بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں صوفی موسیقی کے آلات کا مستقبل؟

70 سالہ غلام محمد زاز کشمیر کے روایتی موسیقی کے آلات سنتور اور رباب بنانے اور ٹھیک کرنے والے غالباً آخری بڑے ہنر مند بچے ہیں۔

غلام محمد بتاتے ہیں کہ وہ بچپن سے ہی آرٹ میں دلچسپی رکھتے تھے (سکرین گریب)

سری نگر میں دریائے جہلم کے کنارے ایک کمرے میں 70 سالہ غلام محمد زاز موسیقی کے آلات سنتور اور رباب بنا رہے ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ غالبا وہ آخری ہنر مند ہوں جو یہ آلات بنا رہے ہیں۔

غلام محمد کے آباؤ اجداد تین صدیوں سے کشمیر میں بہترین سنتور اور رباب تیار کرتے آ رہے ہیں لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے بعد یہ ہنر غائب ہو جائے گا۔

دو تار والے آلات کشمیر کی روایتی اور صوفی موسیقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

14 ویں صدی میں وسطی ایشیا سے مسلمان مبلغین تبلیغ کے لیے کشمیر آئے جہاں صوفی ازم سے متاثرہ موسیقی مقامی ثقافت کا ایک لازمی جزو بنی۔

غلام محمد بتاتے ہیں کہ وہ بچپن سے ہی آرٹ میں دلچسپی رکھتے تھے اور چونکہ ان کے خاندان کا ہر فرد یہی کام کرتا تھا لہٰذا وہ بھی اس جانب راغب ہوئے۔ ’یہ فن مجھے میرے والد سے ملا، جنہوں نے اپنے والد سے سیکھا تھا۔

’وہ ایک مختلف وقت تھا۔ آج سے بہت مختلف۔ ہمارے فن کو سب نے سراہا، ہمارے کام کا اچھا معاوضہ دیا گیا۔‘

تاہم آج کے تیز رفتار دور میں غلام محمد اپنے تباہ حال کاروبار میں پیچھے رہ گئے ہیں، جہاں خریدار کم ہیں اور سنتور کے ماہر بھی نہ ہونے کے برابر۔

سنتور بنانے کی بات کی جائے تو سری نگر میں صرف ایک ہی کارخانہ بچا ہے، غلام محمد زاز کا۔

 

’سنتور بنانے کے لیے ہمیں خام مال کی ضرورت ہوتی ہے۔ لکڑی کو استعمال کرنے سے پہلے اسے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جانا چاہیے۔

’یہ آواز کے لیے مناسب ہونا چاہیے۔ ساز میں استعمال ہونے سے پہلے لکڑی کو دو سال سیزنڈ کرنا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ موسیقار کو ساز بجاتے وقت کوئی پریشانی نہ ہو۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ایران میں سب سے پہلے یہ ساز بنا۔ میں نے جو سنا ہے اس کے مطابق یہ فرانس میں بھی بنایا گیا تھا۔

’پھر مقامی ثقافت کے مطابق ان آلات نے اپنی مخصوص شکل اختیار کی۔ ایرانی سنتور کی دھن بالکل الگ ہے اور یہاں کوئی اس کی تعریف نہیں کرے گا۔

’شیو کمار شرما اور بجن لال سوپوری ان چند موسیقاروں میں سے تھے جو ایرانی سنتور بجا سکتے تھے۔

’انہوں نے سنتور کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ وہ دونوں کشمیری تھے۔ وہ میرے دادا اور والد سے ملنے آتے تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرینگر میں ماہر موسیقی محمد مقبول بتاتے ہیں کہ سنتور کی ابتدا 16ویں صدی میں ہمالیہ کے علاقے میں ہوئی اور اسی دوران اس کا تعلق صوفی موسیقی سے قائم کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سنتور کے سو تار ہیں اور سنسکرت کی پرانی تحریروں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔

’16 ویں صدی میں کشمیر صوفی بزرگوں کا گھر تھا۔ صوفی موسیقی کو روحانی بہبود کو فروغ دینے یا لوگوں میں روحانیت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔‘

تاہم اب نئی نسل مغربی موسیقی کی طرف راغب ہے، انہوں نے اسے اپنی زندگیوں میں ضم کر لیا ہے جبکہ روایتی اور ثقافتی سازوں کو بہت کم توجہ مل پاتی ہے۔

سرینگر میں ماہر موسیقی محمد مقبول کے مطابق: ’آج کے دور میں کوئی بھی ہنرمند اس ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے تیار نہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا