اگر عمران خان کے والد ننھے مداح سے ملتے تو کیا ہوتا؟

ننھے مداح کی اپنے کپتان سے جذباتی ملاقات کا منظر دیکھ کر بیٹھا سوچ رہا ہوں، یہاں عمران خان کے مرحوم والد بھی موجود ہوتے تو کیا ہوتا؟

عمران خان نے بچے کے جذبات کو دیکھ کر کہا کہ ’اسے ہم اپنے یوتھ میں ذمہ داری دیں گے، یہ سن کر یہ خیال دیوار دل سے آ لگا کہ یہاں اکرام اللہ خان نیازی ہوتے تو وہ کیا کرتے؟ (تصویر: پی ٹی آئی آفیشل ٹوئٹر)

یہ تحریر مصنف کی آواز میں سننے کے لیے کلک کیجیے

 

سالوں پہلے جب میں عمران خان سے ملنے زمان پارک گیا تو میری عمر بھی شاید یہی تھی۔ گاؤں سے لاہور پہنچا تو اپنے کزن کو فہرست تھما دی کہ مجھے ان ان جگہوں پر جانا ہے۔ مینارِ پاکستان، شاہی قلعہ، شالامار باغ، مقبرہ جہانگیر۔ ۔ ۔ طویل فہرست تھی مگر سب سے اوپر زمان پارک لکھا تھا۔

کزن نے اسے دیکھا اور حیرت سے پوچھا، ’زمان پارک دیکھ کر کیا کرو گے، وہاں کیا ہے؟‘ میں نے جواب دیا، ’زمان پارک میں عمران خان ہے!‘

 یہ سہ پہر کا وقت تھا۔ نہر کنارے عمران خان کا گھر تھا۔ چوکیدار چاچا خان بیگ گیٹ پر بیٹھے تھے، غالبا یہی نام تھا ان کا۔ میں نے انہیں بتایا کہ عمران خان سے ملنے گاؤں سے آیا ہوں۔ انہوں نے بتایا عمران تو برطانیہ میں ہیں۔ مجھے یقین نہ آیا میں نے کہا عمران گھر پر ہی ہوں گے، بس آپ مجھے ملنے نہیں دے رہے۔

چاچاخان بیگ بڑے مزے کے آدمی تھے۔ کہنے لگے، ’عمران تو سچ میں پاکستان سے باہر ہیں لیکن اگر تم چاہو تو میں تمہیں عبد القادر سے ملوا سکتا ہوں، ان کا گھر اسی نہر کے ساتھ تھوڑا آگے ہے۔‘

گگلی ماسٹر مرحوم عبد القادر کے گھر کا ایڈریس بھی میں نے انہی سے لیا تھا اور اتفاق سے اسی دن وہاں عبد القادر صاحب سے ملاقات بھی ہو گئی۔

میں ابھی چاچا خان بیگ سے عبد القادر کا ایڈریس سمجھ رہا تھا کہ انہیں کسی نے اندر بلایا۔ تھوڑی دیر وہ واپس آئے تو کہنے لگے، ’آؤ تمہیں بڑے خان صاحب سے ملواتا ہوں۔‘

سرخ اینٹوں سے بنے عمران خان کے گھر میں دائیں جانب ڈرائنگ روم میں انہوں نے ہمیں لے جا کر بٹھا دیا، پانی پلایا۔ چند ہی لمحوں میں وہاں بڑی عمر کے ایک بزرگ آئے، سمارٹ سے، کلین شیو، دراز قد۔

یہ عمران خان کے والد جناب کرام اللہ خان نیازی تھے۔ اور یہ ان سے میری پہلی اور آخری ملاقات تھی۔

یہ ایک مختصر سی ملاقات تھی لیکن یہ نہ صرف آج بھی یاد ہے بلکہ زندگی کے اس سفر میں یہ بار بار یاد آتی رہتی ہے۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہ کمرے میں داخل ہوئے، مصافحہ کیا، سامنے صوفے پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے، ’میں آپ کی باتیں سن رہا تھا، اس لیے آپ کو اندر بلایا۔ مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے، کیا آپ میری بات توجہ سے سن رہے ہیں؟‘

’جی سر، توجہ سے سن رہے ہیں۔‘

’دیکھیے، آپ ابھی بچے ہیں۔ آپ کے سامنے ساری زندگی پڑی ہے۔ یہ عمران کے پیچھے بھاگنا اور تصویریں بنانا یا کسی اورکے پیچھے بھاگنا، یہ فضول کام ہے۔ اس کا آپ کو فائدہ نہیں ہو گا۔ آپ کو اپنی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔ محنت کریں۔ پڑھ لکھ کر اپنا مستقبل بہتر بنائیں۔ آپ کے خاندان کو اور آپ کے ملک کو آپ کی ضرورت ہے۔‘

یہ ملاقات اس مختصر سی ہدایت کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔

بچوں کو مگر بڑوں کی باتیں کب اچھی لگتی ہیں۔ کچھ وقت گزرا، میں پھر لاہور آیا تو کیمرا لے کر زمان پارک پہنچ گیا۔ چاچا خان بیگ کے ساتھ کھڑا تھا کہ عمران خان آ گئے۔ وہ جاگنگ کر کے آ رہے تھے اور ان کا کتا ان کے ساتھ تھا۔

میں عمران خان کے ساتھ اپنے بھائی کی تصویر بنانے لگا تو کیمرے کی فلیش سے گھبرا کر کتے نے مجھ پر حملہ کر دیا۔ عمران نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا، ’ٹائیگر!‘ تو وہ وہیں دبک کر بیٹھ گیا لیکن تب تک میرا کندھا زخمی ہو چکا تھا اور کپڑے پھٹ چکے تھے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب شوکت خانم ہسپتال کی فنڈ ریزنگ ہو رہی تھی اور میں نے ’عمرانز ٹائیگرز‘ کا بیچ سینے پر لگایا ہوا تھا۔ میرے لیے یہ حیرت اور صدمے کی بات تھی کہ اس کتے کا نام بھی ’ٹائیگر‘ ہے اور ہم جیسے ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کے رضاکاروں کو بھی عمران خان ’ٹائیگر‘ کہتے ہیں۔

اب مجھے یاد نہیں وہ بیج میں نے اتار کر چاچا خان بیگ کو پکڑا دیا تھا یا پھینک دیا تھا لیکن اس روز مجھے اکرام اللہ خان صاٖحب کی باتیں بہت یاد آئی تھیں۔ بعد میں جب جب عمران خان اپنے کارکنان کو ’ٹائیگر‘ کہہ کر پکارتے مجھے مرحوم اکرام اللہ خان صاحب یاد آ جاتے۔

اگلے روز اس ننھے مداح کی عمران خان سے جذباتی ملاقات دیکھی تو مجھے ایک بار پھر جناب اکرام اللہ خان نیازی یاد آ گئے۔

عمران خان نے بچے کے جذبات کو دیکھ کر جس رسان سے کہا کہ ’اسے ہم اپنے یوتھ میں ذمہ داری دیں گے، یہ سن کر یہ خیال دیوار دل سے آ لگا کہ یہاں اکرام اللہ خان نیازی ہوتے تو وہ کیا کرتے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتے، ’دیکھو بچے، تم ابھی نو عمر ہو، جذبات میں بہک کر دور نہ نکل جانا، تمہاری منزل عمران کی سیاست کا یوتھ ونگ نہیں ہے، تمہاری منزل ابھی سکول ہے، تمہارا عشق تمہارے بستے سے ہونا چاہیے۔ آپ کو اپنی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔ محنت کریں۔ پڑھ لکھ کر اپنا مستقبل بہتر بنائیں۔ آپ کے خاندان کو اور آپ کے ملک کو آپ کی ضرورت ہے۔‘

ابوالکلام آزاد نے درست کہا تھا، ’سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔‘ لوگ اپنے معصوم بچوں کو پیدل لے کر بنی گالہ حاضر ہو رہے ہیں اور اس کی یوں تشہیر کی جا رہی ہے جیسے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا گیا ہو۔

میں یہ مناظر دیکھتا ہوں اور معصوم بچوں کو رٹائے گئے نعرے سنتا ہوں جن کے معنی بھی ان ننھے وجودوں کو معلوم نہیں تو مجھے پھر اکرام اللہ نیازی یاد آتے ہیں اور میں بے اختیار ہو کر سوچتا ہوں اگر وہ بھی اس محفل میں ہوتے تو کیا کہتے؟

وہ اس معصوم بچے کے باپ کو کہتے کہ دیکھیے آپ گرمی کی اس لہر میں پیدل کیوں آئے، آپ کو خدا نے عقل دی ہوئی ہے اور ٹرانسپورٹ بھی موجود ہے تو آپ اپنے معصوم بچوں پر کیوں ظلم کر رہے ہیں؟

عمران کے بچے تو کبھی کسی جلسے میں بھی نہیں آئے، وہ تو اپنے بچوں کو پھولوں کی طرح سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔ تو کیا تمہیں اپنے بچوں سے پیار نہیں؟ کیا تمہارے بچے بھی پھول جیسے نہیں؟

کیسی پتھر دل سیاست ہے، کلٹ کی آسودگی کا سامان مہیا ہو رہا ہو تو بچوں کو سارے اہتمام سے شرفِ ملاقات بخشا جاتا ہے لیکن ساہیوال کی سڑک پر یتیم ہو جانے والے بچوں کا وزیر اعظم آج تک قطر کے دورے سے واپس نہیں آیا۔ جب تک وہ اپنے مقتول والدین کی قبروں پر ’امپورٹڈ حکومت نا منظور‘ کا کتبہ نہیں گاڑ دیتے، شرف ملاقات کے معیار پر نہیں پہنچ سکیں گے۔

ہمیں سمجھ جانا چاہیے کہ جہالت اور جنون سے کبھی قوم کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ قومیں شعور اور حریت فکر سے بنتی ہیں۔ اندھی وابستگی کو ڈرامائی انداز سے پیش کرتے ہوئے ’کلٹ‘ تو کھڑا کیا جا سکتا ہے، قوم نہیں۔

قوم کو عقیدت میں لتھڑے مبالغے کی بجائے منطق اور کریٹیکل تھنکنگ کی ضرورت ہے۔

روایت ہے کہ ننھے مداح نے عمران کے دستخطوں والی شرٹ کو بیچنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرت مند لوگ تحفے نہیں بیچتے۔ اب وہ اور کیا کہتا؟

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر