دو ریاستی حل کی موت

فلسطینیوں کی غصب کردہ اراضی پر پہلو بہ پہلو اسرائیلی اور فلسطینی ریاستوں کا قیام اب اس دیرینہ مسئلے کا حل نہیں رہا۔

ایک خاتون23 نومبر 2021 کو غزہ شہر میں ایک ریلی کے دوران ان پوسٹروں کے نیچے کھڑی ہے جن میں برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم بورس جانسن، ہوم سیکرٹری پریتی پٹیل (پٹیل کا فرمان دہشت گردی ہے) عربی عبارت کے ساتھ) اور سابق وزیراعظم آرتھر بالفور (جو 1917 کے بالفور اعلامیے کے لیے مشہور ہیں) کے کراس لگے چہرے دیکھے جاسکتے ہیں(اے ایف پی)

اقوام متحدہ کی نگرانی میں طے پانے والے ’تقسیم فلسطین منصوبہ‘ کی ڈائمنڈ جوبلی گذشتہ ہفتے [29 نومبر] کو منائی گئی۔

تقسیم فلسطین کا منصوبہ جس وقت عالمی ادارے میں پیش کیا جا رہا تھا اس وقت امریکہ قضیہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی مخالفت کر رہا تھا۔

تاہم صدر ہنری ایس ٹرومین کو 1948 کا امریکی الیکشن دوسری مرتبہ اپنے نام کرنے کے لیے یہودی ووٹوں کی سخت ضرورت تھی، اس لیے انہوں نے اپنے سفیر ہرسچل جانسن کو ہدایت کی کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اعلان کر دیں کہ امریکہ تقسیم فلسطین کے لیے قائم کردہ خصوصی کمیٹی کے تیار کردہ منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔

قیام اسرائیل سے لے کر اب تک دو ریاستی حل کا لالی پاپ ہی دے کر امریکہ کے مختلف صدور داخلی اور خارجہ محاذ پر سیاست کرتے رہے ہیں۔

ایسے دلفریت نعروں سے فلسطینی نوجوانوں اور سیاسی کارپردازوں کو لبھایا جاتا رہا ہے۔ اسی اثنا میں سب سے زیادہ فلسطین دشمن اور اسرائیل نواز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی منظرنامے پر نمودار ہوتے ہیں۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 28 جنوری کو جاری کردہ امن منصوبے اور اسرائیل میں ہونے والے 2 مارچ کے انتخاب کی مدت کے دوران فلسطین میں ایک سروے کا اہتمام کیا گیا تاکہ جائزہ لیا جا سکے کہ قضیہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے آپشن سے متعلق فلسطینی کیا سوچتے ہیں؟

اس سروے کے نتائج ہوشربا تھے، جن میں فلسطینیوں کی بڑی اکثریت نے دوٹوک موقف اختیار کیا کہ مسئلہ فسلطین کا حل اب فلسطینیوں کی غصب کردہ سرزمین پر پہلو بہ پہلو اسرائیل اور فلسطینی ریاست کا قیام نہیں بلکہ اس کا حل تاریخی فلسطینی پر مشتمل علاقے فلسطینیوں کو واپس کر کے ہی ممکن ہو سکے گا۔

ادھر اردن اور اسرائیل کے درمیان 1994 کو طے پانے والے امن معاہدے کے 25 برس گزرنے کے بعد بھی اردن کی بڑی اکثریت اپنے مغربی ہمسائے کے ساتھ معاندانہ رویہ برقرار رکھنے پر زور دے رہی ہے۔

امن کے نعرے سنتے ہوئے فلسطینیوں کی ایک نسل ایسی جواں ہوئی ہے جس کے دلوں میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی خواہش آئے روز دم توڑ رہی ہے۔

جس بات پر تجزیہ کار دراصل پریشان ہیں وہ یہ حقیقت ہے کہ اردنی نوجوان، جن کی بڑی تعداد یونیورسٹی طلبہ کی ہے، وہ بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔

اردن اور اسرائیل کے درمیان شاہ حسین اور اضحاک رابین کے دور میں خوشگوار تعلقات قائم تھے۔ دونوں حکمران اردن، اسرائیل اور اس وقت کی نوزائدہ فلسطینی اتھارٹی پر مشتمل علاقائی بلاک بنانا چاہتے تھے، لیکن ان کے اس خواب کو ایک ریڈیکل انتہا پسند یہودی نے 1995 میں اضحاک رابین کو قتل کر کے چکنا چور کر دیا۔

کئی دہائیوں تک تعلقات اردن اور اسرائیل کے درمیان سرد مہری کا شکار رہے۔ حکومتوں نے ماضی میں کئی معاہدے کیے جن میں کچھ متنازع بھی تھے، لیکن عوامی سطح پر ایسے فیصلوں کی کبھی پذیرائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ہر جگہ اور ہر وقت اسرائیل کے بائیکاٹ کی بازگشت سنائی دیتی رہی ۔۔ ایسا آخر کیوں ہوا؟

اردن اور مغربی کنارے کے درمیان کے تعلقات ہر لحاظ سے منفرد رہے ہیں۔ تاریخی اور سیاسی اعتبار سے مغربی کنارہ 1950 سے 1967 تک مملکت اردن کا حصہ رہا ہے۔ 1948 میں لڑی جانے والی عرب۔اسرائیل جنگ میں اردن کی عرب فوج نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشیلم کا دفاع کیا۔

بیت المقدس کے تاریخی شہر کا دفاع کرتے ہوئے سینکڑوں اردنی فوجیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان قربانیوں کی وجہ سے ہی اس وقت کی اسرائیلی ملیشیا کو تاریخی شہر پر ہاتھ صاف کرنے میں کامیابی نہ مل سکی۔

اردن کے عوام اپنے ہم وطنوں کی قربانیوں کا ذکر فخر سے کرتے ہیں۔ ہر سال 21 مارچ کو ’جنگ کرامہ‘ 1968 کی یاد مناتے ہیں۔

اس روز اسرائیلی فورسز نے دریائے اردن کے مشرقی کنارے پر حملے کی کوشش کی جسے عرب فوج نے جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ناکام بنایا۔ ان جنگوں کے نقش آج بھی اردنی عوام کے ذہن اور نفسیات پر رقم ہیں۔

اردن نے 1948 اور پھر بعد میں 1967 کی جنگوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں نقل مکانی کر کے آنے والے پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ دی۔ ان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد اب اردنی شہریت حاصل کر چکی ہے۔

فلسطین کاز سے اردن کے تعلق کا ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ ہاشمی جمہوریہ ہونے کے ناطے اردن کو یروشیلم میں مسلمانوں کے واقع مقدس مقامات بشمول قبلہ اول کا متولی سمجھا جاتا ہے۔

اردن کو یہ اعزاز شاہ عبداللہ اول [یعنی موجودہ اردنی فرمانروا کے دادا] کے دور حکومت سے حاصل رہا ہے۔ شاہ عبداللہ اول کو 1951 میں مسجد اقصیٰ کی سیڑھیوں پر گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ اردن۔اسرائیل تعلقات میں بسیار خرابی کے وقت بھی شاہ عبداللہ دوئم نے مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے عزم کو پورا کیا۔

عوامی سطح پر اردن کے عوام فلسطینیوں کے دکھوں کو اپنا غم سمجھتے ہیں۔ اسرائیل کے ہاتھ فلسطینی خون سے رنگے ہیں، اس جارح ملک نے اردن کے افراد کا بھی خون بہایا ہے۔ گذشتہ دہائی کے دوران اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں دریا عبور کرنے والے ایک اردنی جج کو بےرحمی سے ہلاک کیا۔

یہی نہیں بلکہ عمان میں اسرائیلی سفارت خانے میں ایک صہیونی سفارت کار  نے 2017 میں دو اردنی باشندوں کو گولی مار کر قتل کیا۔ اسرائیل ان دونوں جرائم میں صاف بچ نکلا جس نے اردنی شہریوں کے ذہن میں اسرائیل سے متعلق تاثر کو مزید خراب کیا۔

مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل سے اسرائیل کی لیت ولعل پر اردن کو بہت زیادہ تشویش ہے۔ اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاسی حلقے جب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فلسطینی ریاست تو بن چکی ہے، ان کی مراد دراصل اردن ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیلی سیاست دانوں کی جانب سے ’اردن کے آپشن‘ کی رٹ خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ اردن کو فلسطینیوں کا وطن قرار دے کر اسرائیل دنیا کو گمراہ کر رہا ہے۔

اردنی عوام اپنے وجود کو لاحق ان خطرات کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہیں، بالخصوص دریائے اردن کے مشرقی کنارے پر آباد قبائل تو کسی قیمت اسرائیل کی کسی بات پر اعتبار  کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں قربانی کا بکرا بنا کر فلسطین کے قومی کاز کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

اردنی عوام کو گذشتہ ہفتے اس بات کی بھنک پڑی کہ شاہ عبداللہ دوئم کی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ ’پانی کے بدلے بجلی‘ خریدنے کی دستاویز پر دستخط کیے ہیں تو اس ڈیل کے خلاف عوامی احتجاج، جس میں یونیورسٹی کے طلبہ پیش پیش تھے، منظم کیا گیا۔

ان افراد کو پولیس کے حراست میں لیا تاکہ احتجاج کو اردن کے دوسرے حصوں تک پھیلنے سے روکا جا سکے۔ تاہم قدرے تاخیر پر اٹھایا جانے والا یہ اقدام مطلوبہ نتائج سامنے نہ لا سکا۔

ملک کے طول وعرض میں گذشتہ جمعہ مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ عوامی احتجاج کے باعث اردنی حکومت کو ’پانی کے بدلے بجلی‘ خریداری کا منصوبہ ختم کرنا پڑا۔

فلسطینی عوام سے خصوصی لگاؤ کے باعث زندگی کے مخلتف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اسرائیل سے تعلقات نارملائزیشن کی کوششوں کی مزاحمت کرتے رہیں گے۔

 حیران کن بات یہ ہے کہ ان مظاہروں اور احتجاج میں سرگرمی دکھانے والوں میں زیادہ تعداد ان نوجوانوں کی ہے کہ جو اسرائیل۔اردن کے 1994 میں طے پانے والے امن معاہدے کے بعد پیدا ہوئے۔

اندریں حالات ایمان اور یقین کی حد تک لوگوں کے دلوں میں راسخ سوچ اور عزم کو تبدیل کرنا، یا تبدیل کرنے کی کوشش کرنا فی الوقت ایک ناممکن کام دکھائی دیتا ہے۔

نوٹ: یہ رائے مصنف کی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ