فلسطینی ریاست کا قیام تنازعے کا ’بہترین حل‘: بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ایک خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست اسرائیل کے مستقبل کو یقینی بنانے کا بہترین طریقہ ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن  کا یو  این جنرل اسمبلی سے خطاب (تصویر: اے ایف پی)

امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ایک خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست اسرائیل کے مستقبل کو یقینی بنانے کا ’بہترین طریقہ‘ ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ’اسرائیل کی سلامتی کے لیے امریکی عزم پر کوئی شبہ نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’لیکن مجھے یقین ہے کہ دو ریاستی حل ایک یہودی جمہوری ریاست کے طور پر اسرائیل کے مستقبل کو یقینی بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہے جہاں ایک قابل عمل، خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کے ساتھ پر امن طریقے سے رہا جائے۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم اس وقت اُس مقصد سے بہت دور ہیں لیکن ہمیں اپنے آپ کو کبھی بھی ترقی کے امکانات سے دستبردار نہیں ہونے دینا چاہیے۔‘

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی صدر جو بائیڈن نے خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کی ہو۔ اس سے قبل 21 مئی 2021 کو بھی وہ یہ بات کر چکے ہیں۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رویٹرز کے مطابق صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ امریکہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے کوششوں کو منظم شکل دینے میں مدد کرے گا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ تنازعے کا ’واحد حل‘ اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

صدر بائیڈن نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اسرائیل سے کہا ہے وہ بیت المقدس کے حساس مقام پر ’برادریوں کے درمیان‘ لڑائی بند کرے۔

تاہم انہوں نے زور دیا کہ ’ان کے اسرائیل کی سلامتی سے متعلق عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک خطہ اسرائیل کے وجود کو دو ٹوک انداز میں تسلیم نہیں کرتا امن قائم نہیں ہو گا۔

انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ وہ واضح طور پر اسرائیل نواز تھی جس میں فلسطینیوں کو نظرانداز کر دیا گیا تھا۔

اب امریکی صدر نے ایک بار پھر اور بین الاقوامی فورم پر اپنی بات کا اعادہ کیا ہے جسے اب زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ 

اس کے برعکس ان کے پیش رو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کو اسرائیل نواز اور فلسطین مخالف پالیسی قرار دیا جا رہا تھا۔ 

گذشتہ برس جنوری میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے امن منصوبہ پیش کیا تھا جو ان کے بقول ’ڈیل آف دی سنچری‘ تھا۔ 

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا یہ منصوبہ نہ صرف اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دائمی امن کی بنیاد رکھے گا بلکہ اس سے فلسطینیوں کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ امن اور ترقی بھی نصیب ہوگی۔ 

تاہم مشرق وسطیٰ پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ فلسطین نہیں بلکہ اسرائیل نواز تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ منظر عام پر آنے کے چند ہی روز بعد یعنی فروری 2020 میں فلسطینی صدر محمود عباس نے اعلان کیا تھا  کہ فلسطینی اتھارٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ امن منصوبہ مسترد کرنے کے بعد دونوں ملکوں کے ساتھ سکیورٹی سمیت تمام تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔

عرب لیگ نے بھی ٹرمپ کے امن منصوبے کی مخالفت میں فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کی تھی۔

امن منصوبے کے اہم نکات میں جن کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے توثیق کی تھی ایسی غیرفوجی فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا ہے جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تعمیر کی گئی یہودی بستیاں شامل نہ ہوں اور ریاست تقریباً اسرائیل کے کنٹرول میں ہو۔

 

ٹرمپ کے امن منصوبے پر غور کے لیے بلائے گئے عرب لیگ کے ایک روزہ ہنگامی اجلاس سے خطاب میں فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا تھا: ’ہم نے اسرائیل کو بتا دیا ہے کہ سکیورٹی روابط سمیت فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات نہیں ہوں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا