جانوروں کا انخلا: کابل کی شارلٹ پشاور کے جوڑے کی شکرگزار

کابل میں مقیم امریکی شہری شارلٹ میکسویل گذشتہ دنوں کئی کتوں اور بلیوں کو افغانستان سے کئی ماہ کی کوششوں کے بعد کینیڈا پہنچانے میں کامیاب ہوگئیں۔ اس سب میں پشاور کے ایک جوڑے نے بھی ان کی مدد کی۔

ایس پی سی اے انٹرنیشنل کے فیس بک پیچ سے حاصل کردہ 31 جنوری کی تصویر  میں  جہاز میں  موجود کچھ جانوروں کو دیکھا جاسکتا ہے (فوٹو: سوسائٹی فار دا پریوینشن آف کرولٹی ٹو انیملز)

افغان دارالحکومت کابل میں گذشتہ کئی دنوں سے مقیم جانوروں کے حقوق کی کارکن شارلٹ میکسویل جونز کے حوالے سے یہ خبریں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں کہ وہ کئی ماہ کی کوششوں اور جدوجہد کے بعد بالآخر 300 کے قریب لاوارث پالتو کتوں اور بلیوں کو کابل سے کینیڈا پہنچانے میں کامیاب ہوئیں۔

ان کی کوششوں میں دنیا بھر کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کے ایک جوڑے نے بھی ساتھ دیا، جس کے بارے میں زیادہ لوگوں کو علم نہیں۔

شارلٹ میکسویل، امریکی شہری ہیں اور کابل میں آوارہ کتوں اور بلیوں کے لیے ’کابل سمال اینیمل ریسکیو‘ (کے ایس اے آر) کے نام سے ایک خیراتی ادارہ چلاتی آرہی ہیں۔ وہ گذشتہ سال اگست میں اس وقت ایک عجیب صورت حال سے دوچار ہوئیں، جب اشرف غنی کی حکومت کو طالبان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

نتیجتاً افغانستان میں مقیم کئی امریکی ومغربی سفارت کار اور ٹھیکیدار بھی کابل چھوڑنے پر مجبور ہوئے، تاہم اس افراتفری میں جب امریکہ نے ایئر لفٹ ملتوی کردی اور ایئرپورٹ پر ایک کہرام مچا ہوا تھا، کئی پالتو جانوروں کو ایئرپورٹ پر ہی بے آسرا چھوڑ دیا گیا۔

جانوروں کے تحفظ کے لیے قائم مغربی خیراتی ادارے ’ایس پی سی اے انٹرنیشنل‘ کے ڈائریکٹر لوری کیلف نے کینیڈا کے اخبار ’وینکوور سن‘ کو بتایا کہ ’جب نیٹو کی حمایت یافتہ حکومت بغیر کسی لڑائی کے گر گئی اور 11 اگست کو کئی مغربی سفارت کار اور ٹھیکیدار افغانستان سے گئے تو وہ اپنے پالتو جانوروں کو شارلٹ کے پاس چھوڑ گئے کیونکہ وہ انہیں ساتھ  لے کر نہیں جاسکتے تھے۔‘

کیلف نے مزید کہا: ’تقریباً 50 کتے جو امریکی فوجیوں کے استعمال میں تھے، وہ انہیں بے آسرا ایئرپورٹ پر چھوڑ گئے تھے، تاہم ان کے بارے میں پینٹاگون نے بعدازاں دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان کتوں کو پنجروں سے آزاد کرکے شارلٹ میکسویل کے حوالے کیا تھا۔‘

کیلف نے کینیڈین اخبار کو بتایا: ’یہ ہولناک منظر تھا کہ کس طرح سے بعض جانور مہینے تک کابل ایئرپورٹ پر پھنسے رہنے کے بعد مرگئے تھے، لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری۔‘

ڈائریکٹر ایس پی سی اے انٹرنیشنل کا مزید کہنا تھا کہ پہلے انہوں نے ان تمام جانوروں کو امریکہ بھجوانا چاہا، لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا کیونکہ امریکہ کے سینٹر برائے ڈیزیزز کنٹرول ( سی ڈی سی) نے افغانستان کو کتوں کی درآمد کے لیے زیادہ خطرے والے ممالک کی فہرست میں ڈال دیا تھا۔ کیلف کے مطابق امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اجازت نہیں دی۔

دوسری جانب شارٹ میکسویل، جو اس تمام عرصے میں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مسلسل قارئین اور جانوروں سے محبت رکھنے والوں کو آگاہ رکھے ہوئے تھیں، نے آغاز سے لے کر جہاز کے کابل سے روانہ ہونے اور کینیڈا پہنچنے تک تمام حالات سے باخبر رکھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اس مقصد کی خاطر آن لائن فنڈ ریزنگ بھی کی، جو گوگل پر تھوڑی سی تحقیق پر باآسانی نظر آجاتی ہے اور یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر سے لوگوں نے اپنے حساب سے چندہ جمع کیا اور ان کے نام پیغامات بھی لکھے۔

شارلٹ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بتایا کہ عوامی چندے سے انہوں نے ایک روسی طیارے کی مدد حاصل کی ہے، جو ہر طرح کے موسموں سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ایک ’حیوان نما‘ طیارہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلائٹ کی روانگی سے قبل انہوں نے یقینی بنایا کہ جہاز کا عملہ وقتاً فوقتاً تمام جانوروں کے پاس جاکر ان کے کھانے پینے کا خیال رکھے گا۔

شارلٹ نے تقریباً 156 کتوں اور 133 بلیوں کی روانگی سے قبل، دوران پرواز اور کینیڈا پہنچنے کی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں، جسے ان کے مداحوں نے کافی سراہا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کینیڈا پہنچنے کے بعد تقریباً 80 جانوروں کو ان کے مالکوں کے حوالے کر دیا جائے گا، جب کہ باقی وینکوور میں کسی مہربان کے گود لینے کے لیے انتظار کریں گے۔

ایک مغربی جریدے ’ونڈر ڈاگ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے شارلٹ میکسویل نے بتایا کہ ان کا ارادہ ابھی افغانستان چھوڑنے کا نہیں ہے، کیونکہ ان کے پاس دیگر کئی آوارہ جانور ہیں، جو زیر علاج ہیں اور جن کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔

پشاور کے جوڑے کی مدد

شارلٹ میکسویل کو جہاں دنیا بھر کے دیگر اداروں، تنظیموں اور افراد نے مدد کی پیشکش کی، ان ہی میں خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں قائم ’لکی اینیمل پروٹیکشن سینٹر‘ بھی شامل ہے، تاہم اس سینٹر کو چلانے والے جوڑے زیبا مسعود اور جاوید خان کا اس تمام معاملے میں کردار قدرے غیر معمولی رہا، جس کی وجہ سے شارلٹ نے ان کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کیا۔

زیبا مسعود نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ چونکہ ان کا اور شارلٹ کا فلاحی ادارہ ایس پی سی اے کے پارٹنر ہیں، اس لیے انہوں نے اس سے بات کرکے پاکستان سے مدد اور تعاون کی پیش کش کی۔

انہوں نے بتایا: ’ہم نے یہ پیغام اس وقت بھجوایا تھا جب ان جانوروں کو افغانستان سے نکالنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آرہی تھی۔ ہم نے انہیں مشورہ دیا کہ چونکہ پشاور کابل کے زیادہ نزدیک ہے لہذا براستہ سڑک یا ہوائی جہاز اگر تمام جانوروں کو یہاں منتقل کیا جائے تو بعدازاں انہیں بغیر کسی دقت کے بیرون ملک لے جایا جاسکتا ہے، جس پر شارلٹ رضامند ہوئیں۔‘

جاوید خان نے بتایا کہ انہوں نے مدد کی درخواست تو دے دی لیکن یہ سب کچھ کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ ’ہم نے اس مقصد کی خاطر ہر وہ در کھٹکٹھایا جس سے اس معاملے پر بات کرنی ضروری تھی۔ ہم نے وفاقی حکومت سے لے کر بیوروکریٹس، سول ایوی ایشن، ایف سی اور ایف بی آر سب سے بات کی اور ان کی رضامندگی اور اجازت حاصل کرنے کی درخواست کی۔‘

انہوں نے کہا کہ اس دوران تقریباً تین سو بلیوں اور کتوں کے لیے جگہ کی تیاری پر بھی کام شروع کیا۔

’ہمارے پاس چونکہ کتوں کے لیے ایک پناہ گاہ پہلے سے موجود تھی لہذا وہاں مزید کتوں کے لیے جگہ بنانے، جنگلے لگوانے کے انتظامات کیے جبکہ بلیوں کے لیے ہم نے حیات آباد میں ایک عمارت کرائے پر حاصل کی اور وہاں ضرورت کے مطابق تمام سامان رکھا۔ ‘

جاوید خان نے کہا کہ جب وہ وفاقی حکومت کے پاس گئے تو انہیں کاون ہاتھی کا قصہ یاد دلایا کہ کس طرح اس واقعے پر پاکستان کو دنیا بھر میں سراہا گیا تھا۔

’میں نے درخواست کی کہ اگر ان جانوروں کو پاکستان لانے کی اجازت دی جائے، جو ایک عارضی قیام ہی ہوگا، اس سے پاکستان کا ایک بہترین امیج ابھر کر سامنے آئے گا۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس سلسلے میں نہ صرف اجازت دی بلکہ ہر ممکن تعاون کے لیے بھی کہا۔‘

تاہم، زیبا مسعود اور ان کے شوہر جاوید خان کا کہنا ہے کہ جب تمام انتظامات ہوگئے، آخر میں شارلٹ کے ادارے کو کینیڈا کی حکومت نے اجازت دے دی۔

جاوید خان نے بتایا کہ جانوروں کے حقوق کے کارکن کی حیثیت سے ان کا بنیادی مقصد متعلقہ لاوارث جانوروں کو ان کے مالکوں سے ملوانا اور انہیں ایک محفوظ مقام پر دیکھنا تھا۔ چاہے وہ ہمارے ذریعے ہو یا کسی اور کے۔

انہوں نے کہا کہ شارلٹ میکسویل نے اس واقعے کے بعد ان کا کئی بار شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے لیے پیغامات بھجوائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان