غریب غریب تر کیوں ہو رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق ہر نیا بحران کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع لے کر آتا ہے، کرونا کے دوران بھی کاروباری طبقے نے لوگوں کی جیب سے اربوں روپے نکال لیے ہیں۔

کراچی میں 11 جون 2011    کو مفت کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے۔ کرونا بحران کے دوران غربت میں بےحد اضافہ ہوا ہے (فائل فوٹو:اے ایف پی) 

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں آپ مارکیٹ میں کوئی بھی نئی کار خریدنے جائیں تو پیسے آپ سے ایڈوانس لے لیے جاتے ہیں مگر کار کی ڈیلیوری دو ماہ سے دس ماہ کے بعد ملتی ہے۔ گذشتہ تین سالوں میں پاکستان میں کئی آٹو کمپنیوں نے ایس یو وی گاڑیاں متعارف کروائی ہیں، جن کی قیمتیں 45 لاکھ سے دو کروڑ کے درمیان ہیں مگر پھر بھی گاڑیاں نقد رقم وصول کرنے کے باوجود نہیں ملتیں۔

اس کے مقابلے میں باہر کے ملکوں میں یہی کمپنیاں اپنی گاڑیاں بیچنے کے لیے بینکوں کے ساتھ آسان شرائط پر لیز ایگریمنٹ کرتی ہیں اور خریداروں کو خود بھی آسان شرائط پر قرضے فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باہر کے ممالک میں گاڑی خریدنا اور رکھنا کچھ مشکل نہیں، مگر پاکستان میں الٹ حساب ہے۔ لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ چھ ملکی کمپنیاں دھڑا دھڑ گاڑیاں بنا رہی ہیں مگر پھر بھی مارکیٹ میں ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کا فرق اتنا زیادہ ہے کہ گاڑی خریدنے کے لیے آپ کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب اسی ملک میں ہر دوسرا پاکستانی مہنگائی کا رونا رو رہا ہے۔ غیر سرکاری ادارے کہتے ہیں کہ کرونا کے دوران پاکستان میں غربت کی شرح 22 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

پھر مسئلہ یہ ہے کہ حالیہ کرونا کے بحران میں پاکستان میں کاروباری طبقے اور سرمایہ داروں نے قوم کی جیب سے اربوں کھربوں روپے نکال لیے ہیں کیونکہ ہر کاروباری کے لیے ہر نیا بحران اپنا کاروبار دگنا کرنے کے مواقع لے کر آتا ہے۔

1873 میں جب امریکی معیشت بدترین کساد بازاری سے گزر رہی تھی۔ کئی بینک اور ریلوے کمپنیاں دیوالیہ ہو چکی تھیں اور سٹاک مارکیٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا تو ایک امریکی سرمایہ دار روک فیلر کے اثاثے دگنے تگنے ہو رہے تھے۔ اس نے اپنے مقابلے کی کئی کمپنیاں خرید لی تھیں۔ اس زمانے میں جب تیل پانی سے سستا ہو چکا تھا تو وہ آئل ریفائنریاں خرید رہا تھا۔ حتی ٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ روک فیلر کا کاریں بنانے والی انڈسٹری پر مکمل کنٹرول ہوگیا۔

یہی چاندی آج کی دنیا میں ادویات سے لے کر آن لائن کاروبار کرنے والی کمپنیوں کی ہوئی ہے۔ درجنوں کاروبار ایسے ہیں جن کی آمدنی کرونا کے ان دو سالوں میں کئی گنا بڑھی ہے۔

ممتاز برطانوی ادارے آکسفیم نے 2022 کی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں ارتکاز دولت کی ناہمواریاں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ کرونا کے دوران دنیا کی 99 فیصد آبادی کی آمدنی کم ہو گئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں دنیا کے دس امیر ترین افراد کی آمدنی میں دگنا اضافہ ہو گیا ہے۔ دنیا میں مزید 16 کروڑ افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔ غربت کی وجہ سے ہر روز 21 ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

گذشتہ سال کے دوران صرف خواتین کی کمائی میں 800 ارب ڈالر کی کمی نوٹ کی گئی ہے جبکہ 2019 کے مقابلے میں کام کرنے والی خواتین میں ایک کروڑ 30 لاکھ کی کمی ہوئی ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان صنفی فرق جو کرونا سے پہلے 99 سال کا تھا اب وہ بڑھ کر 135 سال کا ہو گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 50 فیصد گھرانوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ بیماریوں کا علاج کرا سکیں۔ ایشیا کے ایک فیصد امیر ترین افراد کے پاس ایشیا کے 90 فیصد غریب لوگوں سے زیادہ پیسہ ہے۔ رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ایشیا کے کروڑوں اور اربوں پتی افراد پر اگر دو سے پانچ فیصد ویلتھ ٹیکس لگایا جائے تو اس طرح 776 ارب ڈالر کی رقم اکٹھی ہو سکتی ہے جس سے خطے کی 60 فیصد آبادی کی صحت کی سہولتیں بہتر بنائی جا سکتی ہیں۔

پاکستان میں پانچ فیصد امیر لوگوں کے پاس ملک کے 95 فیصد لوگوں سے زیادہ پیسہ ہے، اس لیے ڈائریکٹ ٹیکس کو بڑھایا جائے تاکہ یہ رقم غریب کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے۔

کیا پاکستان میں ویلتھ ٹیکس لاگو کیا جا سکتا ہے؟ اس حوالے سے ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’انکم ٹیکس کے بعد ویلتھ ٹیکس کا جواز نہیں رہ جاتا۔ مارکیٹ اکانومی کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے امیر امیر تر ہی ہوتا ہے۔ کمیونزم کے علاوہ فلاحی ریاست کا کوئی تصور نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں پانچ فیصد امیر لوگوں کے پاس ملک کے 95 فیصد لوگوں سے زیادہ پیسہ ہے، اس لیے ڈائریکٹ ٹیکس کو بڑھایا جائے تاکہ یہ رقم غریب کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 ممتاز ماہر معیشت اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب حکومتیں سیٹھوں کو سرکاری خزانے سے مراعات دیں گی تو پھر دولت امیر لوگوں کے پاس ہی جائے گی۔ ہر سال سرکاری خزانے سے امیر لوگوں کو تقریباً ڈیڑھ کھرب روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے۔ حکومت نے بڑے سیٹھوں کو خود مناپلی (اجارہ داری) دے رکھی ہے اس لیے انہیں آزادی ہے کہ وہ جب چاہیں جتنا چاہیں عوام کی جیبوں سے پیسہ نکال لیں۔

’حکومت چاہتی ہی نہیں ہے کہ اس ملک میں معیشت ترقی کرے یا پھر لوگوں میں ارتکاز دولت کی ناہمواریاں کم ہوں، کیونکہ جب کوئی عام آدمی کاروبار کرنے جاتا ہے تو اسے پندرہ قسم کے این او سی لینے پڑتے ہیں، یہ اسی طرح ہے کہ جیسے اگر کرکٹ کی گیم میں ہر بال کرنے سے پہلے این او سی لینا پڑا تو گیم خاک رہ جائے گی۔ آپ رولز بنا دیتے ہیں اور پھر ہر کسی کو موقع دیتے ہیں کہ وہ کاروبار کرے۔ جیسے کہ امریکہ میں ہوتا ہے پانچ منٹ میں اکاؤنٹ کھل جاتا ہے، پانچ منٹ میں کمپنی رجسٹر ہو جاتی ہے، مگر یہاں اس کام کے لیے آپ کا وقت اور پیسہ دونوں برباد کیے جاتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ شریف لوگوں کو کاروبار سے روکا جائے اور مافیا کو کھلی چھٹی دی جائے۔ ایسے میں پیسہ میرے اورآپ کے پاس نہیں جائے گا بلکہ ہماری جیبوں سے نکل کر سیٹھوں کے پاس ہی جائے گا۔ بیوروکریسی اور حکومتوں کو کھانے پینے کے لیے یہی سسٹم سوٹ کرتا ہے اس لیے ملک چلے نہ چلے غریب کا چولہا جلے نہ جلے ان کی تجوریوں میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ