کئی سال بعد اسرائیلی اور فلسطینی عہدیداروں کے درمیان ملاقات

اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں کے درمیان ملاقات اسرائیل کے نئے وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ملاقات کے دو روز بعد ہوئی ہے۔

 اسرایلی وزیر دفاع بینی گینٹز(دائیں) اور فلسطینی صدر محمود عباس (بائیں) کے درمیان پیر کو ملاقات ہوئی (اے ایف پی/ ہینڈ آؤٹ/ پی پی او)

حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے وزیر دفاع بینی گینٹز اور فلسطین کے صدر محمود عباس کے درمیان رام اللہ میں بات چیت ہوئی ہے جو حالیہ کئی سالوں میں فریقین کے درمیان اعلیٰ سطح کی پہلی ملاقات ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق بینی گینٹز اور محمود عباس کے درمیان اتوار کو ہونے والی ملاقات سے سمت میں تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔ اس سے پہلے حالیہ سالوں میں عباس اور اسرائیلی رہنماؤں کے درمیان رابطوں کا سلسلہ تقریباً مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا۔ 

اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں کے درمیان ملاقات اسرائیل کے نئے وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ملاقات کے دو روز بعد ہوئی ہے۔ اس ملاقات میں امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم پر زور دیا تھا کہ فلسطینیوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

گینٹز کے دفتر کا کہنا ہے کہ انہوں نے محمود عباس کو بتایا ہے کہ اسرائیل فلسطینی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے نئے اقدامات کرے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں سلامتی کے مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور آپس میں رابطہ رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مانا جاتا ہے کہ 2014 کے بعد سے یہ فریقین کے درمیان اعلیٰ سطح پر پہلی سرکاری ملاقات تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک فلسطینی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ گینٹز اور عباس نے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات پر بھی غور کیا۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان اقدامات میں مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ فلسطینی خاندانوں کو ان کے اسرائیل میں رہنے والے رشتہ داروں کے ساتھ اکٹھے ہونے اور مزید فلسطینی کارکنوں کو اسرائیل میں کام کی اجازت دینا شامل ہے۔

سخت گیر اسرائیلی وزیر اعظم فلسطین کی آزادی کے مخالف ہیں۔ ان کے حکمران اتحاد جس میں مختلف جماعتیں شامل ہیں، کے اہم شراکت داروں کا بھی یہی مؤقف ہے، تاہم وزیراعظم بینیٹ کہہ چکے ہیں کہ وہ فلسطینی معیشت کے استحکام اور فلسطینیوں کی خود مختاری کا دائرہ وسیع کرنے کے حامی ہیں۔ وہ غزہ میں حکمران تنظیم حماس کے خلاف محمود عباس کے ہاتھ مضبوط کرنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر بائیڈن اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعے کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی انتظامیہ کی توجہ اعتماد سازی کے عبوری اقدامات پر مرکوز ہے۔ اسرائیل کے سابق وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے فلسطینیوں کے خلاف سخت گیر پالیسی اپنا رکھی تھی اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کے حامی تھے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد اقدامات کیے جن میں اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس کے متنازع علاقے میں منتقلی بھی شامل ہے۔ جواب میں فلسطینی صدر نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ زیادہ تر روابط ختم کر دیے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا