فرد خود کشی میں ہلاک ہو جائے تو ایف آئی آر نہیں کاٹی جاتی:کراچی پولیس

فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا تھانہ ایس ایچ او کے مطابق ’متوفی 28 سالہ سید ظہیرعباس عابدی، رہائشی انچولی، چار بچوں کے والد اور بے روزگار تھے۔ انہوں نے بظاہر معاشی حالات سے تنگ آ کر چھلانگ لگائی، جس سے شدید چوٹیں آئیں۔

27 اگست 2021 کو کراچی کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے کے بعد زخمیوں اور ہلاک شدگان کو ریسکیو کرنے کے مناظر (فائل تصویر: اے ایف پی)

کراچی کی فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا پولیس کے مطابق گزشتہ شب ایک بے روزگار نوجوان نے معاشی حالات سے تنگ آکر شہر کے مشہور شاپنگ مال لکی ون کی عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ 

فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا تھانے کے ایس ایچ او جمیل عباسی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ’متوفی 28 سالہ سید ظہیرعباس عابدی انچولی بلاک چار کا رہائشی، چار بچوں کے والد اور بے روزگار تھے۔‘ انہیں شک ہے کہ معاشی حالات سے تنگ ہو کر انہوں نے چھلانگ لگائی، جس سے انہیں شدید چوٹیں آئی۔ انہیں پٹیل ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔

تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ کوئی شخص جب خودکشی جیسے انتہائی اقدام پر مجبور ہوتا ہے تو اس کی ایک نہیں کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔  

نوجوان کے متعلق مزید تفصیلات کے لیے پوچھے گئے سوال کے جواب میں جمیل عباسی نے کہا: ’ایسے واقعے میں خاندان کے افراد شدید غمگین ہوتے ہیں، اس لیے پولیس ان سے مزید بات کرنے یا تفصیلات لینے سے گریز کرتی ہے۔‘  

جب ان سے پوچھا گیا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج ہوئی؟ تو جمیل عباسی نے کہا ’ایسے کسی واقعے میں خودکشی کرنے والا اگر ہلاک ہوجائے تو اس واقعے کی ایف آئی آر نہیں کاٹی جاتی۔‘

متوفی کے لواحقین نے مقامی ٹی وی چینل آج ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سید ظہیرعباس عابدی چار بہن بھائیوں میں سے بڑے تھے اور ان کی والدہ سکول ٹیچر ہیں جو گھر کی واحد کفیل ہیں۔ متوفی کئی ماہ سے روزگارکی تلاش میں تھے۔ کچھ عرصہ قبل ائیرلائن کورس کی فیس بھی ادا نہیں کرسکے تھے۔‘ لواحقین کے مطابق ممکنہ طورپر ظہیر حسین عابدی انٹرویوکے لیے شاپنگ مال گئے ہوں گے۔ 

دوسری جانب لکی ون مال انتظامیہ کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا تو آپریٹر مُراد علی نے کچھ دیر انتظار کرنے کو کہا تاکہ وہ مال کے ترجمان سے بات کروا سکیں مگر کئی منٹ کے انتظار کے بعد انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو کہا کہ مال کا کوئی بھی ترجمان اس سلسلے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔

ادھر سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں لکی ون شاپنگ مال کی انتظامیہ نے اپنا موقف جاری کرتے ہوئے کہا ’افسوسناک واقعے میں اس سے قبل کہ نوجوان کو روکا جاتا، انہوں نے چھلانگ لگا دی۔ مال انتظامیہ نے انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا اور پولیس کو مطلع کیا، جو اب اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔‘ 

’یہ واقعہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ انسانی زندگی کتنی نازک ہے، جسے عزیز رکھنا چاہیے۔ ہم نوجوان کے خاندان سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔ ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اس واقعے میں لکی ون مال کی انتظامیہ، عملے کا کوئی رکن یا مال کا کوئی کرایہ دار ذمہ دار یا ملوث نہیں ہے۔‘  

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر نوجوان کے چھلانگ لگانے والی ویڈیو وائرل ہیں جن میں نوجوان کو اچانک اوپر سے نیچے گرتے دیکھا جاسکتا ہے، جس کے بعد لوگ جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ جب کہ بدھ کی صبح پاکستان میں ٹوئٹر پر ’لکی ون مال‘ کے نام کا ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کرتا رہا۔ جس میں ٹوئٹر صارفین بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور بگڑتی معاشی صورتحال پر سوالات اٹھارہے ہیں۔  

افراط زر کی بڑھتی شرح

دوسری جانب پاکستان کے ادارہ برائے شماریات کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ نومبر کے مہینے میں افراط زر کی شرح 9.2 سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہوگئی ہے جو گذشتہ 20 مہینوں میں بلند ترین ہے، حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اس کی بڑی وجہ بنی۔  

خودکشی کا بڑھتا رجحان

کراچی کے ایک بے روزگار صحافی فہیم مغل نے گذشتہ ہفتے بھی اپنی جان خود لے لی تھی۔ اس واقعے کا سوشل میڈیا پر خاصا چرچا رہا۔ بے روزگاری اور معاشی بدحالی کو ان کی  خودکشی کا ممکنہ سبب قرار دیا جا رہا تھا۔

کراچی پریس کلب کے سابق صدر اور صحافی امتیاز خان فاران نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حالیہ سالوں میں متعدد اخبارات اور ٹی وی چینل بند ہوئے ہیں۔ جس سے میڈیا کی صنعت میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری کا مسئلہ سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی میڈیا ہاؤس تنخواہیں دینے میں دیر کرتے ہیں، جس سے معاشی مشکلات جنم لے رہی ہے۔ ’میرے اندازے کے مطابق صرف کراچی میں حالیہ سالوں میں 45 فیصد صحافیوں سمیت میڈیا ورکرز بے روزگار ہوئے ہیں اور اب ان کو کہیں نوکری نہیں مل رہی۔ جس کے باعث یہ لوگ ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔‘

خاندانی لڑائی، کفالت میں ناکامی، معاشی بدحالی خودکشی کے بڑے اسباب  

معروف نفسیاتی ماہر ڈاکٹر لکیش کھتری کے مطابق خاندانی لڑائی یا خاندان کی کفالت میں ناکامی اور معاشی بدحالی خودکشی کے سب سے بڑے اسباب ہیں۔  

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر لکیش کھتری نے کہا عزت چلی جانا، نوکری ختم ہونا، کینسر یا کسی اور خطرناک بیماری، جس میں بچنے کے مواقع کم ہوجائیں، جیسے واقعات میں بھی کوئی فرد ممکنہ طور پر خودکشی کرسکتا ہے۔  

’یہ سارے اسباب خودکشی کرنے کے لیے فرد کو اکساتے ہیں۔ ان اساب کے باعث فرد کو شدید ڈپریشن ہوتا ہے جس کے باعث اس فرد کو لگتا ہے کہ اب مسائل کا کوئی بھی ممکن حل نہیں ہے تو وہ خودکشی کرلیتا ہے۔ خودکشی کے وقت وہ فرد سو فیصد شدید ڈپریشن میں ہوتا ہے۔‘  .

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’خودکشی کرنے والوں کی اکثریت 15 سے 30 برس کی عمر کے لوگوں کی ہوتی ہے۔ جب کہ خودکشی کی کوشش میں خواتین کی اکثریت ہوتی ہے، مگر خودکشی کرکے فوت ہونے والوں میں اکثریت مردوں کی ہوتی ہے۔ یعنی اگر کوئی مرد خودکشی کرتا ہے تو اس کے بچنے کے چانسز نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں، جب کہ خودکشی کرنے والی خواتین کی اکثریت بچ جاتی ہے۔‘  

خودکشی کی کوشش کرکے بچنے والا مجرم قرار  

نامور قانونی ماہر اور سندھ ہائی کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ اصغر ناریجو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ’پاکستانی قانون کی مطابق اگر کوئی فرد خودکشی کرتے ہوئے ہلاک ہوجاتا ہے تو اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی مگر یہ کوشش کرتے ہوئے بچ جائے تو اس عمل کو پاکستانی قانون میں ایک سنگین جرم مانا جاتا ہے اور اس فرد پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 325 کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے جس کی سزا ایک سال ہے۔‘

اصغر ناریجو کے مطابق صحت کی عالمی تنظیم ڈبلیو ایچ اور اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں خودکشی کی کوشش کو پاکستان میں سنگین جرائم کی فہرست سے ہٹانے کے لیے کوشاں ہیں۔  

پاکستان سینیٹ میں دسمبر 2017 میں اس وقت کے سینیٹر کریم خواجہ نے پاکستان پینل کوڈ 1860 اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر 1898 میں ترمیم کا بل پیش کیا جس کے تحت خودکشی کی کوشش کرنے والے فرد کو مجرم کی بجائے بطور مریض اس کا سرکاری طور پر علاج کرایا جانا ہے۔ یہ بل تو پاس ہوگیا مگر اس پر تاحال کوئی عمل نہ ہوسکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان