عرفان مہر قتل بظاہر ٹارگٹ کلنگ، پولیس: وکلا کا بائیکاٹ

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے قمر رضا جسکانی نے کہا: ’یہ بظاہر ٹارگٹ کلنگ کی واردات لگتی ہے۔ کیوں کہ مسلح افراد نے ان سے کوئی لوٹ مار نہیں کی تھی۔ اس قتل کا محرک مکمل تفتیش کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا، فی الحال پولیس تفتیش کررہی ہے۔‘

عرفان مہر کی نماز جنازہ بدھ کو کراچی میں گلشن اقبال کی مسجد بیت المکرم میں پڑھائی گئی ہے (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو) 

کراچی پولیس کے مطابق بدھ کی صبح نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے قتل ہونے والے سندھ بار کونسل کے سیکریٹری جرنل عرفان مہر کے قتل کی وجوہات کا تاحال تعین نہیں ہو سکا ہے البتہ یہ بظاہر ٹارگٹ کلنگ کی واردات لگتی ہے۔

کراچی میں سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ضلع شرقی قمر رضا جسکانی کے مطابق وکیل رہنما عرفان مہر صبح اپنی بیٹی کو سکول چھوڑ کر اپنی کار میں گھر واپس آرہے تھے کہ گلستان جوہر کے بلاک 13 میں چیپل پلازہ کے پاس ہیلمنٹ پہنے دو موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی کو روکا اور پیچھے بیٹھے ہوئے مسلح شخص نے نیچے اتر کر شیشے کے پار سے ان پر فائر کیے، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے قمر رضا جسکانی نے کہا: ’یہ بظاہر ٹارگٹ کلنگ کی واردات لگتی ہے۔ کیوں کہ مسلح افراد نے ان سے کوئی لوٹ مار نہیں کی تھی۔ اس قتل کا محرک مکمل تفتیش کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا۔ فی الحال پولیس تفتیش کررہی ہے۔‘

قتل کے بعد عرفان مہر کی لاش کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں بڑی تعداد میں وکلا اور ان کے رشتہ دار جمع ہوگئے۔

جناح ہسپتال کی انتظامیہ نے ان کی لاش کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ جاری کردی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے جناح ہسپتال کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ عرفان مہر کو کسی چھوٹے ہتھیار سے قریب سے پانچ گولیاں ماری گئیں جن میں دو گولیاں چھاتی، دو چہرے اور ایک گولی بازو میں لگی۔ سینے میں لگنے والی دو گولیاں آر پار ہوگئیں جو ان کی موت کا سبب بنیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کراچی پولیس کی جانب سے جاری کردہ واقعے کی سی سی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ ہیلمٹ اور پینٹ شرٹ میں ملبوس دو ملزمان نے ایک تنگ گلی میں ان کی گاڑی کے قریب موٹر سائیکل روکی اور پیچھے بیٹھے ہوئے شخص نے موٹرسائیکل سے اتر کر ان پر فائرنگ شروع کردی۔

جبکہ اسی وقت سکول یونیفارم میں دو طالب علموں کو بھی وہاں سے گزرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ فائر لگنے کے بعد عرفان مہر کی گاڑی تھوڑی دور جا کر رک گئی۔

دوسری جانب کراچی کے وکلا نے واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تمام عدالتوں کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

کراچی بار کونسل کے جنرل سیکریٹری عامر وڑائچ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عرفان مہر کے قاتلوں کو جلد از گرفتار کیا جائے۔ ہم کل یعنی جمعرات کو بھی احتجاج جاری رکھتے ہوئے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان