سوارہ: 11 سال کی عمر میں بیاہی گئی بچی نے اپنی زندگی کیسے بدلی؟

انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر چارسدہ کی ایک ایسی خاتون کی داستان جو 11 سال کی عمر میں قدیم اور فرسودہ رسم سوارہ کا شکار ہوئیں۔

شمیم اب 35 خواتین کو سلائی کڑھائی سکھا رہی ہیں، اور وہ ان کے کام کو بھی آگے متعارف کروانے میں مدد کررہی ہیں (تصویر: شمیم)

شمیم (فرضی نام) محض 11 سال کی تھیں جب ان کے گاؤں میں منعقد کیے گئے ایک جرگے میں انہیں سوارہ میں دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ ایک ایسی قدیم، فرسودہ اور اب غیرقانونی رسم ہے، جس میں کسی دشمنی کو ختم کرنے کے لیے اکثر خواتین اور نوعمر لڑکیوں کی مخالفین سے شادی کر دی جاتی ہے۔

شمیم کا بھائی گاؤں کی ایک لڑکی کو پسند کرتا تھا، جس کی خبر بڑوں کو ہوئی تو ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ شمیم کے والد نے بیٹے کی جان بچانے کی خاطر صلح کی پیشکش کی، لیکن مخالفین نے ان سے دو بیٹیاں سوارہ میں مانگ لیں، جو اس وقت نو اور 11 سال کی تھیں۔ بعد ازاں فیصلہ صرف شمیم کو بیاہنے پر ہوا۔

چارسدہ سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ شمیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کیسے ایک 11 سالہ لڑکی کو ایک 25 سالہ لڑکے کے ساتھ رشتہ ازدواج میں باندھ دیا گیا تھا، جس کے بعد سسرال میں ان کے ساتھ اچھا رویہ اختیار نہیں کیا گیا۔

شمیم کا پہلا بچہ 14 سال کی عمر میں ہوا۔ ان کے مطابق دائی کو گھر پر بلا کر بچے کی پیدائش ہوئی، ایسے حالات میں جب شمیم کی صحت کمزور تھی تو ایک گائناکالوجسٹ نے خبردار کیا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔

وہ بتاتی ہیں: ’میرے شوہر نے کبھی مجھے بیوی کا درجہ نہیں دیا۔ اس نے مجھ سے ہمیشہ نفرت کی۔ آج چار بچوں کی ماں ہونے کے بعد بھی میری حیثیت اس کی نظر میں دشمن کی اس بیٹی کی طرح ہے جو سوارہ میں بیاہ کر اس کے سر پر مسلط کی گئی۔‘

سوارہ کیا ہے؟

سوارہ پشتو زبان کا لفظ ہے، دیگر زبانوں میں اس کے لیے ’ونی‘، ’سک‘ اور ’سنگ چتی‘ کے الفاظ بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس رسم میں اکثر چھوٹی عمر کی لڑکیاں دو خاندانوں کے درمیان دشمنی کے معاملات ختم کرنے کے عوض بیاہی جاتی ہیں۔ حکومت نے کرمنل لا ایکٹ 2004 اور 2011 میں ترامیم کے ذریعے پاکستان پینل کوڈ میں سوارہ جیسی رسموں کو قابل سزا جرم قرار دیا۔ اسی طرح رواں سال  اکتوبر میں وفاقی شرعی کورٹ بھی انہیں غیر اسلامی قرار دے چکا ہے۔  لیکن اب بھی پاکستان کے بعض علاقوں سے ایسے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں جس میں نو عمر لڑکیوں کو اس رسم کے بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔

تشدد کی قسم

ہر سال 10 دسمبر انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جو کہ خواتین کے خلاف صنف کی بنیاد پر تشدد کی خاتمے کے لیے آگاہی کے ’16 ڈیز آف ایکٹیوزم‘ کے اختتام پر آتا ہے۔

ان 16 دنوں کے لیے ہر سال ایک عالمی تھیم بھی منتخب ہوتی ہے اور اس سال کی تھیم ’خواتین کے خلاف تشدد کا خاتمہ، آج اور ابھی‘ ہے۔

خیبر پختونخوا کی تنظیم برائے بزنس، پروفیشنل و ایگریکلچر ویمن (اے بی پی اے ڈبلیو) کی صدر بشریٰ رحیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نہ صرف سوارہ تشدد کی ایک قسم ہے بلکہ چھوٹی عمر میں بچیوں کی شادی کرنا، کم عمر میں ان کا حاملہ ہونا بھی تشدد میں شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’زبردستی ایک بچی کی شادی کروانا، اس سے زندگی کے تمام حقوق چھیننا تشدد کی ایک بدترین مثال ہے۔‘

شمیم نے اپنی زندگی کیسے بدلی؟

وقت اور حالات نے شمیم کو بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ اب وہ پہلے کی طرح اپنے لیے بات کرنے سے کتراتی یا ڈرتی نہیں ہیں، بلکہ ڈٹ کر بات کرتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ بتاتی ہیں: ’جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی، مجھے احساس ہوا کہ مجھے معاشی لحاظ سے مضبوط ہونے کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔ اس مقصد کی خاطر میں نے سلائی کڑھائی کا کام سیکھنا شروع کیا۔ یہ سب اتنا آسان نہیں تھا، لیکن جیسے ہی تھوڑے بہت پیسے اس کام کے عوض ملنے شروع ہوئے، زندگی بدل گئی۔‘

شمیم کے مطابق، جس لڑکی کو ایک ٹانکا لگانا نہیں آتا تھا، اس نے مضبوط ارادے کے سبب اس کام میں اتنی مہارت حاصل کی کہ گاؤں کی دیگر خواتین کو بھی سکھانا شروع کیا اور پھر ایک دن ایک غیر سرکاری ادارے سے کچھ خواتین آئیں، جنہوں نے شمیم کو سہولیات دینے اور ان کے کام کو بڑی سطح پر متعارف کرنے کا وعدہ کیا۔

شمیم اب 35 خواتین کو سلائی کڑھائی سکھا رہی ہیں اور وہ ان کے کام کو بھی آگے متعارف کروانے میں مدد کررہی ہیں۔ گاؤں کی خواتین ان کو اپنا استاد اور رہنما مانتی ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’میں اب معاشی لحاظ سے اتنی خود مختار ہوگئی ہوں کہ جس سے نہ صرف میرے گھر کا مہینے کا خرچہ پورا ہوجاتا ہے بلکہ اپنی بوڑھی والدہ کی کفالت کی ذمہ داری بھی اٹھارہی ہوں۔‘

اے بی پی اے ڈبلیو کی صدر بشریٰ رحیم کہتی ہیں: ’شمیم کے ساتھ جو ہوا اس میں خواتین کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر وہ معاشی لحاظ سے مضبوط ہوں گی تو وہ اپنے حق کا دفاع بھی کر سکیں گی۔ اگر ہم حوصلہ نہ ہاریں، تو جیت بالآخر ہماری ہوگی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین