرف انہیں جسمانی طور پر تکلیف اٹھانی پڑی بلکہ ذہنی پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑا جس کا اثر ان کے ٹرپ پر پڑا۔

اگر وہ نرس اپنا کام دھیان سے کرتا اور ہسپتال کا عملہ ان سے تحمل اور تمیز سے بات کرتا تو ان کا پاکستان میں قیام اس قدر برا نہ گزرتا۔ 

اس وقت وہ واپسی کے سفر میں ہیں۔ دل تو ان کا چاہ رہا تھا کہ آئندہ کبھی پاکستان واپس نہ آئیں لیکن ان کی بہنیں اور خاندان کے دیگر افراد یہیں مقیم ہیں۔ ان سے ملنے انہیں یہاں آنا پڑے گا تاہم تب وہ اپنی اچھی امیدیں اور توقعات امریکہ میں اپنے گھر ہی چھوڑ کر آئیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ