کیمپ میں کرونا اور بھنورے کی بیوی

افغانستان سے جان بچا کر نکلنے والے پناہ گزین ایک امریکی کیمپ میں عارضی طور پر مقیم ہیں کہ اچانک کرونا وائرس کے نرغے میں آ گئے۔

17 دسمبر کی اس تصویر میں ایک افغان  خاتون فورٹ پِکٹ  میں  عطیہ شدہ کپڑوں میں کپڑے تلاش کر رہی ہیں۔   ورجینیا میں  قائم فورٹ پِکٹ   افغان تارکین وطن کے لیے عارضی طور پر رہائشی سینٹر بنایا گیا ہے (اے ایف پی)

کیمپ میں سُن گُن کا موسم عروج پہ ہے۔ ہر روز کرونا وائرس کے متعلق کوئی نہ کوئی نئی خبر پھیل کر تشویش بڑھا دیتی ہے۔ ماسک موئسچرائزر کی طرح ضروری ہو چکا ہے۔ میئر سیل، کچن، کلاس روم، لائبریری، ڈے کیئر، ملٹری سٹور اور کلینک کہیں بھی بنا ماسک کے داخلے کی اجازت نہیں۔ ہر چار قدم بعد فوجی ماسک اور سینٹائزر بانٹ رہے ہوتے ہیں۔

بچے جب بھی باہر جاتے ہیں واپسی پہ ان کی جیب سے سینٹائزر برآمد ہوتا ہے۔ اب تک چھوٹی بڑی تقریباً چھ سات بوتلیں ہینڈ سینٹائزر کی جمع ہو چکی ہیں۔ اففف میں ان کا کیا کروں گی؟ خدا کے لیے مزید سینٹائزر مت لاؤ۔ بچے مسکین سی صورت بنا کر کہتے ہیں، ’وہ زبردستی دیتے ہیں ہم مانگتے تھوڑی ہیں۔‘

یہ بھی سوچنے والی بات ہے چاکلیٹ تھوڑی ہے کہ خوشی خوشی لے لیں گے۔ ہر شخص نقاب پوش ہوچکا ہے حتیٰ کہ بچے بھی ماسک پہنے کھیل رہے ہوتے ہیں۔

سوال ہے کیمپ میں کرونا آیا کہاں سے؟ ہم تو پچھلے دو ماہ سے یہیں ڈیرے ڈالے بیٹھے ہیں اور کئی تو ایسے ہیں جنہیں چار ماہ ہو چکے ہیں۔ کیمپ اب انہیں گھر جیسا لگنے لگا ہے۔ یقیناً رضاکار یا این جی اوز کے ورکرز کی وجہ سے وائرس پھیلا یا صفائی کرنے والے لے آئے۔

جو بھی ہو سنا یہی ہے کہ 17 خاندان متاثر ہو چکے ہیں۔ سبھی کو قرنطینہ کر دیا گیا۔ انہی میں شاعر بھنورے کی بیوی بھی شامل ہے۔ اس کے بیٹے کو برف میں کھیل کھیل کر زکام ہو گیا۔ باپ تھا پریشان ہوا، رات کو بھاگا بھاگا کلینک جا پہنچا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شک کی بنیاد پہ اس کی بیوی اور تین بچوں کو دور ایک کنٹینر میں قرنطینہ کر دیا گیا۔

بھنورے کے باقی چار بچے اس کے پاس ہیں اور بیوی، تین بچوں سمیت دور ہو گئی۔ بھنورے کی ساری شاعری جاتی رہی وہ اب سر پکڑے بینچ پہ بیٹھا اس وقت کو کوستا ہے جب منع کرنے کے باوجود وہ کلینک جا پہنچا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لوگ اپنی کھانسی اور زکام کو راز کی طرح ایک دوسرے سے چھپانے لگے ہیں۔ کلینک میں ایمرجنسی نافذ ہو چکی ہے۔ میری پڑوسن رات بھر دانت کے درد کی وجہ سے بےچین رہی۔ میرے پاس دوا لینے آئی مگر میرے پاس درد مٹانے کی گولیاں ختم ہو چکی تھیں اور احتیاطاً میں کلینک جانے سے اجتناب کر رہی تھی ایسا نہ ہو جسم درد کی دوا لینے جاؤں اور کرونا گلے پڑ جائے۔

شاید وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے رات بھر ہڈیوں میں ایسا درد اٹھتا ہے جیسے کوئی ننھے منے ہتھوڑے سے ہڈیوں کو کوٹ رہا ہو۔ میں نے پڑوسن سے کہا، ’صبر کرو، درد معمولی ہے تو کلینک جانے کی ضرورت نہیں۔‘

مگر شاید اس کی تکلیف زیادہ تھی۔ دوپہر کو وہ کلینک سے واپس آئی تو برہم تھی۔ کہنے لگی، ’دوا لینے گئی تو کلینک میں داخل نہیں ہونے دیا۔ باہر سے نرس نے کھڑے کھڑے پوچھا ’کتنے بٹّہ کتنے درد ہے؟‘ تو مجھے سمجھ نہ آئی اسی بٹّے کی وجہ سے تو حساب پسند نہیں تھا۔ خیر پھر نرس نے کہا، ’اپنے درد کو نمبر دو۔ دس میں سے کتنا درد ہے؟‘ میں نے فوراً جواب دیا، ’ایک نمبر کا درد ہے۔‘ نرس منہ بنا کر بولی، ’یہ تو قابل برداشت ہے، خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ کلینک مت آؤ یہ بہت آلودہ ہو چکا ہے۔‘

یوں میری پڑوسن منہ بسورتی ایک نمبر کا درد لیے واپس آگئی۔

میں نے کہا، ’ارے، تم نے غلط جواب دیا تمھیں سات، آٹھ یا نو کہنا چاہیے تھا۔‘

وہ بھنویں سکیڑ کر بولی، ’کیوں؟ جب مجھے ایک نمبر کا کافر درد تھا تو سات، آٹھ کیوں کرتی۔‘

اب میں اسے کیسے سمجھاتی یہ امریکہ ہے یہاں درد کی بھی ریٹنگ ہوتی ہے۔ افغانستان میں ہر درد کا ایک نام ہوا کرتا تھا۔ جیسے کہ بہت درد، ظالم درد، کافر درد، شدید درد اور آخر میں ’اف میں درد سے مر رہا ہوں!‘ اس جملے سے اندازہ ہو جاتا تھا کہ درد دس کے ہندسے کے پاس پہنچ چکا ہے۔ مگر سوچتی ہوں ایک نمبر تو چھوڑو مگر کیا دو نمبر کے درد کا دنیا میں کہیں مداوا ہوتا ہے کہ نہیں؟

بھنورے کی دس سالہ بیٹی صبا گل کے بال بکھرے ہوئے، الٹی جیکٹ پہنے بینچ پہ خاموش بیٹھی تھی۔ میں نے اشارہ کیا جیکٹ الٹی ہے۔ اس نے چیک کیا اور پھر مسکرانے لگی۔ میرے پاس آئی اور کہنے لگی، ’ہماری ماں کو دوسرا گھر مل گیا ہے۔‘

میں نے کہا، ’جلدی آ جائے گی پریشان مت ہونا۔‘ ایک چھوٹی سی بچی کے لیے یہ جھوٹی تسلی کافی تھی۔ وہ پھر مسکرانے لگی۔ ہم باتیں کرتے کرتے سڑک پہ واک کرنے لگے۔ قسمت بھی کبھی کبھی پاؤں پہ ایسی کلہاڑی مارتی ہے کہ گھائل ہونے کے بعد پتہ چلتا ہے ہم نے کتنا نقصان کیا ہے۔ بھنورے کا سارا سامان پیک تھا تین دن بعد اس کی فلوریڈا کے لیے فلائٹ تھی کہ یہ معاملہ پیش آ گیا۔

اس کی بیوی سے میری اچھی علیک سلیک تھی، میں اس سے ملنے گئی کہ پھر نجانے کب ملاقات ہو۔ وہ فلوریڈا کو پلوریڈا کہہ رہی تھی اور پریشان تھی کہ ’کیلی پورنیا کیوں نہ ملا۔ سارے لوگ کیلی پورنیا جا رہے ہیں ہم پلوریڈا؟‘

میں نے کہا، ’فکر مت کرو، میں بہت سے لوگوں کو میں جانتی ہوں جن کے نام کا قرعہ فلوریڈا کے لیے نکلا ہے۔ وہاں تم اکیلے نہیں ہو گے اور بھی بہت سے افغان مل جائیں گے۔ میں نے اسے بتایا کہ فلوریڈا بہت خوبصورت جگہ ہے تینوں طرف سمندر ہو گا۔ بیچ ہی بیچ۔‘

وہ حیران بھی تھی اور پریشان بھی۔ ایک پہاڑی علاقے کی خاتون جس نے کبھی سمندر نہیں دیکھا اس بات سے خوفزدہ تھی کہ بارش میں سمندر گھر کے اندر داخل ہو گیا تو کیا کریں گے؟ وہ قسمت کی ماری بیچوں بیچ قرنطینہ ہو گئی جہاں اس کے پاس فون بھی نہیں ہے کہ بچوں سے رابطہ کرے۔

پچھلے دو دنوں سے میرے فون پہ بار بار نوٹیفیکیشن آتا ہے کہ کرونا کی تیسری ڈوز لگوا لیں۔ مجھے کلینک جانے سے ڈر لگتا ہے، زندگی رہی تو کیمپ سے نکل کر ان کا یہ ارمان بھی پورا کر دوں گی۔

آج کل تو میں اپنا بوریا بستر باندھنے میں مصروف ہوں۔ مجھے تو عاشقوں کی ریاست ورجینیا ہی پسند ہے۔ اس کا نام شاعرانہ اور آب و ہوا کابل جیسی ہے مگر میں جانتی ہوں مجھے یہاں سے دور جانا ہو گا جہاں کھیتوں میں برف کی فصل لہلہا رہی ہے۔

مسافری دلگیر است۔۔۔۔

 

ثروت نجیب 2021 میں افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد وہاں سے نکل کر امریکہ چلی گئی تھیں جہاں وہ ایک پناہ گزین کیمپ میں دوسرے افغانوں کے ساتھ مقیم ہیں۔ اس سے پہلے وہ اس بارے میں کئی کہانیاں پیش کر چکی ہیں جو یہاں پڑھی جا سکتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ