ہم 78 طیاروں سے محروم ہو چکے ہیں: روس

وزیر ٹرانسپورٹ کے مطابق جب روس پر پابندیاں لگائی گئیں تو اس وقت اس کے پاس 1367 طیارے تھے اور ان میں سے تقریباً آٹھ سو کا اندراج ملک کے ایئرکرافٹ رجسٹر میں کیا جا چکا ہے۔

7 مارچ 2022 کو لی گئی ایک تصویر ، ہوائی جہاز روس کی قومی پرواز کے بعد تبلیسی ہوائی اڈے پر (فائل تصویر: اے ایف پی)

روس کے خبر رساں ادارے انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے منگل کو ملک کے وزیر ٹرانسپورٹ وتالی سیولیف کے حوالے سے کہا ہے کہ بیرون ملک روس کے 78 طیاروں کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یوکرین میں پیش آنے والے حالات کے پیش نظر روس کو عالمی پابندیوں کے اثرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پابندیوں کی وجہ سے روس کو زیادہ تر طیاروں، ان کے حصوں اور دوسری سروسز کی فراہمی روک دی گئی ہے۔ روسی وزیر ٹرانسپورٹ کے بقول: ’ہم 78 طیاروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ طیارے بیرون ملک قبضے میں لیے گئے اور روس کو واپس نہیں کیے جائیں گے۔‘

روس نے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت ملکی فضائی کمپنیوں کو اختیار مل گیا کہ وہ غیر ملکی کمپنیوں سے پٹے پر حاصل کیے گئے طیاروں پر قبضہ کر لیں۔ تاہم روسی فضائی کمپنیاں ایسا کرنے سے گریز کر رہی ہیں کیوں کہ انہیں ڈر ہے کہ اس طرح ان کے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

وزیر ٹرانسپورٹ کے مطابق جب روس پر پابندیاں لگائی گئیں تو اس وقت اس کے پاس 1367 طیارے تھے اور ان میں سے تقریباً آٹھ سو کا اندراج ملک کے ایئرکرافٹ رجسٹر میں کیا جا چکا ہے۔ تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی عالمی لیزنگ کمپنیوں سے کتنے طیارے لیز پر لیے گئے۔

روسی فضائی کمپنیوں کی طرف سے استعمال ہونے والے تقریباً تمام بوئنگ اور ایئربس طیارے برمودا اور آئرلینڈ میں رجسٹرڈ ہیں لیکن ایک ہفتہ پہلے برمودا اور آئرلینڈ کے شہری ہوابازی کے حکام نے روس کے زیر استعمال تمام طیاروں کے سرٹیفکیٹس معطل کر دیے۔ روسی وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ روس ایران کے تجربے سے فائدہ اٹھا رہا ہے اس قسم کے حالات میں طیاروں کی سروس کس طرح کرنے ہے۔


چینی وزارت خارجہ نے منگل کو کہا کہ چین اور پاکستان کو یوکرین کے خلاف جنگ کے بعد روس پر ’یک طرفہ پابندیوں کے اثرات کے پھیلاؤ‘ پر تشویش ہے اور دونوں ممالک جنگ بندی اور بحران کے سفارتی حل پر زور دیتے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے پیر کو پاکستان میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا کہ دونوں نے یک طرفہ پابندیوں کے پھیلاؤ کے اثرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔

چینی وزارت نے کہا کہ دونوں نے سفارتی بات چیت کے ذریعے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ناقابل تقسیم سلامتی کے اصول کی بنیاد پر یوکرین کے مسئلے کا بنیادی حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر ایک بیان جاری کیا جس میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تاہم اس میں پابندیوں کے بارے میں تشویش کا ذکر نہیں کیا گیا۔


روس یوکرین میں کیمیائی ہتھیاروں کےاستعمال پرغورکر رہا ہے: امریکہ

امریکی صدر جو بائیڈن  کا کہنا ہے کہ یہ ’واضح‘ ہے کہ روس یوکرین میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال پر غور کر رہا ہے اور اگر اس نے ایسا کیا تو اسے ’سخت‘ مغربی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ کہ روس نے حال ہی میں امریکہ پر یورپ میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار رکھنے کا الزام لگایا تھا، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن نے روسی صدر ولادی میر پوتن کے حوالے سے کہا: ’وہ حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جو بائیڈن نے واشنگٹن میں امریکی کاروباری رہنماؤں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’یہ صرف سچ نہیں ہے۔ میں آپ کو ضمانت دیتا ہوں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’وہ یہ بھی تجویز کر رہے ہیں کہ یوکرین میں حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہ ان دونوں کو استعمال کرنے پر غور کر رہے ہیں۔‘

گذشتہ دنوں روسی حکام نے یوکرین پر الزام لگایا تھا کہ وہ مبینہ طور پر امریکی حمایت یافتہ کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔

جس کے بعد وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری جین ساکی نے ٹوئٹر پر کہا تھا: ’اب جب کہ روس نے یہ جھوٹے دعوے کیے ہیں۔۔۔ہم سب کو اس بات کی تلاش میں رہنا چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کرے یا ان کے استعمال سے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کرے۔‘

امریکی صدر بائیڈن نے پیر کو اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ اس طرح کی کارروائی مغربی اتحادیوں کی طرف سے ’شدید‘ ردعمل کا باعث بنے گی۔

انہوں نے روسی صدر پوتن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’وہ جانتے ہیں کہ متحدہ نیٹو محاذ کی وجہ سے سنگین نتائج ہوں گے۔‘ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ نیٹو محاذ کیا اقدامات کرے گا۔


یوکرین پر روسی حملے کے بعد بھارت کا ردعمل ’متزلزل‘ ہے: بائیڈن

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ دیگر اتحادیوں کے مقابلے میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد بھارت کا ردعمل ’متزلزل‘ ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادی میر پوتن کے خلاف متحدہ محاذ پر نیٹو، یورپی یونین اور اہم ایشیائی شراکت داروں سمیت امریکی قیادت والے اتحاد کی تعریف کی۔

یوکرین پر حملے کے بعد روس پر غیر معمولی پابندیاں لگائی گئی ہیں، جن کا مقصد روس کی کرنسی، بین الاقوامی تجارت اور ہائی ٹیک اشیا تک رسائی کو کم کرنا ہے۔

تاہم کواڈ گروپ کے ساتھی ارکان آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ کے برعکس بھارت روسی تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے اور اس نے اقوام متحدہ میں ماسکو کی مذمت کے لیے ووٹنگ میں شامل ہونے سے بھی انکار کیا ہے۔

واشنگٹن میں امریکی کاروباری رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا کہ ’پورے نیٹو اور بحرالکاہل میں محاذ متحدہ رہا ہے۔‘

’کواڈ میں شامل بھارت اس حوالے سے کسی حد تک متزلزل ہے، لیکن جاپان اور  آسٹریلیا بھی روسی صدر کی جارحیت سے نمٹنے کے معاملے میں انتہائی مضبوط رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جو بائیڈن نے کہا کہ ولادی میر پوتن ’نیٹو کو تقسیم کرنے کی قابلیت حاصل کرنے کے منتظر ہیں‘ اور اس کی بجائے ’نیٹو اپنی پوری تاریخ میں اتنی زیادہ مضبوط، متحد نہیں تھی جتنی آج ہے۔‘

واضح ہے کہ یوکرین پر حملے کے بعد ماسکو پر عائد پابندیوں کے باوجود بھارتی آئل ریفائنرز مبینہ طور پر کم نرخوں پر روسی تیل خرید رہے ہیں جبکہ مغرب ماسکو کو تنہا کرنا چاہتا ہے۔

ایک بھارتی سرکاری عہدیدار نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ نئی دہلی اپنی ضروریات کے تقریباً 85 فیصد کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے اور روس اس میں ’معمولی‘ سا ایک فیصد سے بھی کم فراہم کرتا ہے، لیکن ’یوکرین تنازع کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے نے اب ہمارے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔۔ بھارت کو متبادل توانائی کے ذرائع پر توجہ دینی ہوگی۔‘

نئی دہلی، جس کے تاریخی طور پر ماسکو کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں، نے یوکرین میں تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اقوام متحدہ میں تین ووٹوں میں غیر حاضر رہ کر اس نے روس کے حملے کی مذمت نہیں کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا