نیو یارک: رہائشی عمارت میں آتشزدگی، نو بچوں سمیت 19 ہلاک

نیویارک کے علاقے دا برانکس میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ میں اتوار کو ایک خراب ہیٹر کی وجہ سے آگ لگ گئی اور دھواں بھر گیا، جو جلد ہی 19 منزلہ عمارت کی کئی منزلوں تک پھیل گیا۔

امریکی شہر نیو یارک میں ایک 19 منزلہ رہائشی عمارت میں آگ لگنے کے نتیجے میں نو بچوں سمیت 19 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ 

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیویارک کے علاقے دا برانکس میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ میں اتوار کو ایک خراب ہیٹر کی وجہ  سے آگ لگ گئی اور دھواں بھر گیا، جو جلد ہی 19 منزلہ عمارت کی کئی منزلوں تک پھیل گیا۔

دھواں عمارت کی نچلی منزل سے اٹھ رہا تھا جہاں سب سے پہلے آگ لگی اور رہائشیوں نے ہوا کے لیے کھڑکیاں توڑ دیں اور دروازوں کے نیچے گیلے تولیے پھنسا دیے تھے۔

عمارت سے نکالے جانے والے لوگوں کے چہرے دھوئیں سے سیاہ ہوچکے تھے اور چلنے میں دشواری کا سامنے کرنے والوں کو آکسیجن دی جا رہی تھی۔

فائر کمشنر ڈینئل نیگرو نے بتایا کہ فائر فائٹرز کو ہر فلور پر دھوئیں سے متاثرہ افراد ملے جن میں سے اکثر کو سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔

انہوں نے کہا: ’کچھ لوگ دھواں زیادہ ہونے کے سبب عمارت سے نہیں نکل سکے تھے۔‘

فائر کمشنر کے مطابق 60 سے زائد افراد متاثر ہوئے اور 13 سے زائد افراد کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر افراد سانس کے ذریعے دھواں اندر جانے سے متاثر ہوئے۔

میئر ایرک ایڈمز نے نیویارک سٹی فائر ڈیپارٹمنٹ (ایف ڈی این وائی) کے فائر فائٹرز کی تعریف کی کہ انہوں نے خود کے آکسیجن ٹینک ختم ہونے کے بعد بھی لوگوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ 

تقریباً 200 فائر فائٹرز نے اتوار کی صبح لگنے والی آگ بجھانے کی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔

ایڈمز نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ بہت سے متاثرین کا تعلق اصل میں مغربی افریقی ملک گیمبیا سے تھا۔

ایڈمز کے ایک سینیئر مشیر سٹیفن رنگل نے بتایا کہ جان سے جانے والے بچوں کی عمریں 16 سال یا اس سے کم تھیں۔

ایک شخص جن کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا نے بتایا کہ شروع میں جب فائر الارم بجا تو انہوں نے مذاق سمجھا کیوں کہ عمارت میں بغیر کسی خطرے کے بھی فائر الارم بجتے رہتے تھے اور وہ اس کے متعلق بے پروا ہوچکے تھے۔

ڈینیل نیگرو کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آگ عمارت کی تیسری منزل پر ایک خراب الیکٹرک ہیٹر سے لگی تھی۔

اس کمرے اور سڑھیوں کا دروازہ کھلا تھا جس کی وجہ سے دھواں پوری عمارت میں بھر گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمارت کی رہائشی سینڈرا کلیٹن نے بتایا کہ جب انہوں نے لوگوں کو ’باہرنکلو، باہر نکلو‘ چیختے ہوئے سنا اور دالان کو کالے دھوئیں سے بھرتے دیکھا تو وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگیں۔

61 سالہ سینڈرا کلیٹن نے کہا کہ وہ اپنے کتے کو پکڑ کر سیاہ دھوئیں سے بھری ہوئی سیڑھیوں سے نیچے آئیں۔

دھواں اتنا سیاہ اور گہرا تھا کہ وہ کچھ دیکھ نہیں پا رہی تھیں لیکن وہ اتنا بتا سکتی تھیں کہ آس پاس دوسرے کرایہ دار بھی تھے کیوں کہ انہوں نے ان کی گھبراہٹ اور رونے کی آوازیں سنی تھیں۔

اس ہنگامے میں ان کا کتا ان کی بازوؤں سے نکل گیا اور بعد ازاں سیڑھیوں پر مردہ پایا گیا۔

کلیٹن کا علاج ایک ہسپتال میں کیا گیا جہاں انہوں نے بتایا: ’جب میں سیڑھیوں پر بھاگتی ہوئی نیچے آرہی تھی تو لوگ چیختے ہوئے میرے اوپر گر رہے تھے۔‘

عمارت کے رہائشی لوئس روزا نے بھی پہلے یہ سوچا کہ یہ جھوٹا الارم تھا لیکن جب ان کے فون پر ایک نوٹیفکیشن ظاہر ہوا تو انہیں اور ان کی والدہ کو پریشانی لاحق ہوئی۔

 اس وقت تک دھواں 13ویں منزل پر پھیلنا شروع ہوگیا تھا اور انہیں الارم کی آواز دور سے آتی ہوئی سنائی دے رہی تھی۔

انہوں نے جب سامنے والا دروازہ کھولا تو دھواں اتنا گہرا ہوچکا تھا کہ نکلنا مشکل تھا۔

انہوں نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا: ’ایک بار جب میں نے دروازہ کھولا تو میں سیڑھیوں سے نیچے نہیں دیکھ پا رہی تھی پھر میں نے سوچا کہ ہم نیچے نہیں اتریں گے کیوں کہ اگر ہم نیچے اترے تو ہمارا دم گھٹ جائے گا۔ ہمارے پاس انتظار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔‘

ایک اور رہائشی ورنیسا کننگھم نے بتایا کہ جب انہیں ٹیلی فون پر الرٹ ملا کہ عمارت میں آگ لگ گئی ہے تو وہ چرچ سے گھر کی طرف بھاگیں۔

60 سالہ ورنیسا کننگھم نے کہا: ’مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا، میں صدمے میں تھی، میں اپنے اپارٹمنٹ کو دیکھ سکتی تھی، کھڑکیاں ٹوٹ چکی تھیں اور مجھے عمارت کے عقب سے آگ کے شعلے نظر آ رہے تھے۔‘

اس علاقے کی نمائندگی کرنے والے ڈیموکریٹ امریکی نمائندہ رچی ٹورس نے اے پی کو بتایا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ہر اپارٹمنٹ یا پھر مشترکہ حصوں میں فعال فائر الارم موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان عمارتوں میں سے بیشتر کے اندر پانی سے آگ بجھانے والا سپرنکلر نظام نہیں ہے۔ لہذا دا برانکس کے اپارٹمنٹس کو باقی شہر کے اپارٹمنٹس کے مقابلے میں تباہ کن آتشزدگی کا زیادہ خطرہ ہے۔

فائر کمشنر ڈینیل نیگرو اور ڈیموکریٹ امریکی نمائندہ رچی ٹورس نے اس آگ کی شدت کا موازنہ 1990 میں مقامی ہیپی لینڈ سوشل کلب میں لگنے والی آگ سے کیا ہے جہاں87 لوگ اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ایک شخص نے اپنی سابق گرل فرینڈ کے ساتھ بحث کے نتیجے میں عمارت کو آگ لگا دی تھی۔

ہیپی لینڈ کلب کے بعد آتشزدگی سے سب سے زیادہ اموات اتوار کو ہوئیں۔

نیشنل فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن کی معلومات کے مطابق 2017 کے بعد یہ امریکہ کی رہائشی عمارتوں میں لگنے والی خطرناک ترین آگ تھی۔

اتوار کو پیش آنے والے واقعے سے چند روز قبل فلاڈیلفیا کے ایک گھر میں آگ لگنے سے آٹھ بچوں سمیت12 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سے قبل خطرناک ترین آگ 1989 میں امریکی ریاست ٹینیسی میں لگی تھی جس کے سبب 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ