’کوئٹہ کو یورپ سے ملانے کا خواب دیکھنے والے بابوعبدالکریم شورش‘

بابوعبدالکریم شورش نے ایک نقشہ پیش کیا جس میں کوئٹہ سے جانے والی شاہراہ کو یورپ اور لندن سے ملتے ہوئے دکھایا گیا ہے، آج کل اسی شاہراہ کو ’سی پیک روٹ‘ کہا جاتا ہے۔

نصف صدی قبل کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں قومی شاہراہ پر ایک بورڈ نصب ہوتا ہے جس پر نقشہ ہے، چلتن پہاڑی کی تصویر ہے، اور اس پر کچھ اشعار بھی لکھے گئے تھے۔

بورڈ نصب کرنے والے شخص نے اس پر ایک نقشہ جس روٹ کے طور پردکھایا ہے اس میں کوئٹہ کو یورپ اور لندن سے ملتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ آج کل اسی شاہراہ کو ’سی پیک روٹ‘ کہا جاتا ہے۔

بلوچستان کے  ضلع مستونگ سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اور مزدوررہنما بابوعبدالکریم شورش وہ شخص تھے جنہوں نے یہ بورڈ نصب کیا۔ 

تاج برطانیہ کے زیر نگیں بلوچستان کے دگرگوں حالات اور مستونگ کی سیاسی سرگرمیوں کے بیچ  جنم لینے والے بابو شورش نے کمسنی میں ہی ایک پرخطر راستے کا انتخاب کیا۔

بابوعبدالکریم کے فرزند شہک کریم امن کہتے ہیں:’1926۔1925 کا دور بلوچستان کا پرآشوب دور تھا۔ انگریز حکومت نے سیاسی تنظیمیں بنانے پر پابندی عائد کررکھی تھی۔ انہی دنوں مستونگ میں انجمن اتحاد بلوچاں کی خفیہ بنیاد رکھی گئی۔ میرے والد اس کے سب سے کم عمر ممبر تھے۔‘

انہوں نے بتایا: ’تنظیم خفیہ طور پر قائم کی گئی اور ممبران سے حلف قرآن پرلیا گیا۔ یہیں سے بابوعبدالکریم کی زندگی کا سیاسی سفر شروع ہوتا ہے۔‘

شہک کے بقول: ’اس دور میں اخبارات خفیہ طور پر ڈاک کے ذریعے آتے تھے۔ اگر کسی کے پاس کوئی اخبار برآمد ہوجاتا تو بغاوت کا مقدمہ قائم کیا جاتا تھا۔‘

شہک کہتے ہیں: ’والد کو میں نے بچپن سے بڑھاپے تک جدوجہد کرتے دیکھا وہ کبھی تھکے نہیں۔ گھرکے خراب حالات تنگ دستی اور قید وبند بھی انہیں اپنے راستے سے نہیں ہٹا سکے۔

’والد مجھے اپنےساتھ اپنے اخبار کےدفتر لے جاتے رہتے۔ جہاں بہت سے سیاستدان جن میں میر غوث بخش بزنجو اور دیگر شامل ہیں، آتے تھے۔ ‘

شہک کہتے ہیں کہ 1934 میں نواب یوسف عزیز مگسی اور میرعبدالعزیز کرد کے دستخط سے شائع ہونے والے شمس گردی پمفلٹ کی پاداش میں میر عبدالعزیز کرد کو گرفتار کرلیا گیا۔ عزیز مگسی کو نوابی سےمعزول کیا گیا۔ جس کے بعد انجن اتحاد بلوچاں پر پابندی لگادی گئی۔

 وہ مزید بتاتے ہیں کہ پھر انجمن اسلامیہ قلات کا قیام عمل میں لایاجاتا ہے۔ لیکن بعد میں جب میر عبدالعزیز کرد رہا ہوتے ہیں تو فروری 1937 میں سبی کے مقام پر ’قلات سٹیٹ نیشنل پارٹی‘ کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ جس کی مجلس عاملہ کے اراکین میں بابو عبدالکریم شامل تھے۔

شہک کے بقول: ’اسی جماعت کو بلوچستان میں بننے والی جماعتوں کی ماں کا درجہ دیا جاتا ہے۔ کیوں کہ آج تک جو بھی جماعتیں بنی ہیں۔ وہ اپنی سیاسی  جدوجہد کا تسلسل اسی کو قرار دیتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا: ’5،6،7 جولائی 1939 کو قلات سٹیٹ نیشنل پارٹی کا سالانہ کنونشن منعقد کیا جاتا ہے۔ جس کے پہلے دن کی کارروائی بخیر خوبی انجام پاتی ہے۔ دوسرے دن 6 جولائی کو انگریزوں کی ایما پر مسلح قبائلی سرداروں نے جلسے پر حملہ کردیا تھا۔ یہ بلوچستان کی تاریخ کا پہلا عوامی  جلسہ تھا۔ جس سے انگریز حکمران سخت خائف تھے۔ بابوعبدالکریم سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس کے ساتھ وہ اپنے مینول کیمرے کے ساتھ تصاویر بھی بنارہے تھے۔‘

شہک نے بتایا کہ اس دوران سرداری لشکر کی تصاویر بناتے ہوئے بابوعبدالکریم زخمی بھی ہوئے۔ بابو عبدالکریم نے اس جلسے اور حملے کی پوری تفصیل اپنے اخبار ’نوکیں دور‘ میں بھی شائع کی تھی۔

شہک نے بتایا کہ اس دور کے نوکیں دور کی اشاعت میں بتایا گیا کہ اس کے بعد قبائلی سردار خان قلات کے پاس گئے اور انہوں نے قلات سٹیٹ نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جس پر تمام رہنماؤں کو جبراً ریاست بدرکرنے کے لیے قلات کی حدود سے سونا خان تھانہ جو اس وقت ہزار گنجی  میں واقعہ ہے وہاں لاکر چھوڑ دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ والد نے اس کی رپورٹ اپنے اخبار میں لکھی: ’جلاوطنی کے بعد مجھے بھی اپنے سرکاری ملازمت سے ہمیشہ  کے علیحدہ ہونا پڑا اور میں نے خان عبدالصمد خان اچکزئی کے اخبار استقلال میں کام شروع کردیا۔‘

شہک کہتے ہیں کہ والد لکھتے ہیں کہ اس دوران 30 جون 1940 کو ان کو ملک عبدالرحیم خواجہ خیل اور نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کے ہمراہ سٹی تھانے میں طلب کرکے ہدایت دی گئی کہ انگریز حکومت کےخلاف تحریک آزادی ہند کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لینا ہوگا ورنہ ڈیفنس آف انڈیا رولز کے تحت سخت مواخذہ کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس تنبیہ کے باوجو بابو اوردوسرے رہنما پیچھے نہیں ہٹے بلکہ بابو نے ’اے کے ابوانقلاب بلوچستانی‘ کے نام سے انگریزحکومت کے خلاف ایک پمفلٹ شائع کروایا کرکے پورے بلوچستان میں تقسیم کروایا۔ جس میں انہوں نے انگریزوں کے بلوچستان کو تقسیم کرنے کی مخالفت کی تھی۔

بابوعبدالکریم ایک مزدور رہنما

شہک کہتے ہیں کہ یہ بات کم لوگوں کے علم میں ہے کہ بابوعبدالکریم نے جون 1937 میں مستونگ میں ریلوے میں اقلیوں کے لیے ہڑتال کروا کر پہلی مزدوروں کی تحریک کی بنیاد رکھی تھی۔ بعد میں کوئٹہ، مچھ کے کوئلہ کانوں کے مزدوروں کی ہڑتال بھی انہوں نے کروائی۔

  انہوں نے بتایا کہ بابو نے قاضی داد محمد کے ساتھ مل کر اپریل 1941 میں باقاعدہ ' بلوچستان مزدور پارٹی' بھی بنائی تھی۔ جس کے تحت یکم مئی 1941 میں کوئٹہ کے میکموہن پارک ( موجودہ مالی باغ) میں جلسہ بھی کرایا تھا۔

اینٹی فاشسٹ تحریک میں شمولیت

نوکیں دور رسالے کے مطابق جس میں بابوعبدالکریم کی کہانی چھاپی گئی کہ وہ برصغیر کے پہلے واحد رہنما تھے جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران اینٹی فاشسٹ تحریک شروع کی۔

انہوں نے عالمی امن کمیٹی میں بھی شمولیت اختیار کی۔ کمیٹی کے صدر سیف الدین کچلو  تھے جو امرتسر میں رہتے تھے، جب کہ  بابو بلوچستان شاخ کے سربراہ تھے۔

یاد رہے کہ سیف الدین کچلو کو 1952 میں لینن امن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ 

نوکین دور کے مطابق: ’1948 میں پاکستان بننے کے بعد سب سے اولین شخص کے بطور سوشلسٹ تحریک کی پاداش میں جیل بھی جانا پڑا۔ ‘

عالمی رہنماؤں اوردیگر معاملات میں دلچسپی 

ماہنامہ نوکین دور( نیا دور) میں شہک لکھتےہیں کہ 1950 میں سامراجی  عزائم نے ایک بارپھر کوریا میں جنگ چھیڑ دی۔ کوریا کو شمالی اور جنوبی کوریا میں تقسیم کردیا۔ جس پر بابو آگے آتے ہیں اور عالمی امن کمیٹی کی تحریک شروع کرتے ہیں۔ وہ  اگست 1950 میں امن کانفرنس بلا کر دستخطی مہم شروع کرتے ہیں۔ جس پر انہیں 17 اگست کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔

اخباری صحافت کی ابتدا

نوکیں دور کے مطابق: ’ بابو نے تعمیرنو کے نام سے اخبار نکالنے کے لیے انگریزحکومت کو درخواست دی تھی۔ جس کے دینے سے انکار کردیا گیا۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے ہفت روزہ نوکیں دور کے نام سے اخبار نکالنے کی درخواست جمع کرائی۔

 جس پر انہیں 4 مئی 1962 میں ڈیکلریشن جاری ہوا۔ پہلا شمارہ 8 جون 1962 کو شائع کیا۔ شہک کہتےہیں کہ اس طرح 22 سالہ جدوجہد کے بعد بابو اخبار نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ جو دنیا کا پہلا بلوچی اخبار تھا۔ اس سے قبل بلوچی زبان میں رسائل نکلتے تھے۔ اخبار کوئی نہیں تھا۔‘

صحافت کےساتھ ادب کا فروغ

شہک نوکیں دور کے ماہ جون 2019 کے شمارے میں لکھتے ہیں کہ بابو نے اپنے اخبار کے ذریعے لوگوں کو بلوچی اکیڈمی کے بارے میں بتایا۔ جس کا قیام 1961 میں عمل میں لایا جاچکا تھا۔ بلوچی زبان سکھانے کا کالم لکھنا شروع کیا اور بچوں کے لیے لکھتے رہے۔

اس بارے میں معروف دانشور اور لکھاری ڈاکٹر شاہ محمد مری اپنی کتاب بابو عبدالکریم شورش میں لکھتے ہیں کہ جب نوکیں دور پورے کا پورا بلوچی میں چھپتا تھا تو اس میں عورتوں کا صفحہ بھی تھا۔ جس سے ہمارے ہاں بلوچ خواتین نے لکھنا شروع کیا۔ کتاب سے اقتباس

ڈاکٹرمری مزید لکھتے ہیں:’ بابو نے 7 مئی 1970 کو ویت نام اور کمبوڈیا پر امریکی جارحیت کےخلاف امریکی صدر نکسن کو یہ ٹیلی گرام دیا کہ ویت نام اور کمبوڈیا میں امریکہ کی  جارحانہ پالیسی نےعالم امن کے لیے زبردست خطرہ پیش کردیا ہے۔ میں آپ سے مخلصانہ اپیل کرتا ہوں کہ اس جارحیت کو فوری طور پر بند کردیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بابو عالمی دنیا کے ساتھ جڑا رہتا اس نے برٹرنڈرسل پیس فاؤنڈیشن کو بھی خط لکھا۔ شاہ محمد مری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ وہ ہماری انقلابی قوم کا وزیر خارجہ تھا۔ 

پیس فاؤنڈیشن نے جواباً لکھا:’ آپ کے 5 اپریل 1970 کےخط کا شکریہ اور اسی کے ساتھ شامل آپ کے اخبار کے  تراشوں کے لیے بھی ممنون ہیں۔ آپ نے جس فراخ دلی کے ساتھ لارڈ رسل کے متعلق لکھا ہے۔ اس سے متعلق بلوچی مقالوں میں اظہار خیال کیا۔ اس کے تراجم بھیج دیے۔ یہ بہت ہی قابل قدرہیں۔ اس کے علاوہ ہمارا تاثر ہے کہ لارڈ برٹرنڈ رسل ایسے انسان تھے جس کا کوئی نعم البدل نہں ہوسکتا۔ یہ فاؤنڈیشن امن کے مقاصد کے کام کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ جو انہوں نےجاری کیا تھا۔ موت سے کچھ ہی پہلے انہوں نےسپوکس مین  کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا تھا۔ جس کی تفصیل شامل ہذا ہے۔ بہترین خواہشات کے ساتھ آپ کی مخلص، پامیلا ؤڈ۔‘

اخبار سے کارڈ تک کا سفر 

شاہ محمد مری لکھتےہیں کہ بابو اپنا اخبار ون یونٹ کے دور میں دس سال تک چلاتے رہے۔ لیکن جون 1972 میں غیر متوقع طور پرنوکیں دور کو کچھ عرصہ کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔ انہوں نے دسمبر 1972 میں دوبارہ درخواست دی۔ جس پر انہوں 19 فروری 1973 کو دوبارہ ڈیکلیریشن ملا۔

کتاب سے اقتباس

 اس دوران انہوں نے جب 18 مئی 1973 کو پرچہ چھاپنے کے لیے پریس کو دیا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ڈائریکٹر اطلاعات بلوچستان نے اسے نہ چھاپنے کی ہدایت کی ہے۔

ڈاکٹر مری مزید لکھتے ہیں کہ بابو کو اس پر دوبارہ جدوجہد کرنا پڑی اور 31 جولائی 1973 کو انہیں کامیابی ملی اور ڈیکلیریشن مل گیا۔ پھر اس کے بعد اخبار کے اخراجات بڑھتے گئے اور نوکیں دور گھٹتے گھٹتے کارڈ سائز کا بن گیا۔ جسے بابو خود لوگوں میں تقسیم کرکے اخبار کا چندہ لیتا تھا۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ان کارڈوں کی خاصیت یہ تھی کہ ان پر ایک شعر لکھا ہوتا تھا۔ جس کا ایک مصرعہ بلوچی اور دوسرا پشتو زبان کا تھا۔ 

افغان انقلاب ثور

ڈاکٹر اپنی کتاب میں افغان ثور انقلاب کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ 27 اپریل 1978 کا واقعہ ہے کہ افغانستان میں انقلاب برپا ہوا۔ جو افغان ثور انقلاب کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ خالصتاً عوامی انقلاب تھا۔ جسے افغان عوام نے کامریڈ نور محمد ترہ کئی کے فعال رہنمائی میں خود برپا کیا تھا۔

اس دوران جب ضیاالحق کا مارشل لا لگا ہوا تھا۔ بابو کو افغان انقلابیوں کو مبارکباد کا پیغام دینے کے جرم میں 13 مارچ 1980 کو 33 مارشل لا ریگولیشن کے تحت گرفتار کیا گیا۔ اس پیرانہ سالی میں بھی ہتھکڑیاں پہنائی گئیں اور ان کے ہاتھ بھی زخمی ہوئے۔ ایک دن سٹی تھانہ میں رکھنے کے بعد انہیں اگلے دن مارشل لا کورٹ میں پیش کرکے جیل بھیج  دیا گیا۔

 کتاب اسے اقتباس

بابوعبدالکریم شورش کے ساتھی اور لکھاری ڈاکٹر سلیم کرد نے بتایا کہ بابو ایک انتہائی متحرک رہنما تھے۔ انہوں نے نیپ کی تشکیل میں کردار ادا کیا تھا۔

ڈاکٹر سلیم کرد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بابو کو میں نے دیکھا کہ ہرجلوس میں وہ سب سے آگے رہتے اور اپنے کیمرہ سے تصاویر بھی بناتے رہتے اور اس وقت کی تصاویر جتنی بھی ہیں وہ سب ان کی بنائی ہوئی ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ بابو اپنے سیاسی اور صحافتی جدوجہد میں انتہائی متحرک اور اپنے علاقے  سے کوئٹہ منتقلی کے باعث انہوں نے کبھی اپنے آبائی جائیداد کے حوالے سے کوئی کام نہیں کیا۔ جس کے باعث وہ سب دوسرے لوگ قبضہ جما کر استعمال کررہے ہیں۔

  انہوں نے بتایا کہ بابوعبدالکریم شورش کی کوئٹہ کے بازار میں جوتوں کی دکان تھی اور اخبار کا دفتر تھا۔ جس کو انہوں نے کچھ وقت چلانے کے بعد ختم کردیا۔ 

ڈاکٹرسلیم کرد نے بتایا کہ بابو جس طرح جدوجہد کی اور ساری زندگی سیاست اور صحافت کرتی گزاری اور کوئی مراعات نہیں لیے لیکن وہ جس چیز کا حقدار تھا، اسے وہ نہ مل سکا۔

  نوکیں دور کے شمارے میں بابو کے ایک اور کارنامے کے بارےمیں لکھا گیا ہے کہ جس وقت 20 جولائی 1969 میں دنیا کے پہلے  انسان نے چاند پر اپنا قدم رکھا تو جس پر انہوں نے اخبار کا خصوصی شمارہ شائع کروایا اور اسے پورے کا پورا انگریزی میں ترجمہ کر کے تینوں خلا نوردوں کو بھجوایا تھا۔

جس پر تینوں خلانوردوں نے اپنے دستخطوں سے بھیجا ہوا شکریہ کے پیغام کا جواب دیا تھا۔ جس کے نیچے نیل آرم اسٹرانگ نے اپنے ہاتھ سے یہ الفاظ لکھےتھے:’ تھینک یو فار دی کاپی  آف دی نیوزپیپرز۔‘

ڈاکٹر شاہ محمد مری اپنی کتاب بابو عبدالکریم شورش میں لکھتے ہیں کہ جب پاکستان بنا اور دسمبر 1969 میں انہوں نے شورش کو خیر باد کہتے ہوئے امن نام اپنا لیا تھا۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ 14 دسمبر 1986 کو اس بڑے صحافی اور بلوچستان میں سیاست کے اس منبع کو موت نےنگل لیا۔ اس وقت ان کی عمر 70 برس تھی۔ انہیں ان کی وصیت کے مطابق چلتن کے دامن میں سڑک کنارے دفن کیا گیا۔

 یہ بطل جلیل یورپ اور کوریا کو ملانے والی عظیم شاہراہ کے کنارے ہزار گنجی میں محو خواب ہیں۔

اس بورڈ پر انہوں نے یہ لکھا تھا:

)From London to china and Korea

Upon this highway lies my borea

Find me in the green wood of the chiltan 

& hazarganji, heart of Balochistan(

قبر پر چاردیواری اور مینار جس کی انہوں نے خواہش کی تھی، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ کے دور میں پانچ لاکھ روپے کی منظوری کے باعث بن گئی۔

 کتاب سے اقتباس

بابوعبدالکریم شورش کے ہزارگنجی میں نصف صدی قبل ایک غیر معمولی بورڈ لگانے اور اپنی زندگی میں قبر کی نشاندہی کو بھی کوئٹہ کے ادیب اور لکھاری وحید زہیر تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ بہت آگے کی سوچ رکھتے تھے۔

 وحید زہیر نے انڈ پینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بلوچستان میں دو ایسی شخصیات گزری ہیں جنہوں نے مستقبل کے حالات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔ ان میں ایک میرغوث بخش بزنجو اور دوسرے بابو عبدالکریم شورش تھے۔

انہوں نے بتایا کہ بابوعبدالکریم نے اپنی زندگی میں کوئٹہ کے ہزارگنجی کے قریب حالیہ کوئٹہ مستونگ شاہراہ پر قبر کی نشاندہی کی تھی۔ جسے ان کی وصیت کے مطابق پائیہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔

لکھاری وحید زہیر کے مطابق: ’بابو عبدالکریم نے قبر کے علاوہ اسی شاہراہ پر ایک بورڈ بھی نصب کیا تھا۔ جس میں انہوں نے یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ یہ شاہراہ ایک دور میں بین الاقوامی شہرت کی حامل ہوگی۔‘

انہوں نے بتایا کہ اگر آج بھی ہم دیکھیں تو یہ شاہراہ جو لکپاس سے گزرنےکے بعد ایک سڑک کے ذریعے ایران جاتی ہے۔ جس کے ذریعے یورپ تک رسائی ممکن ہے اور دوسرا یہی روٹ سی پیک کا ہے۔

وحید زہیر کہتے ہیں کہ اگر اس وقت کے حوالے سے ہم دیکھیں تو بولان شاہراہ اہمیت کی حامل تھی، جہاں سے ریلوے لائن اور شاہراہ بنائی گئی، لیکن اس کے باوجود بابو عبدالکریم اس شاہراہ کی اہمیت جانتے تھے کہ کسی وقت میں یہ شاہراہ زیادہ اہمیت کی حامل ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان