اب ڈرون خصوصی بیجوں سے لاکھوں درخت لگائیں گے

ایئرسیڈ ٹیکنالوجی نامی کمپنی مصنوعی ذہانت، ڈرون ٹیکنالوجی اور اپنے بنائے ہوئے خصوصی بیجوں کی پھلیوں کو ملا کر موسمیاتی تبدیلیوں اور حیاتیاتی تنوع کو پہنچنے والے نقصان کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔

ایک آسٹریلوی بائیوٹیک سٹارٹ اپ کا کہنا ہے کہ ان کے بنائے ہوئے ڈرون سالانہ لاکھوں درخت لگا کر جنگلات کی کٹائی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

ایئرسیڈ ٹیکنالوجی نامی کمپنی مصنوعی ذہانت، ڈرون ٹیکنالوجی اور اپنے بنائے ہوئے خصوصی بیجوں کی پھلیوں کو ملا کر موسمیاتی تبدیلیوں اور حیاتیاتی تنوع کو ہونے والے نقصان کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔

ان کے بنائے گئے بیجوں کو خاص فضا سے زمین پر پھینک پر درخت اگانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ 

ایئر سیڈ ٹیکنالوجیز کے سی ای او اور شریک بانی اینڈریو واکر کے مطابق: ’ہمارا ہر ڈرون خودکار طریقے سے اڑتے ہوئے روزانہ 40 ہزار سے زیادہ بیج لگا سکتا ہے۔ روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں یہ 25 گنا تیز ہے لیکن 80 فیصد سستا بھی ہے۔‘

بیجوں کا انتخاب اس علاقے کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے جہاں انہیں لگانا ہو اور پھلیاں مقامی علاقے سے لیے گئے فضلے سے تیار کی جاتی ہیں۔ ان پر کاربن سے بھرپور تہہ لگائی جاتی ہے جو پرندوں، کیڑوں اور چوہوں سے بیجوں کی حفاظت کرتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمپنی کے سی ای او اینڈریو واکر نے کہا: ’ہمارے پاس وہ ٹیکنالوجی ہے جو ہر گھنٹے میں ہزاروں بیج کی پھلیوں کو زمین تک پہنچا سکتی ہے۔ تو یہ واقعی آپ کو بڑے پیمانے پر بحالی کے منصوبوں سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے، لیکن راز واقعی ہماری بائیوٹیک میں ہے، جو ایک بار زمین پر ارنے والے بیج کے لیے مدد گار نظام ہے۔‘

انہوں نے کہا ہم اس حقیقت کا بہت خیال رکھ رہے ہیں کہ ہمیں مٹی کی صحت بحال کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں مٹی کے اندر پائے جانے والے جراثیم کو بحال کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں جانوروں کے لیے بنیادی مسکن فراہم کرنے والوں کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈرون خودکار طریقے سے پہلے سے پروگرام شدہ پرواز کے راستے پر اڑاتے ہیں، پہلے سے متعین ایک نمونے کے مطابق پودے لگاتے ہوئے ہر بیج کے مقام کو ریکارڈ کرتے ہیں جو بعد میں سروے کے دوران درختوں کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے معاون ثابت ہوتا ہے۔

ایئر سیڈ ٹیکنالوجیز کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا میں 50 ہزار سے زائد درخت لگا چکی ہے اور ان کا مقصد 2024 تک ایک کروڑ درخت لگانا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کا کہنا ہے کہ دنیا ہر سال 70 لاکھ ہیکٹر جنگلات سے محروم ہو جاتی ہے جو پرتگال کے سائز کا علاقہ ہے۔

ادارہ یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ جنگلات کی کٹائی کو 2025 تک آدھا کردیا جائے اور 2030 تک عالمی سطح پر جنگلات کی کٹائی کو روکا جائے۔

ایئر سیڈ ٹیکنالوجیز جیسی متعدد کمپنیاں اب ڈرون پر مبنی شجرکاری کا نظام تیار کر رہی ہیں جن میں ایک اور آسٹریلوی سٹارٹ اپ، ڈینڈرا اور آکسفورڈ میں قائم بائیو کاربن انجینئرنگ شامل ہیں۔

ان سب کا مقصد بیج گرانے والی ٹیکنالوجی کے ساتھ جنگلات کی کٹائی سے لڑنے میں مدد کرنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا