بلوچ رقص تنقید: ’ہمارے نوجوان صرف مظاہروں کے لیے نہیں‘

لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر میں سپورٹس اور فوڈ فیسٹول کے دوران ’چاپ‘ نامی بلوچی رقص میں مردوں کے ساتھ بلوچ طالب علم خواتین نے بھی حصہ لیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے ایک طرف اگر اس پر اعتراض کیا تو دوسری طرف شدید حمایت بھی سامنے آئی۔

ویڈیو وائرل ہونے اور تنقید کے بعد شریک لڑکیوں کو انتہائی ذہنی کوفت کا سامنا ہے (تصویر:سکرین گریب،  ورینا مینگل ٹوئٹر)
 

حال ہی میں لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچرواٹر اینڈ میرین سائنسز میں سپورٹس اور فوڈ فیسٹول کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایک ثقافتی شو کے دوران ’چاپ‘ نامی بلوچی رقص میں مردوں اور چند بلوچ لڑکیوں نے بھی حصہ لیا۔ 

 یہ ویڈیو جب وائرل ہوئی تو اس پر سوشل میڈیا پر لوگوں نے اعتراضات اٹھانے شروع کیے کہ بلوچ خواتین کا سرعام رقص کرنا ہماری روایات کے خلاف ہے۔  بعض کا کہنا تھا کہ نئی بلوچ نسل صرف احتجاج کے لیے نہیں بنی اس کو خوشی کا اظہار بھی کسی طرح کرنا چاہیے۔

یہ ویڈیو مسلسل سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جارہی ہے۔ اب ایک طبقہ اس کے حق میں ہے اور دوسرا اس کی مخالفت کررہا ہے۔ 

 اس بحث کو علمی سطح پر لے جانے کے لیے راجی بلوچ ویمن فورم کے پلیٹ فارم سے ایک ٹوئٹر سپیس کا اہتمام بھی کیا گیا۔ جس میں مرد اور خواتین نے اس پر اپنےخیالات کا اظہار کیا۔ 

بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے کام کرنے والی راجی بلوچ ویمن فورم کی چیئرپرسن پروین ناز سمجھتی ہیں کہ چاپ ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔ بلوچ خواتین نے اس میں شرکت کرکے تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔ 

 پروین ناز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’چونکہ ہمارا سماج اس وقت پدرسری ہے اور یہاں پر مردوں کا غلبہ ہے۔ جو خواتین کو اپنے انداز میں دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘ 

 انہوں نے بتایا کہ بلوچ خواتین کا چاپ میں حصہ لینا اس آئینے کو توڑنے کی کوشش ہے۔ جس میں ان کو ایسی رسموں سے دوراور گھر کی چاردیواری میں بند دکھایا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی کا عنصر ہے۔ اس کا روکا نہ گیا تو اس کے مثبت اثرات بھی ملیں گے۔ 

 پروین سے جب سوال کیا گیا کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کیا ان لڑکیوں کو مشکلا ت کا سامنا ہے۔ جس پر انہوں نے بتایا کہ حالات ایسے ہی ہیں۔ ان کو ویڈیو کے وائرل ہونے اور تنقید کے بعد انتہائی ذہنی کوفت کا سامنا ہے۔ 

 انہوں نے بتایا: ’جس معاشرے میں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے۔ وہاں اس طرح کی کسی محفل میں حصہ لینا کتنی ہمت کا کام ہے۔ اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔‘

پروین کہتی ہیں کہ ہمارے سماج میں عورت کو لباس اور دوسری قیود کےساتھ زندگی گزارنے کا پابند کیا گیا ہے۔ اگر اس نے دوپٹہ نہیں پہنا ہے تو اس پر تنقید کی جاتی ہے۔ لیکن مردوں کو کھلی چھٹی حاصل ہے۔  

انہوں نے کہا کہ چونکہ چاپ ایک روایتی چیز ہے اور یہ رقص نہیں بلکہ ڈھول کی تھاپ پر ایک انداز میں آگے پیچھے جاکر ہاتھوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرایا جاتا ہے۔ جب کہ اگر رقص کو دیکھا جائے تو وہ بالکل الگ چیز ہے۔ 

  وہ مزید کہتی ہیں کہ چاپ ہماری ثقافت اور تاریخ سے چلی آرہی ہے اور جو بھی اس کا حصہ ہے۔ اس کو اس چاپ سے لگاؤ ضرور رہتا ہے۔ یہ ہمارے شادی بیاہ کا لازمی جز ہے۔ جس میں خواتین بھی حصہ لیتی ہیں۔ 

  پروین کہتی ہیں: ’ یہاں معاملہ کچھ اور اس وجہ سے ہے کہ خواتین کسی اوپن جگہ اور مردوں کےساتھ چاپ کا حصہ بنی ہیں۔ جس پر نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی تنقید کررہی ہیں۔‘

  وہ بتاتی ہیں کہ جب ہم نے فورم کے ذریعے بلوچ خواتین کے مسائل اورحقوق کی جدوجہد شروع کی تو اس دوران بھی ہمیں مردوں کی طرف سے رکاوٹوں کا سامنا رہا۔ جب کہ خواتین بھی اس میں شامل ہونے سے گھبراتی تھیں۔ 

 انہوں نے کہا کہ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ مرد اپنی اہلیہ کا نام خاندان کے قریبی لوگوں کے علاوہ کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتے اور اگر کسی بلوچ لڑکی نے لباس میں جدت کو شامل کیا تواس پر تنقید ہوتی ہے۔ 

پروین سمجھتی ہیں کہ یہاں اگر دیکھا جائے تو مسئلہ شناخت کا ہے اور اگر عورت کا نام سامنے آئے گا تو اس کی شناخت بنے گی اور اس کو لوگ جان جائیں گے۔ لیکن اس وقت ہمیں خواتین کو حقوق کے بارے میں آگاہی دینے کی ضرورت ہے، ان کو حاصل کرنے میں شاید وقت لگے۔ 

  ادھر لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچرواٹر اینڈ میرین سائنسز کے وائس چانسلر کی پرسنل اسسٹنٹ ناز بارکزئی سمجھتی ہیں کہ بلوچ خواتین کےچاپ میں حصہ لینے کا عمل ایک طرح سے بہتر ہوا ہے، جس پرایک بحث چل  پڑی ہے۔ 

نازبارکزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بلوچ ثقافت ایک ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے۔ جو ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ سماج میں جو جنس کے نام سے تقسیم کا عمل ہے وہ اس نقطے سے کم ہوجائے گی۔ 

 خواتین چاپ میں کس طرح شامل ہوں؟

ناز چونکہ اسی یونیورسٹی میں ملازمت کرتی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ اس کی ابتدا ایسے ہوئی کہ یونیورسٹی میں سپورٹس اور فوڈ گالہ رکھا گیا تھا۔ جس میں ثقافتی پروگرام بھی شامل تھے۔ لڑکوں نے کہا کہ جس طرح پروگرام میں حصہ لے کر انجوائے کرتے ہیں اسی طرح لڑکیوں کا بھی حق ہے۔ ان کا دل بھی چاہتا ہے کہ وہ بھی شامل ہوں۔ 

 انہوں نے بتایا کہ مجھے چاپ میں شرکت کرنے والی بچیوں نے بتایا کہ انہوں نے خود اس میں حصہ لینے کی درخواست کی اور کہا کہ وہ بھی لڑکوں کے ساتھ مل کر چاپ کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن میڈم نے ان کی درخواست رد کردی تھی۔ 

 بعد میں لڑکوں نے آکر یہی درخواست کی کہ لڑکیوں کو بھی حصہ لینےکی اجازت دی جائے۔ ناز کہتی ہیں کہ انتظامیہ کا مقصد یہ تھا کہ لڑکیوں کو بھی وہی جگہ دی جائے تو لڑکوں کو ایسی جگہوں پر ملتی ہے۔ 

انہوں نےبتایا کہ یونیورسٹی کے بعض فیکلٹی ممبران نے بتایا کہ پروگرام کے ابتدا سے آخر تک سب کچھ بہتر اور منظم طریقے سے انجام پایا لیکن جب ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ردعمل اور لوگوں کی تنقید سے بچیاں ذہنی کوفت کا شکار ہیں۔ 

 ناز کہتی ہیں: ’ہاں اس پر تنقید صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی کررہی ہیں۔ جو زیادہ تکلیف دہ ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو اس قسم کے ردعمل کا سامنے آنے کا اندازہ نہیں تھا۔ لیکن میں کہتی ہوں کہ جو بھی اچھا ہوا۔ بچیوں کا اقدام درست تھا۔‘

  وہ بتاتی ہیں: ’اس سے اب سوشل میڈٰیا پر بحث چھڑ گئی ہے کہ جو بہت سے ایسے دانشور تھے جو کہتے ہیں کہ وہ خواتین کی حامی ہیں ان کی اصلیت بھی کھل کر سامنے آئے گی۔‘

ان کا کہنا تھا: ’بلوچ سماج کی اپنی ثقافت ہے جس طرح دنیا کے اقوام کے ثقافت میں کچھ اچھی اور کچھ بری چیزیں ہیں اس طرح ہمارے ہاں بھی کچھ برا بھی ہے۔‘ 

ادھر معروف سکالر بدل خان بلوچ کہتے ہیں کہ خواتین کے چاپ کی ویڈیو کو دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ انہوں نے ایک ممنوعہ چیز کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔  

بدل خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’یہ ہماری ثقافت کا حصہ ہے اور ہم نے تاریخ میں دیکھا کہ پہلے ہمارے بلوچ علاقوں میں چاپ میں مرد اور خواتین دونوں حصہ لیتی تھیں لیکن وہ الگ الگ ہوتے تھے۔ ‘

  انہوں نے کہا: ’جو اس کوغیرت کا نام دے رہے ہیں۔ ان کی غیرت اس وقت کہاں ہوتی ہے جب گھروں میں خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے۔ کم عمری میں شادی کردی جاتی ہے۔ ‘

انہوں نے کہا کہ چاپ کی روایت کو جاری رکھنا چاہیے اور معاشرے کو ترقی کی طرف جانے میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے ۔ 

 معروف لکھاری وحید ظہیر کہتے ہیں کہ جب انسان خوش ہوتا ہے تو اس کا اظہار مختلف انداز میں کرتا ہے اور اسی طرح چاپ بھی بلوچ سماج کا حصہ ہے۔ 

 وحید ظہیر نے بتایا کہ بلوچ چونکہ جنگجو بھی رہ چکے ہیں، اگر کبھی وہ کسی محاذ پر کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کا اظہار اسی طرح چاپ کی شکل میں کرتا تھا۔ 

وحید نے بتایا: ’تاریخ کے ادوار میں ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے جب کسی بڑے خاندان میں خوشی کا موقع ہوتا تو ڈھول بجانے والے کو خواتین کے لیے طلب کیا جاتا تھا۔ لیکن اس دوران اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی تھی تاکہ وہ خواتین کو نہ دیکھ سکے۔‘ 

  انہوں نے بتایا کہ جس طرح چاپ ارتقائی عمل کے ساتھ مختلف انداز اور طریقوں میں ڈھل چکا ہے۔  اس طرح وہ روایت بھی ختم ہوگئی اور بعد میں ڈھول والا بلاخوف و خطر خواتین کے چاپ کے سلسلے میں بھی چلا جاتا تھا۔ 

انہوں نے بتایا کہ اس میں چاپ  کرنے والوں کی تعداد کی کوئی قید نہیں بلکہ جتنا بڑا میدان ہوگا اتنی تعداد میں لوگ اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔  

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اس کی مخصوص قسمیں ہیں۔ جن میں دو چاپی اور سہ چاپی مشہور ہیں۔ اس میں صرف دو چاپی میں خواتین شامل ہوسکتی ہیں۔ باقی  چونکہ تیز اور اس میں ہاتھوں اور پیروں کے آگے پیچھے کرنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ 

  وحید ظہیر نے بتایا کہ اس کے علاوہ چاپ کو مختلف علاقوں میں قبیلوں کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ جس طرح بزدار قبیلے نے اس کو جھومر کا نا م دیا ہے۔ ’مینگلی‘ بھی ایک قسم ہے۔ اس میں بعض لوگ نعرے بھی لگاتے ہیں۔ 

 انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں کسی زمانے میں چاپ کرنے والے گروپوں میں مقابلے ہوتے تھے کہ ان میں سے کون جلدی ڈھول بجانےوالے کو تھکا دے گا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 اس ویڈیو پر بلوچستان کے معروف لکھاری اور دانشور عابد میر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری کسی یونیورسٹی کی تاریخ میں اس سے اچھا، اس سے زیادہ معتبر، اس سے زیادہ سوبر ویڈیو شاید ہی کبھی کسی نے دیکھی ہو۔‘
عابد اپنے فیس بک پر لکھتے ہیں کہ اس میں وقار ہے، حسن ہے، نزاکت ہے، محبت ہے۔ یہ بلوچ سیکولر اور ترقی پسند سماج کا نکھرا ہوا حسین چہرہ ہے۔  ’ایک عرصے سے ہم اپنے نوجوانوں کی احتجاجی مظاہروں کی تصویریں اور وڈیوز دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ‘ 
’ہماری نوجوان نسل محض احتجاجی مظاہروں میں ساتھ بیٹھنے کو تو نہیں جنمی تھی، یہ ایک زندہ معاشرے کی جوان نسل ہے۔ اسے دکھ درد کی طرح ہنسی خوشی میں بھی ساتھ ہونا چاہیے، رقص و مستی میں بھی ساتھ ہونا چاہیے... پورے وقار کے ساتھ، باہمی احترام کے ساتھ۔‘
’یونیورسٹیاں ایسی ہی شاندار  روایات کا سرچشمہ ہوتی ہیں۔ ہمارے رجعتی اداروں کے لیے لسبیلہ یونیورسٹی کے طلبا نے ایک پروقار و شاندار مثال قائم کر دی ہے۔ ‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان