خیبرپختونخوا: گھریلو تشدد کے خاتمے کے قانون پر عمل درآمد میں تاخیر

جنوری 2021 میں خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی نے گھریلو تشدد کے خاتمے کا قانون پاس تو کرلیا لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود اس قانون پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لیے رولز آف بزنس ابھی تک پاس نہیں کیے گئے۔

سات مارچ 2011 کی اس تصویر میں لاہور میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر سماجی کارکن خواتین کو باختیار بنانے اور ان کے خلاف تشدد کے حوالے سے مظاہرہ کر رہی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

دس سال کے بعد جنوری 2021 میں اللہ اللہ کر کے خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی نے گھریلو تشدد کے خاتمے کا قانون پاس تو کرلیا لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود اس قانون پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لیے رولز آف بزنس ابھی تک پاس نہیں کیے گئے۔

ہمارے ہاں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ قوانین تو بن جاتے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ عوام میں قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کے حوالے سے آگہی کی کمی بھی ہے کیونکہ عوام کو اکثر اوقات اسی بات پر ٹرخا دیا جاتا ہے کہ جی قانون بنا دیا گیا ہے۔

عوام کو آگے یہ خبر ہی نہیں کہ قانون کا پاس ہونا، جرائم کے خاتمے کی پہلی کڑی ہے، لہذا جب قانون بنا دیا جاتا ہے تو پھر انتہائی اہم ہے کہ اس کے رولز آف بزنس جلد سے جلد بنائے جائیں تاکہ متعلقہ اداروں کو ان کے کردار سے متعلق نہ صرف آگہی مل سکے بلکہ انہیں درکار تکنیکی اور مالی وسائل کے فراہم کرنے کا طریقہ کار بھی وضع کیا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ عوام میں متعلقہ قانون کے حوالے سے آگہی پیدا کرنا بھی انتہائی اہم ہے تاکہ ان کی رہنمائی ہو سکے کہ ضرورت پڑنے پر وہ کس ادارے میں جا سکتے ہیں اور کیسے قانونی مدد سے انصاف تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ 

پاکستان کے دوسرے صوبوں نے گھریلو تشدد کے خاتمے کے قانون کو پاس کرنے میں خیبر پختونخوا سے نہ صرف پہلے سے سبقت حاصل کی ہے بلکہ اس کے عمل درآمد میں بھی پیش پیش نظر آرہیں ہیں۔ جیسے کہ پنجاب میں گھریلو تشدد اور ہراسانی سے متاثرہ خواتین کی قانونی و نفسیاتی رہنمائی کے لیے موبائل ایپ بنائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ہاٹ لائن فون سروسز کا بھی آغاز کیا گیا ہے، جس سے کافی خواتین کو گھر بیٹھے مدد و رہنمائی مل جاتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ خیبر پختونخوا کی خواتین ابھی تک اس قسم کی سہولیات سے محروم ہیں۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پشاور اور اس کے اطراف کے کچھ بڑے شہروں میں کسی حد کچھ سہولیات موجود ہیں لیکن اکثریتی دیہی علاقوں اور خصوصی طور پر حال ہی میں صوبے میں شامل کیے گئے قبائلی اضلاع میں اس حوالے سے سہولیات کا فقدان ہے۔

یہ ایک خوش ؤئند بات ہے کہ خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی میں موجود تمام منتخب خواتین ممبران، خواتین کے حقوق کے حصول کے معاملے پر ہمیشہ متفق نظر آتی ہیں اور سیاسی وابستگیوں اور اختلافات سے مبرا خواتین کے حق میں جب کوئی مدعا اٹھایا جاتا ہے یا کسی قسم کی قانون سازی کا عمل ہوتا ہے تو اس میں وہ مل کر اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔

اس کی مثال گھریلو تشدد کے خاتمے کا قانون ہے، جس کی اسمبلی سے منظوری کا خصوصی کریڈٹ اس وقت صوبائی اسمبلی میں بیٹھی خواتین ممبران کے سر جاتا ہے۔ یہاں اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ان خواتین ممبران کو اکثر اواقات اپنی ہی سیاسی جماعتوں کےمرد ممبران سے بھی اعتراضات اور اختلافات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن یہ خواتین آج بھی متحد نظر آتی ہیں۔ ہمارے لیے اس سے زیادہ خوش آئند بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی جب ہماری خواتین سیاسی رہنما متحد ہو کر خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔

خاتون ایم پی اے سمیرا شمس کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً ہر اسمبلی اجلاس میں گھریلو تشدد کے خاتمے کے قانون پر عمل درآمد کو فوری ممکن بنانے کے لیے  رولز آف بزنس کی جلد سےجلد منظوری کی بات ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے سمیرا شمس نے چیف سکرٹری خیبر پختونخوا کو بھی ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے جلد سے جلد متعلقہ اداروں کے ساتھ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ضلعے کی سطح پر ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کمیٹیز کے قیام کو تیز کیا جاسکے۔

 ایم پی اے سمیرا شمس پر امید ہیں کہ ان کی کاوشیں رنگ لائیں گی اور بہت جلد عید کی چھٹیوں کے بعد نہ صرف رولز آف بزنس منظور کرلیے جائیں گے بلکہ دیگر درکار اقدامات کو بھی فوری طور پر ممکن بنایا جائے گا۔ جس سے گھریلو تشدد کے خاتمے کے قانون پر خیبرپختونخوا میں عمل درآمد کو بہتر اور موثر کیا جاسکے گا۔

خاتون ایم پی اے شگفتہ ملک کا کہنا ہے کہ خواتین سے متعقلہ ایشوز پر بات ہو یا قانون سازی کا عمل ہو، ہمارے ہاں اس پر سردمہری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جیسے نہ تو اس کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ضرورت۔ 

شگفتہ ملک کہتی ہیں کہ ہمارے ہاں گھریلو تشدد جیسے اہم مسئلے کو مسئلہ ہی نہیں سمجھا جاتا، یہی وجہ ہے کہ ہمیں خیبرپختونخوا اسمبلی سے  گھریلو تشدد کے خاتمے کے قانون کو پاس  کرنے  میں سالوں لگے ہیں تاہم یہ قانون تب تک فائدہ مند نہیں جب تک اس کے رولز آف بزنس پاس نہ ہوں۔

 انہوں نے مزید بتایا کہ وہ شروع دن سے اس قانون کے حوالے سے اپنا موقف اسمبلی کے فلور پر باقاعدگی سے پیش کرتی آرہی ہیں اور اس سلسلے کو تب تک جاری رکھیں گی جب تک اس قانون پر مکمل عملدرآمد کو ممکن نہیں بنایا جائے گا۔ وہ اس لیے بھی پر امید ہیں کہ تمام خواتین ممبران اس موضوع پر ہم آہنگی رکھتی ہیں اور ہر اس قانون کو مشترکہ طور پر سپورٹ کرتی ہیں جو خواتین کے حقوق سے متعلق ہوں۔

خبیر پختونخوا میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم نوجوان رہنما شہوانہ شاہ کہتی ہیں کہ آئے روز ان کے علم میں گھریلو تشدد سے متاثر ہ خواتین کے کیسز آتے ہیں، بلکہ اکثر اوقات خواتین ان سے براہ راست رابطہ کرتی ہیں کہ وہ گھریلو تشدد کا شکار ہوئی ہیں اور انہیں رہنمائی اور مدد درکار ہے۔

ایسے میں شہوانہ شاہ کا خیال ہے کہ جب تک گھریلو تشدد کے خاتمے کے قانون پر عمل درآمد کو فوری ممکن بنانے کے لیے رولز آف بزنس کی جلد سےجلد منظوری عمل میں نہیں لائی جائی گی، انہیں متاثرہ خواتین کی مدد اور رہنمائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

شہوانہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ کمیٹی نے گھریلو تشدد کے خاتمے کے قانون کے لیے رولز آف بزنس ڈرافٹ تو کرلیے ہیں لیکن اس کی منظوری تاخیر کا شکار ہے۔ ان کے منظور ہونے کے بعد بھی بہت سارے اور مرحلے طے کرنے ہوں گے، تب کہیں جا کر یہ قانون موثر طریقے سے متاثرہ خواتین کو انصاف فراہم کر سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین کو میڈیکو لیگل سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے کافی مشکل کا سامنا رہتا ہے۔ اکثر خواتین کو میڈیکل رپورٹ بروقت نہ بننے پر آگے جاکر قانونی پیچدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بقول شہوانہ: ’اوپر سے پولیس کا تھانوں میں رویہ انتہائی نامناسب ہوتا ہے۔ اکثر اوقات ان کی کوشش ہوتی ہے کہ تشدد کو خالص گھریلو ذاتی معاملہ قرار دیا جائے اور مشورہ دیا جاتا ہے کہ گھر جا کر صلح صفائی کرلیں، لہذا اکثر خواتین جب اس طرح کے رویوں کا شکار ہوتی ہیں تو وہ مایوس ہوجاتی ہیں اور ایسے میں تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے اس کو اپنی قسمت سمجھ کر سمجھوتہ کرنے لگتی ہیں۔‘

 انہوں نے کہا کہ ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ اکثریتی خواتین معاشی طور پر خاندانوں اور خاندان کے مردوں پر انحصار کرتی ہیں، لہذا تھانوں اور کورٹ، کچہری کے اخراجات ان خواتین کے بس سے باہر ہوتے ہیں۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو آج بھی ہم کھل کر خواتین کے مسائل پر بات نہیں کرسکتے۔ سوشل میڈیا ہی دیکھ لیں وہاں پر تقریباً ہر موضوع پر بات کی جاسکتی ہے لیکن اگر کہیں کسی خاتون کے ساتھ تشدد و زیادتی کے واقعات کا ذکر ہو، تو لوگ الٹا ہر صورت میں خاتون کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کریں گے، لہذا جہاں ہمارے معاشرے میں آج تک ہم خواتین کے مسائل کو سنجیدگی سے زیر بحث نہ لاسکیں، وہاں ہم کیسے سیاست دانوں اور اداروں کو اتنا حساس بنا سکیں گے کہ وہ نہ صرف خواتین کے مسائل کے حل کو توجہ دے بلکہ ایسے تمام اقدامات اٹھانے میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں جو کہ خواتین کو اپنے حقوق کے حصول میں مدد دے سکے۔

اگر پاکستان کی آدھی آبادی جو خواتین پر مشتمل ہیں، وہ ایک محفوظ و پرسکون  زندگی گزارنے سے محروم رہے گی، تو ہم کیسے اپنے معاشرے کو ایک پرسکون اور محفوظ معاشرہ بنا سکیں گے ؟

اس وقت خیبر پختونخوا کے تمام اسمبلی ممبران اور خصوصی طور پر مرد ممبران کی ذمہ داری بنتی ہے کہ خواتین سے متعلق قانون سازی اور ان قوانین پر صحیح معنوں میں عمل درآمد ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے دانشمند سیاستدان ہونے کا ثبوت دیں۔

ہمیں امید ہے کہ خیبر پختونخوا کے تمام اسمبلی ممبران  اور متعلقہ ادارے فوری طور پر گھریلو تشدد کے خاتمے کے قانون کے لیے رولز آف بزنس کی منظوری دیں گے اور اس پر من و عن عمل درآمد کو ممکن بنانے کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین