نیوزی لینڈ: ’خود غرض‘ شخص نے ایک دن میں 10 مرتبہ ویکسین لگوالی

خیال کیا جا رہا ہے کہ اس شخص نے ایک ہی دن نیوزی لینڈ میں متعدد ویکسینیشن مراکز کا دورہ کیا۔

نیوزی لینڈ میں کووڈ 19 ویکسین پروگرام کی گروپ مینیجر ایسٹرڈ کورنیف نے مذکورہ شخص کے رویے کو ’خطرناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تمام ملوث افراد کے غلط طبی ریکارڈ کی وجہ سے طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں  ْ(فائل فوٹو: اے ایف پی)

نیوزی لینڈ میں ایک ہی دن میں 10 مرتبہ کرونا (کورونا) وائرس کی ویکسین لگوانے والے ایک شخص کو ’ناقابل یقین حد تک خود غرض‘ قرار دیا گیا ہے، جسے مبینہ طور پر دیگر نو افراد نے ویکسین لگوانے کے لیے معاوضہ ادا کیا تھا۔

نیوزی لینڈ کی نیوز ویب سائٹ ’سٹف‘ (Stuff) کی ایک رپورٹ کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ اس شخص نے ایک ہی دن  نیوزی لینڈ میں متعدد ویکسینیشن مراکز کا دورہ کیا۔

نیوزی لینڈ میں کووڈ 19 ویکسین پروگرام کی گروپ مینیجر ایسٹرڈ کورنیف نے مذکورہ شخص کے رویے کو ’خطرناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تمام ملوث افراد کے غلط طبی ریکارڈ کی وجہ سے طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ کسی بھی ایسے شخص کو، جس نے ویکسین کی مجوزہ خوراک سے زیادہ ڈوز لی ہو، جلد از جلد طبی مشورہ لینا چاہیے۔

ایسٹرڈ کورنیف نے نیوزی لینڈ ہیرالڈ سے گفتگو میں کہا: ’کسی دوسرے شخص کی شناخت فرض کرنا اور طبی علاج حاصل کرنا خطرناک ہے۔ اس سے وہ شخص خطرے میں پڑ جاتا ہے جو ایک فرض شدہ شناخت کے تحت ویکسینیشن حاصل کرتا ہے اور وہ شخص بھی، جس کا صحت کا ریکارڈ یہ ظاہر کرے گا کہ اس نے ویکسین لگوا لی ہے، لیکن اصل میں ایسا نہیں ہوا ہوتا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ویکسینیشن کا غلط ریکارڈ نہ صرف آپ کو خطرے میں ڈالتا ہے، بلکہ یہ آپ کے دوستوں، خاندان، کمیونٹی اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والی ٹیموں کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے، جو آپ کا علاج کرتی ہیں۔

ایسٹرڈ کورنیف نے مزید کہا: ’طبی عملہ بھروسے کے ماحول میں کام کرتا ہے اور لوگوں پر بھروسہ کرتا ہے کہ وہ نیک نیتی کا مظاہرہ کریں اور اپنے علاج میں مدد کے لیے درست طریقے سے معلومات کا اشتراک کریں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے تصدیق کی کہ ملک کی وزارت صحت کو اس مسئلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ ویکسینیشن کے ان مختلف مراکز کی تصدیق نہیں کی جائے گی، جن کا دورہ مذکورہ شخص نے کیا تھا، لیکن فی الحال اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف آکلینڈ سے وابستہ پروفیسر اور ویکسینولوجسٹ ہیلن پیٹوسس ہیرس نے اس شخص کے رویے کو ’ناقابل یقین حد تک خود غرض‘ قرار دیا۔

ساتھ ہی انہوں نے ان لوگوں کی بھی مذمت کی، جنہوں نے اس شخص کی مالی صورت حال کا ’فائدہ‘ اٹھایا اور خود ویکسین لگوانے سے بچنے کے لیے اس کا استعمال کیا۔

انہوں نے کہا: ’اگرچہ ایک دن میں متعدد ویکسین لگوانے والے شخص کو شدید نقصان پہنچنے کا امکان نہیں ہے، لیکن مدافعتی ردعمل سے اگلے دن انہیں بخار، درد اور سر درد کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم جانتے ہیں کہ (ایسے بھی کیس سامنے آئے ہیں جب) لوگوں کو غلطی سے شیشی میں موجود پوری پانچ خوراکیں بھی دے دی گئیں، بجائے اس کے کہ اسے پتلا کیا جائے، ہم جانتے ہیں کہ یہ بیرون ملک ہوا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دیگر ویکسینوں کے سلسلے میں بھی غلطیاں ہوئی ہیں اور کوئی طویل مدتی مسئلہ نہیں ہوا۔‘

نیوزی لینڈ نے رواں ماہ ویکسین پاسپورٹ شروع کیے ہیں، جو کچھ زیادہ خطرے والے مقامات میں داخلے کے لیے ضروری ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت