یوکرین مطالبات مان لے تو ایک لمحے میں جنگ روک دیں گے: روس

کریملن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یوکرین شرائط کے بارے میں جانتا ہے ’اور انہیں بتا دیا گیا تھا کہ یہ سب ایک لمحے میں روکا جا سکتا ہے۔‘

کریملن کے ترجمان نے پیر کو کہا کہ روس نے یوکرین کو بتا دیا ہے کہ اگر وہ شرائط پوری کر دے تو ’ایک لمحے‘ میں جنگ روک دی جائے گی۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یوکرین شرائط کے بارے میں جانتا ہے ’اور انہیں بتا دیا گیا تھا کہ یہ سب ایک لمحے میں روکا جا سکتا ہے۔‘

روس کے مطالبات میں یوکرین کا فوجی کارروائی روکنا، غیر جانب داری کو حصہ بنانے کے لیے آئین میں تبدیلی، کرائمیا کو روس کا علاقہ تسلیم کرنا اورعلیحدگی پسند جمہوریہ دونیتسک اور لوہانسک کو آزاد ریاستوں کے طور پرتسلیم کرنا شامل ہے۔

یہ صورت حال اس وقت سامنے آئی ہے جب یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے یوکرینی شہریوں کو اندھادھند ہدف بنانے پر روسی فوجیوں کو سزا دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اختتام ہفتہ پر روسی فوج نے گولہ باری کی جس کے نتیجے میں دارالحکومت کیئف کے قریب واقع شہر ارپن سے جان بچا کر نکلنے کی کوشش میں آٹھ یوکرینی شہری ہلاک ہو گئے۔ یوکرین کے صدر کا بیان اس واقعے کے بعد سامنے آیا۔

زیلنسکی کے بقول: ’ہم معاف نہیں کریں گے۔ ہم بھولیں گے نہیں۔ ہم ہر اس شخص کو سزا دیں گے جس نے اس جنگ میں اور ہماری سرزمین پر ظلم ڈھایا۔‘


یوکرین جنگ: برطانوی وزیر اعظم سے بھارت کی امداد ختم کرنے کا مطالبہ

برطانوی قانون ساز جونی مرسر نے وزیر اعظم بورس جانسن پر زور دیا ہے کہ بھارت کے لیے پانچ کروڑ پاؤنڈز کی غیر ملکی امداد روک دی جائے کیوں کہ اس نے روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قراردادوں پر کئی مرتبہ ووٹ دینے سے گریز کیا۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق مرسر نے کہا کہ برطانیہ کو بھارت کے لیے یہ عطیہ روک دینا چاہیے کیوں کہ اس کی’بہت جائز وجوہات موجود ہیں۔‘

برطانوی قانون ساز نے اپنی ٹویٹ میں کہا: ’ 22-2021 میں ہم بھارت کو غیر ملکی امداد کے طور پرپانچ کروڑ 53 لاکھ پاؤنڈز دے رہے ہیں۔ میں غیر ملکی امداد کا بھرپور حامی ہوں اور اس حکومت کی جانب سے اس میں کمی کے خلاف ووٹ دیا۔ تاہم اگر پوتن کے دوستوں پر پابندیاں لگاتے ہیں تو وقت آ گیا ہے کہ یہ عطیہ بھی ختم کر دیا جائے۔ اس کے لیے بہت جائز وجوہات موجود ہیں۔‘

برطانوی قانون ساز نے اخبار دا ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ بھی شیئر کی جس میں بائیڈن انتظامیہ کے دباؤ کے باوجود بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کی طرف سے روسی صدر ولادی میر پوتن کی مذمت سے انکار کا حوالہ دیا گیا ہے۔


روسی وزیر خارجہ ترکی میں سفارتی فورم میں شرکت کریں گے

روسی وزیر خارجہ سرگے لاووروف نے تصدیق کی ہے وہ طے شدہ پروگرام کے مطابق اگلے ہفتے ترکی کے شہر انتالیہ میں ایک سفارتی فورم میں شرکت کریں گے۔

حریت ڈیلی نیوز ڈاٹ کام کے مطابق یہ بات ترک وزیر خارجہ میولت چاوش اوغلو نے بتائی جنہوں نے ایک بار پھر کہا کہ انقرہ کی خواہش ہے کہ لاوورف اور یوکرین کے وزیر خارجہ دمتروکولیبا اکٹھے ہوں تاکہ دنوں ملکوں نے درمیان جاری لڑائی ختم ہو سکے۔

ترک وزارت خارجہ 11 سے 13 مارچ تک انتالیہ ڈپلومیسی فورم کا اہتمام کر رہی ہے جہاں دنیا بھر کے رہنما، دانشور، ذرائع ابلاغ اور دوسرے شعبوں کے ماہرین اکٹھے ہو کر تازہ عالمی معاملات پر بحث کریں گے۔

چاوش اوغلو کا کہنا تھا کہ یوکرینی رہنماؤں نے پہلے ہی انتالیہ میں اپنی موجودگی کی تصدیق کر دی تھی لیکن انہیں زیادہ یقین نہیں کہ روس کے یوکرین پر جاری حملے کی وجہ سے یوکرینی رہنما فورم میں شرکت کر سکتے ہیں یا نہیں۔


یوکرین نے انسانی راہداری کی روسی پیشکش مسترد کردی

روس نے پیر کو یوکرین سے شہریوں کو انخلا کی اجازت دینے کے لیے ایک اور جنگ بندی اور چند انسانی راہ داریوں کا اعلان کیا، جسے کیئف نے مسترد کردیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یوکرین کی نائب وزیراعظم ایرینہ ویریشچک نے ماسکو کی جانب سے شہریوں کے انخلا کے لیے روس اور بیلاروس کی طرف انسانی راہ داریوں کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ قابل قبول آپشن نہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’شہری بیلاروس نہیں جائیں گے، جہاں سے انہیں جہاز کے ذریعے روس جانا پڑے گا۔‘

واضح رہے کہ روسی فوج نے پیر کو یوکرین کے چار شہروں سے انسانی راہ داری کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم جنگ بندی کے اعلان کے باوجود روسی افواج نے یوکرین کے کچھ شہروں کو راکٹوں سے نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔


عالمی سٹاک مارکیٹ میں مندی، تیل 14 سال کی بلند ترین سطح پر

روس کے یوکرین پر حملے کے عالمی معیشت پر اثرات سے سرمایہ کاروں کا خوف کاروباری ہفتے کے پہلے دن سٹاک مارکیٹوں میں نظر آیا جہاں مندی کا رجحان رہا، تیل کی قیمتیں تقریباً 14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں اور محفوظ سرمایہ سمجھے جانے والے سونے کی قیمت دو ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو کاروبار میں مندی رہی اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خام تیل کی قیمیت میں اضافے کی وجہ سے افراط زر مزید بلند ہوسکتی ہے۔ 

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے جب یہ کہا کہ وائٹ ہاؤس اور اتحادی روس سے درآمدات پر پابندی لگانے کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں، تو اس کے بعد کموڈیٹیز کی قیمت ایک موقعے پر تقریباً 18 فیصد بڑھ کر 139.13 ڈالر تک پہنچ گئی جو 2008 کے وسط سے نہیں دیکھی گئی۔

عالمی معیشت پر اثرات کے بارے میں خدشات مارکیٹوں میں نمایاں طور پر ظاہر ہوئے۔

یورپی سرگرمیاں خاص طور پر روسی توانائی پر براعظم کے انحصار کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ یورو 2020 کے وسط کے بعد پہلی بار 1.10 ڈالر سے کم کا ہو گیا۔

پیر کو ایشیائی سٹاک مارکیٹوں میں ایک موقعے پر ہانگ کانگ کو چار فیصد سے زائد کا نقصان ہوا جبکہ ٹوکیو اور تائی پے میں تین فیصد سے زائد کی کمی ہوئی۔

سیول اور منیلا دونوں میں دو فیصد سے زیادہ کمی رہی، شنگھائی، سڈنی اور ویلنگٹن میں ایک فیصد سے زیادہ کمی رہی۔ سنگاپور اور جکارتہ میں بھی شدید نقصان ہوا۔

امریکی ڈالر کے ساتھ ایکسچینج ریٹ والی کرنسیوں کی قیمت بھی تیزی سے کم ہوئی۔

مارکیٹ پر خوف و ہراس سے سونا بھی متاثر ہوا اور ایک وقت میں سونے کی قیمت دو ہزار ڈالر سے زائد تک پہنچ گئی جو 2020 کے وسط کے بعد سب سے زیادہ ہے۔


یوکرینی شہروں پر روسی بمباری جاری

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روس نے یوکرین کے شہروں پر بم حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اب  تک 15 لاکھ افراد وہاں سے نکل چکے ہیں جو دوسری عالمی جنگ کے بعد پناہ گزینوں کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا بحران ہے۔

دوسری جانب جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی وجہ سے یوکرین کے محصور شہر ماریوپول سے شہریوں کو نکالنے کی کوششیں ایک بار پھر ناکام ہو گئی ہیں۔ رہائشی بجلی اور پانی سے محروم ہیں۔

شدید لڑائی

یوکرین کی فوج نے کہا ہے کہ وہ جنوبی شہر میکولائیف کے کنارے پر روسی فورسز کے ساتھ ’شدید لڑائیاں‘ لڑ رہی ہے جو کہ ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ اوڈیسا کے ساتھ واقع ہے۔

روس یوکرین کے ایٹمی پلانٹ میں مداخلت کر رہا ہے: ایٹمی توانائی ایجنسی

عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ روسی افواج یوکرین کے سب سے بڑے زیپرازحزیا جوہری پلانٹ پر اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہیں، جس پر انہوں نے گذشتہ ہفتے قبضہ کیا تھا۔

ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے اتوار کو کہا کہ یوکرینی عملے کو اب کسی بھی آپریشن، یہاں تک کہ دیکھ بھال کے لیے روسیوں سے منظوری لینا ضروری ہے، اور یہ کہ انہوں نے کچھ موبائل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ کو بند کر کے معمول کے مواصلات میں رکاوٹ ڈالی ہے۔

یوکرین کی ریگولیٹری اتھارٹی نے کہا کہ فون لائنز کے ساتھ ساتھ ای میل اور فیکس اب کام نہیں کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گروسی نے کہا کہ وہ ’ان پیش رفتوں کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پلانٹ کو محفوظ طریقے سے چلانے کے لیے ’عملے کو غیر ضروری بیرونی مداخلت یا دباؤ کے بغیر، مستحکم حالات میں اپنے اہم فرائض انجام دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔‘

چیرنیہیو میں پھنسے لوگ

شمال میں چیرنیہیو کی جنگ میں درجنوں شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ جو باقی ہیں ان میں سے کچھ گڑھوں میں یا کھنڈرات میں رہ رہے ہیں۔

ہوائی اڈہ تباہ

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روسی میزائلوں کی بوچھاڑ سے وسطی یوکرین میں ونیتسیا ہوائی اڈہ تباہ ہو گیا ہے۔

ضروری خوراک کی فروخت محدود

مغربی پابندیوں کے اثرات آتے ہی روسی دکانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بلیک مارکیٹ کی قیاس آرائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری غذائی اجزا کی فروخت کو محدود کریں۔

ماسکونے مزید ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا

پورے روس میں جنگ مخالف مظاہروں میں شامل مزید ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں حملہ شروع ہونے کے بعد سے مجموعی تعداد 11 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔

پوتن: ہم مذاکرات یا جنگ سے جیتیں گے

روس کے صدر ولادی میر پوتن کہنا ہے کہ وہ یوکرین میں ’مذاکرات یا جنگ کے ذریعے‘ اپنے مقاصد حاصل کریں گے۔

مغربی جیٹ

امریکہ نے یوکرین کو لڑاکا طیاروں کی فراہمی کے لیے پولینڈ کو’گرین لائٹ‘ دے دی ہے۔

 ماسکو نے خبردار کیا ہے کہ وہ نیٹو ارکان کو بھی جنگ میں گھسیٹ سکتا ہے۔

توانائی کی پابندیاں

امریکی وزیر خارجہ انیٹنی بلنکن کا کہنا ہے کہ مغرب روسی تیل پر پابندی کے بارے میں’بہت فعال‘ بات چیت کر رہا ہے۔ برینٹ خام تیل 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

جوہری خطرات

فرانس نے اعلان کیا کہ وہ یوکرین کو آیوڈین گولیاں اور دیگر طبی سامان بھیجے گا۔ ان کا استعمال تابکاری کے نمایاں اثرات سے بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

بولشوئی ڈائریکٹر نے عہدہ چھوڑ دیا

بولشوئی تھیٹر کے میوزک ڈائریکٹر اور پرنسپل کنڈکٹر توگن سوکھیف نے ماسکو تھیٹر اور فرانس کے اورچیسٹرے نیشنل ڈو کیپٹلے ڈی ٹولوز کو یہ کہتے ہوئے چھوڑ دیا کہ وہ جنگ پر موقف اختیار کرنے میں دباؤ  محسوس کرتے ہیں۔

بین الاقوامی بریگیڈ

یوکرین کے وزیر خارجہ دمیتری  کلیبا کا کہنا ہے کہ 20 ہزار بین الاقوامی رضاکار روسی افواج کے خلاف جنگ میں شامل ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر یورپ سے آئے ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنیز کا انخلا

ویڈیو ویب سائٹ نیٹ فلکس نے روس میں اپنی خدمات معطل کر دی ہیں اور  سنسر شپ قوانین  نافذ ہوتے ہی سوشل میڈیا کی بڑی کمپنی ٹک ٹاک نے ملک سے ویڈیو مواد کی پوسٹنگ روک دی ہے۔

جنگ کے بارے میڈیا رپورٹنگ پر ماسکو کی جانب سے جیل کی سزا کی دھمکی کے بعد بی بی سی، سی بی سی،  اے آر ڈی، زیڈ ڈی ایف، بلوم برگ نیوز، سی این این، سی بی ایس، آر اے آئی اور ای ایف ای سمیت غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے ملک سے رپورٹنگ معطل کردی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا