سورج سے نکلنے والی عجیب ’انگلیوں‘ کا معمہ حل

طویل عرصے تک محققین کا خیال تھا کہ یہ تاریک خلائیں مقناطیسی میدانوں کے ٹوٹنے اور واپس جڑنے کے عمل سے جڑی ہیں، تاہم نئی تحقیق میں اس کے برعکس معلومات ملی ہیں۔

ناسا کی خلائی دوربین سولر ڈائنامکس آبزرویٹی میں موجود ایک آلے کی مدد سے لی گئی تصویر میں 29 نومبر 2020 کو ہونے والے ایک سولر فلیئر میں سپرا آرکیڈ ڈاؤن فلو کو دیکھا جا سکتا ہے (تصویر:ناسا/ ایس ڈی او)

سائنس دانوں نے آخر کار پتہ لگا لیا ہے کہ سورج سے نکلنے والی عجیب ’انگلیاں‘ کیا ہیں۔

اس کھوج سے ہمیں سورج پر ہونے والی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔

سورج کی سرگرمیوں کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت سے ہمیں شمسی موسم کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ خطرناک اثرات سے بچنے اور انہیں کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

20 سال قبل محققین نے ایک سولر فلیئر (سورج سے نکلنے والی تیز روشنی) میں پراسرار حرکات کا مشاہدہ کیا تھا، جنہیں انہوں نے ’نیچے کی جانب جاتی تاریک خلاؤں‘ کے طور پر بیان کیا، تاہم سائنس دان اس کی وضاحت نہیں کر سکے کہ یہ عجیب و غریب حرکات آخر ہیں کیا۔

شمسی فلیئرز اکثر روشن توانائی کے بنے ہوتے ہیں جو سورج سے پھوٹ کر باہر کی جانب نکلتے ہیں۔ مگر یہ خالی خلائیں، جنہیں اب ’سپرا آرکیڈ ڈاؤن فلوز‘ یا SADs کہا جاتا ہے، اوپر کی بجائے نیچے آتی نظر آتی ہیں، جیسے کہ سورج میں واپس گر رہی ہوں۔

کافی عرصے تک محققین کا خیال تھا کہ یہ خلائیں میگنیٹک ری کنیکشن (مقناطیسی بحالی) کے عمل سے جڑی ہیں۔ ایسا تب ہوتا ہے جب مقناطیسی میدان ٹوٹتے ہیں، انتہائی توانائی والی تابکاری چھوڑتے ہیں اور پھر دوبارہ جڑ جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نئی تحقیق کی شریک مصنف کیتھی ریوز کہتی ہیں: ’سورج پر بہت سے مقناطیسی میدان ہیں جو سب مختلف سمتوں میں ہیں۔ آخر کار ان میدانوں کو ایک ساتھ اتنا دبایا جاتا ہے کہ یہ ٹوٹ کر دوبارہ بنتے ہیں اور اس دوران سولر فلیئر کی صورت میں توانائی چھوڑتے ہیں۔‘

انہوں نے مثال دی: ’یہ ایسا ہے جیسے کسی ربر بینڈ کو کھینچنا اور بیچ میں سے کاٹ دینا۔ اس پر بہت دباؤ ہے اور وہ کھینچا ہوا ہے تو وہ جھٹکے سے واپس اپنی جگہ پر آجائے گا۔‘

تاہم سورج پر یہ فلیئر جلدی واپس آتے نہیں۔ ماڈلز میں یہ سامنے آیا ہے کہ یہ توقع کے برعکس کم رفتار میں واپس نیچے آ رہے ہیں، تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کچھ اور ہی ہو رہا ہے۔

نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے سورج کی فضا میں تبدیلیوں کو جانچنے کے لیے اس کی تصاویر لیں۔ پھر انہوں نے فلیئرز کی تھری ڈی سیمیولیشن بنائیں اور ان کا ان تصاویر سے موازنہ کیا۔

انہیں پتہ چلا کہ زیادہ تر SADs مقناطیسی بحالی کا نتیجہ نہیں، بلکہ وہ آزادانہ طور پر بنتی ہیں جب مختلف کثافت والے سیال آپس میں ملتے ہیں۔

ریوز نے کہا: ’وہ تاریک، انگلی نما خلائیں اصل میں پلازما کا نہ ہونا ہے۔ آس پاس کے پلازما کے مقابلے میں ان کی کثافت کافی کم ہے۔‘

(انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مطابق طبیعیات میں پلازما کو اکثر ٹھوس، مائع اور گیس کے بعد مادے کی چوتھی قسم مانا جاتا ہے۔ پلازما ایک برقی میڈیم ہے جس میں مثبت اور منفی چارج والے ذرات کی تقریباً برابر تعداد ہوتی ہے۔ کائنات میں دکھنے والے زیادہ تر مادہ اجسام، خاص طور پر سورج اور دیگر ستاروں میں، یہی مادہ ہوتا ہے۔)

اس نئی تحقیق کو نیچر آسٹرونومی میں چھپنے والی ایک تحریر میں بیان میں کیا گیا ہے، جس کا عنوان ’ The Origin of Underdense Plasma Downflows Associated with Magnetic Reconnection in Solar Flares‘ ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس