’دس ہزار کے استعمال شدہ موبائل پر 32 ہزار روپے ٹیکس‘

ایف بی آر کی جانب سے موبائل فونز پر دگنی ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے پر اس کاروبار سے جڑے دکان دار اور خریدار پریشان۔

پشاور میں دو مارچ، 2013 کو لی گئی اس تصویر میں خریدار دکان پر فون دیکھ رہا ہے۔ دکان داروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے سے ان کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا (اے ایف پی فائل فوٹو)

پشاور کے سلیم اللہ نے ایک مہینہ پہلے آئی فون ایکس خریدا جو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی( پی ٹی اے) سے رجسٹر نہیں تھا۔

وہ فون کا ٹیکس (46 ہزار روپے) ادا کرنے کے لیے پیسے جمع کر رہے تھے کہ حکومت نے ٹیکس بڑھا کر دوگنا کردیا جسے ادا کرنا سلیم اللہ کو ممکن نہیں لگ رہا۔

سلیم اللہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے موبائل فونز پر ہفتے کو ریگولیٹری ڈیوٹی تقریباً دوگنی کرنے پر پریشان ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ موبائل فون خریدنے کے لیے انہوں نے اپنی تنخواہ سے تھوڑی تھوڑی رقم بچائی تھی لیکن اس پر ڈبل ٹیکس دینا ان کے بس کی بات نہیں۔

سلیم کا کہنا ہے کہ عجیب بات ہے کہ ’میں نے اپنا فون 72ہزار روپے پر خریدا لیکن اب اس پر75 ہزار روپے ٹیکس لاگو ہے ۔۔۔ جو حکومت کی طرف سے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔

’شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پر موبائل فون کی قیمت سے زیادہ اس پر ٹیکس ہے۔‘

دل جان آفریدی پشاور میں آئی فونز کے بڑے ڈیلرز میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے سلیم کی گفتگو سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے سے متوسط طبقہ زیادہ متاثر ہوگا کیونکہ یہی طبقہ زیادہ تر استعمال شدہ موبائل خریدتا ہے جس کی قیمت قدرے کم ہوتی ہے۔

دل جان نے بتایا کہ آئی فون کے استعمال شدہ سیون پلس ماڈل کی قیمت آج کل تقریباً 40 ہزارروپے ہے۔ نئے احکامات کے بعد سیون پلس موبائل پر ٹیکس تقریباً 32 ہزار روپے بنتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ سیون پلس کی قیمت 10 ہزار روپے ہے اور باقی اس کے اوپر ٹیکس عائد ہے۔

دل جان نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں موبائل امپورٹر کے لیے ایک موبائل سیٹ پر ٹیکس تقریباً 28 ہزار روپے ہے لیکن ایک عام شہری سے، جو اپنے لیے یا کسی رشتہ دار کے لیے موبائل سیٹ باہر سے لے کر آتا ہے ٹیکس 80 ہزار تک ہے۔

انہوں نے بتایا  کہ ان کی یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس ٹیکس میں اضافے پر حکومتی نمائندوں کے ساتھ بات کریں گے کیونکہ اس سے ان کے کاروبار پر اثر پڑ رہا ہے۔

’عموماً میری دکان پر دن میں 200 تک گاہک آتے ہیں جس میں سے تقریباً 20 لوگ خریداری کرتے ہیں لیکن کل (جمعے) کو جب سے ٹیکس میں اضافہ ہوا ہے گاہک بالکل نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘

کس موبائل پر کتنا ٹیکس بڑھا؟

ٹیکس میں اضافے کے حوالے سے جاری سرکلر میں دو قسم کے لوگوں کے لیے الگ الگ ٹیکس رکھے گئے ہیں۔ اس میں ایک وہ ہیں جو بیرون ملک سے اپنے ساتھ موبائل فون لے کر آتے ہیں۔ وہ اپنے پاسپورٹ پر دو مہینوں تک موبائل فون کو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ رجسٹر کر سکتے ہیں جبکہ دوسری رجسٹریشن قومی شناختی کارڈ کے اوپر ہے۔

پاسپورٹ پر موبائل فون رجسٹر کرنے کا ٹیکس شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ کرنے سے قدرے کم ہے۔

ایف بی آر کے موبائل فون ڈیلرز کو جاری سرکلر کے مطابق پاسپورٹ پر 30 ڈالرز تک قیمت والے موبائل فون پر 430 روپے (شناختی کارڈ پر 550 روپے) جبکہ 30 سے 100 ڈالرز تک تین ہزار 200 روپے (شناختی کارڈ  پر 4323 روپے ) ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوگی۔

سرکل کے مطابق  100سے 200 ڈالرز تک  نو ہزار800  روپے (شناختی کارڈ پر 11561 روپے) 200  ڈالرز سے زائد قیمت والے موبائل فون پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے ساتھ خریدار کو سیلز ٹیکس بھی دینا ہوگا۔

 200 سے 350 ڈالرز تک 12 ہزار 200 روپے (شناختی کارڈ پر 14661) ریگولیٹری ڈیوٹی اور 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔

 اس طرح 350 سے 500 ڈالرز تک17ہزار 800 روپے (شناختی کارڈ پر 23420 روپے) ریگولیٹری ڈیوٹی اور 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔

500 سے زائد قیمت پر17فیصد سیلز ٹیکس کے ساتھ 27 ہزار 600 روپے (شناختی کارڈ پر 37007 روپے) ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوگی۔

دل جان سے جب پوچھا گیا کہ نئے ٹیکسز کے  بعد اب آئی فون موبائل پر ٹیکس کتنا ہوگا، تو ان کا کہنا تھا کہ آئی فون ایکس میکس اور اوپر کے تمام موبائل فون 500 ڈالرز سے زائد قیمتوں والے ہیں، تو اس پر اب پاسپورٹ پر تقریباً 63 ہزار اور شناختی کارڈ پر تقریباً 80 ہزار روپے ٹیکس بنتا ہے جو پہلے بالترتیب 36 ہزار اور 46 ہزار روپے تھا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے دسمبر 2021 کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں 18 کروڑ سےزائد سبسکرابئر (جن کے نام سم رجسٹرڈ ہوں ) موجود ہیں جس میں سے 10 کروڑ سے زائد تھری اور فور جی استعمال کرتے ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق موبائل فونز پر ٹیکس لگانے کے بعد ان کی سمگلنگ بہت حد تک کنٹرول ہوگئی ہے۔

ایف بی آر کی 2020 کے ایک رپورٹ کے مطابق جب سے موبائل رجسٹریشن کا سلسلہ شروع  ہوا ہے موبائل کی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق 2019 میں موبائل فونز کی کمرشل امپورٹ دو کروڑ 80 لاکھ سے زائد تھی جبکہ 2018 میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 70لاکھ سے زائد موبائل  درآمد کیے گئے جو 2019میں تقریباً 64 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

ایف بی آر کی اس رپورٹ کے مطابق موبائل فونز پر ٹیکس عائد کرنے کے بعد مقامی سطح پر موبائل مینوفیکچرنگ میں بھی اضافہ ہوا۔

ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 میں مقامی سطح پر پاکستان میں موبائل فونزکے50لاکھ سے زائد یونٹس بنائے گئے جو 2019 میں بڑھ کر ایک کروڑ سے زائد ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ موبائل پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنا ہے کیونکہ مقامی سطح پر بننے والے موبائل سیٹ پر یہ ڈیوٹی عائد نہیں۔

کون سا موبائل زیادہ استعمال ہوتا ہے؟

ایف بی آر کے 2019 میں جاری اعداد شمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2019 تک سب سے زیادہ تقریباً 44 لاکھ وہ موبائل فون درآمد کیے گئے جن کی قیمت 30 ڈالرز سے کم تھی، جو تمام درآمد شدہ موبائل فونز کا 48 فیصد بنتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح 30 ڈالرز سے ایک سو ڈالرز تک کی قیمت کے درمیان 37 لاکھ سے زائد، سو سے دو سو ڈالرز کے درمیان کی قیمت کے نو لاکھ تک، 350 ڈالرز سے 500 ڈالرز تک کے 2897 جبکہ 500 ڈالرز سے زائد قیمت کے 20 ہزار سے زائد یونٹس درآمد کیے گئے۔

استعمال شدہ موبائل فونز کے صارفین کہتے ہیں کہ ان فونز کی اصل قیمت سے زیادہ ان پر ٹیکس ہے۔

اس حوالے سے ایف بی آر کے ترجمان عدنان اکرم باجوہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

پشاور میں موبائل فونز کا کاروبار کرنے والے محمد نبی نے بتایا کہ پہلے سے موبائل فون پر ٹیکس عائد کرنے سے کاروبار ٹھپ ہو گیا لیکن اب ٹیکس میں اضافے سے یہ کاروبار مفلوج ہو جائے گا کیونکہ ان کے یہاں زیادہ تر متوسط طبقے کے لوگ استعمال شدہ سیٹ خریدتے ہیں۔

نبی نے بتایا، ’ہمارے پاس باہر سے منگوائے گئے استعمال زدہ آئی فون کے سینکڑوں سیٹ پڑے ہیں جو دھرے رہ جائیں گے کیونکہ مجھے نہیں لگتا خریدار ڈبل ٹیکس پر آئی فون موبائل خریدے گا۔‘

مقامی سطح پر موبائل فون مینو فکچرنگ کے حوالے سے نبی نے بتایا کہ ان فونز کا معیاراچھا نہیں ہوتا لہٰذا حکومت کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ملک میں اچھی کمپنیوں کو موقع دے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت