کابل میں پہلی پاکستانی میڈیکل یونیورسٹی: ضرورت کیوں پیش آئی؟

خیبر میڈیکل یونیورسٹی حکام کے مطابق یہ افغانستان میں پاکستان کی پہلی میڈیکل یونیورسٹی ہوگی، جس میں ہر سال پاکستان آنے والے سینکڑوں افغان طلبہ اب اپنے ملک میں بھی بی ڈی ایس، ایم بی بی ایس، پیرامیڈیکس، نرسنگ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کرسکیں گے۔

کابل میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی  کے کیمپس کے لیے تاحال جگہ کی نشاندہی نہیں ہوئی ہے، تاہم کے ایم یو کے میڈیا ترجمان عالمگیر آفریدی نے بتایا کہ ان کا ادارہ کابل میں نئی عمارت نہیں بنائے گا، بلکہ پہلے سے وہاں موجود کسی عمارت کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا( تصویر: خیبر میڈیکل یونیورسٹی)

صوبہ خیبر پختونخوا کی خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور (کے ایم یو) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اپنی شاخ کھولنے کی تیاری کر رہی ہے۔

لیکن اس سے قبل یونیورسٹی کو پاکستان میں اعلی تعلیم کے ادارے ہائیر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی )، خیبر پختونخوا حکومت، افغان قونصلیٹ اور طالبان حکومت کی ابتدائی منظوری حاصل کرنے کے بعد دونوں ممالک کے دفاتر خارجہ کے اجازت نامے کا انتظار ہے۔

خیبر میڈیکل یونیورسٹی حکام کے مطابق یہ افغانستان میں پاکستان کی پہلی میڈیکل یونیورسٹی ہوگی، جس میں ہر سال پاکستان آنے والے سینکڑوں افغان طلبہ اب اپنے ملک میں بھی بی ڈی ایس، ایم بی بی ایس، پیرامیڈیکس، نرسنگ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کرسکیں گے۔

پشاور میں قائم خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاالحق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کابل میں آف شور کیمپس افغان طلبہ کے پاکستانی یونیورسٹیوں میں بڑھتی تعداد اور ان پر پڑنے والے اضافی مالی بوجھ کم کرنے کی خاطر قائم کا جارہا ہے۔‘

ان کے مطابق ’موجودہ وقت میں ہماری یونیورسٹی میں تقریباً چار سو افغان طلبہ مختلف طبی شعبوں میں پڑھ رہے ہیں۔ ان کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا تھا۔ بحیثیت غیر ملکی ایک طالب علم کو تقریباً چھ ہزار ڈالرز کی ادائیگی کرنی ہوتی تھی اس لیے اکثر طلبہ رعایت کے لیے درخواستیں بھی کرتے تھے۔‘

پروفیسر ضیاالحق نے بتایا کہ ’حکومت پاکستان افغانستان کے مستحق طلبہ کے لیے ’علامہ اقبال سکالرشپ‘ بھی فراہم کرتی ہے، جن کی تعلیم اور ہاسٹل میں رہائش کا تمام خرچہ حکومت پاکستان متعلقہ یونیورسٹیوں کو ادا کرتا ہے۔ تاہم یہ سہولت چونکہ تمام طلبہ کو حاصل نہیں ہے، لہذا دیگر سینکڑوں طلبہ کی آسانی کے لیے افغانستان میں ایک کیمپس کے قیام کی بات ہم نے اشرف غنی انتظامیہ کے ساتھ بھی کی تھی۔ اگرچہ ان کی دلچسپی بھی کچھ کم نہ تھی، لیکن ان کے جانے کے بعد موجودہ طالبان حکومت ان سے بھی زیادہ اس منصوبے میں دلچسپی رکھتی ہے۔‘

وائس چانسلر کے ایم یو نے بتایا کہ ’کابل کے نئے کیمپس میں بی ڈی ایس، ایم بی بی ایس، نرسنگ، پیرامیڈیکس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی پیشہ ورانہ تعلیم کی سہولیات میسر ہوں گی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’چونکہ افغانستان کے طبی سکولوں میں ایم بی بی ایس کی جگہ ’ڈاکٹر آف میڈیسن‘ یا ’ایم ڈی‘ کی ڈگری دی جاتی ہے، لہذا ان کا ادارہ بھی وہی ڈگری جاری کرے گا جو افغانستان میں پہلے سے رائج ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کابل میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی  کے کیمپس کے لیے تاحال جگہ کی نشاندہی نہیں ہوئی ہے، تاہم کے ایم یو کے میڈیا ترجمان عالمگیر آفریدی نے بتایا کہ ان کا ادارہ کابل میں نئی عمارت نہیں بنائے گا، بلکہ پہلے سے وہاں موجود کسی عمارت کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’دو روز قبل افغان قونصلیٹ کے اعلی وفد نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور میں کیمپس کے قیام کے حوالے سے ایک ملاقات میں وفد کے سربراہ مفتی نوراللہ نے کہا کہ وہ کے ایم یو کے کابل کیمپس کے سلسلے میں طالبان حکومت سے بات چیت کریں گے۔‘

عالمگیر آفریدی نے نئے کیمپس کے عملے میں تعینات کیے جانے والے عملے کے حوالے سے کہا کہ ’خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور سے فارغ التحصیل افغان طلبہ کو ہی کابل کیمپس میں تعینات کیا جائے گا۔‘

کابل کیمپس کی باقاعدہ منظوری کے بعد فیزایبلٹی رپورٹ اور طب کے مختلف شعبوں کے قیام کی تمام تر ذمہ داری کے ایم یو کے پیرامیڈیکس سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد جسیم کو سونپ دی گئ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ان کا ادارہ صرف عملے کی تعیناتی، لیبارٹریوں کے طبی سامان اور دیگر لوازمات و ضروریات کا خیال رکھے گا، جب کہ عمارت کی فراہمی افغان حکومت کے ذمہ ہوگی۔‘

 ڈاکٹر جسیم نے بتایا کہ ’ابھی تک کسی عمارت کی نشاندہی نہیں ہوئی لیکن ان کی یونیورسٹی کی خواہش ہے کہ یہ کیمپس کابل میں پاکستانی ہسپتال ’جناح ہسپتال‘ میں ہی قائم کی جائے۔‘

ادارے نے تمام دستاویزات دکھاتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کیمپس کی تمام لاگت کے ایم یو خود برداشت کرے گی۔ جب کہ ایچ ای سی نے این او سی جاری کرتے ہوئے اپنے خط میں پالیسی واضح کرتے ہوئے کے ایم یو کو لکھا ہے کہ جب تک کابل کیمپس کی تمام سہولیات اور ضروریات مکمل نہیں ہوجاتیں، اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد اس کی این او سی جاری نہیں کر دیتا، تب تک کسی بھی آن لائن یا دیگر قسم کے داخلوں کا اعلان نہ کیا جائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس