پاکستان کے دریاؤں میں پانی کی کمی، سندھ میں ہائی الرٹ جاری

سندھ میں پہلے سے جاری پانی کی قلت کا بحران شدت اختیار کر گیا۔ محکمہ آبپاشی سندھ نے پانی کی قلت کے بعد ہائی الرٹ جاری کردیا۔

11 مئی 2022 کو لی گئی اس تصویر میں، ایک خاتون صوبہ سندھ کے جیکب آباد میں ہیٹ ویو کے دوران ہینڈ پمپ سے پانی سے کنٹینر بھر رہی ہے۔ (اے ایف پی)

پاکستان کے دریاؤں میں ایک بار پھر پانی کی شدید قلت کے بعد تربیلا ڈیم کے بعد چشمہ بیراج بھی تقریباً ڈیڈ لیول پر پہنچ گیا۔ سکھر بیراج کنٹرول روم کے مطابق چشمہ بیراج سے پانی کا اخراج ایک لاکھ 20 ہزار کیوسک فٹ فی سیکنڈ (کیوسک) سے کم ہوکر 75 ہزار کیوسک ہو گیا ہے۔ 

ایسی صورت حال میں سندھ میں پہلے سے جاری پانی کی قلت کا بحران شدت اختیار کر گیا۔ محکمہ آبپاشی سندھ نے پانی کی قلت کے بعد ہائی الرٹ جاری کردیا۔

سکھر بیراج کنٹرول روم کے انچارچ عبدالعزیز سومرو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں پہلے سے جاری پانی کی قلت میں ایک بار پھر شدت آگئی ہے اور سندھ کے بیراجوں پر  پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ 

عبدالعزیز سومرو کے مطابق: ’ملک کے بالائی علاقوں میں خاطر خواہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے گذشتہ ایک ہفتے سے مسلسل تربیلا ڈیم ڈیڈ لیول پر ہے، جبکہ چشما بیراج کی پانڈ لیول بھی گذشتہ 48 گھنٹوں سے ڈیڈ لیول پر پہنچ گئی ہے۔ چشما بیراج کے اخراج میں کمی کے بعد اب تونسا بیراج پر اخراج 92300 سے کم ہو کر 74700 کیوسک ہو گیا۔ 

’جبکہ سندھ کے گڈو بیراج پر پانی کم ہونا شروع ہو گیا۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران گڈو بیراج کے پانی میں 5000 کیوسکس کمی ریکارڈ کی گئی۔ اگلے 24 گھنٹوں میں سکھر بیراج پر پانی کی کمی متوقع ہے۔ جس کے بعد سندھ کے تمام کینالوں میں پانی کی شدید قلت کا اندیشہ ہے۔‘ 

وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے زراعت منظوروسان نے پاکستان کے تمام صوبوں میں پانی کی تقسیم، ضوابط اور نگرانی کرنے والے ادارے انڈس ریور اتھارٹی سسٹم (ارسا) پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا سندھ کا پانی چوری ہورہا ہے مگر ارسا اس چوری کو روکنے میں ناکام ہے۔ ارسا کی نااہلی کی وجہ سے سندھ کو اس وقت 53 فیصد پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ 

اتوار کو جاری اپنے ایک بیان میں منظور وسان نے کہا: ’ارسا کی مدد سے پنجاب کے تونسا بیراج اور سندھ کے گڈو بیراج کے درمیان لفٹ مشینوں کی مدد سے سندھ کے حصے کا 30 ہزار کیوسک پانی چوری کیا جارہا ہے۔ شکایات کے باجود ارسا اس چوری کو روکنے میں ناکام ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان سندھ کے حصے کا پانی چوری ہونے کا نوٹس لیں اور کارروائی کریں'۔ 

مشیر برائے زراعت منظوروسان نے کہا کہ چشمہ اور تونسہ بیراج پر پانی کی سطح میں 40 ہزار کیوسک کمی ہوگئی ہے۔ پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے سندھ میں کپاس اور گنے کی فصل جل چکی ہے اور صوبے میں زیادہ تر فصلیں خراب ہوچکی ہیں۔ مال مویشی کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہے، ٹھٹہ اور بدین میں مال مویشی مررہے ہیں۔ 

ان کے مطابق: ’دریائے سندھ میں پانی کی قلت کے باعث ملک کے سب سے بڑے شہر اور معاشی مرکز کراچی کو پانی مہیا کرنے والی کینجھر جھیل میں بھی پانی کی سطح کافی حد تک کم ہونے لگی ہے، جس سے خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں کراچی میں پانی کی شدید قلت ہو۔‘

ارسا ترجمان خالد ادریس رانا نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے منظور وسان کے الزامات مسترد کردیے۔ 

خالد ادریس رانا کے مطابق: ’ارسا کا کام پانی کی تقسیم کرنا ہے۔ اگر چوری ہورہا ہے تو اس کو روکنا صوبوں کا کام ہے۔ یہ کہا جارہا ہے لفٹ مشین کی مدد سے 20 سے 30 ہزار کیوسک پانی چوری کیا جارہا ہے۔ تو ایسا ممکن ہی نہیں۔ اتنا پانی لینے کے لیے کم از کم 40 ہزار ٹیوب ویل چاہیے جو چوبیس گھنٹے چلیں، تب ہی جا کر اتنا پانی دریا سے لینا ممکن ہوگا'۔‘

'درجہ حرارت بڑھنے کے بعد دریا پانی بخارات بن کر اور سیم کر زمین میں جانے والا پانی زیادہ سے زیادہ دو سے تین ہزار کیوسک ہوسکتا ہے۔ اگر تونسا بیراج سے پانی چھوڑا جارہا ہے تو وہ گُڈو پر کیوں نہیں پہنچ پارہا؟ تو اس کے لیے ایک تفصیلی تحقیقی کرنے کی ضرورت ہے'۔ 

دریاؤں میں پانی کی قلت کے متعلق بات کرتے ہوئے خالد ادریس رانا نے کہا کہ ارسا نے کئی دن پہلے تمام صوبوں کو خط لکھ کر آگاہ کردیا تھا کہ 45 سے 55 فیصد تک پانی کی قلت ہوسکتی ہے۔ پنجاب میں پانچ دن پہلے سے شدید قلت اور سندھ میں اب شروع ہوئی ہے۔

’جتنا پانی ہوگا اس حساب سے صوبوں میں بانٹا جائے گا۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کے بہاؤ میں بہتری آنا شروع ہوئی ہے۔ اگلے 48 گھنٹوں میں واضح ہوگا کہ کیا صورت حال بنتی ہے۔ اگر بہاؤ میں بہتری آجاتی ہے تو آٹھ سے 10 دنوں میں سندھ میں بھی بہتری آنا شروع ہوجائے گی۔ اتنا وقت لگتا ہے دونوں صورتوں میں۔ چاہے قلت شروع ہو تو بھی سندھ تک اس کے اثرات اتنے دنوں میں آنا شروع ہوتے ہیں اور بہاؤ میں بہتری کے لیے بھی اتنا وقت لگتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے کہ پاکستان میں مارچ کا مہینہ گذشتہ چھ دہائیوں میں گرم ترین ہونے کے بعد یہ توقع کی جارہی تھی کہ گرمی کے باعث شمالی علاقہ جات میں موجود گلیشیئر پگھلنے سے دریاؤں میں پانی کی مقدار میں اضافہ ہوگا، مگر ایسا نہیں ہوا اور ملک کے دریاؤں میں پانی کی قلت شروع ہوگئی۔

 ماہرین کے مطابق موسمی تبدیلی کے باعث اور گرمی کی شدید لہر کے باجود ملک کے شمالی علاقہ جات جہاں گلیشرز ہیں وہاں درجہ حرارت نہ بڑھنے کے باعث گلیشر نہیں پگھلے اور دریاؤں میں پانی نہ آسکا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں تاحال بارشیں بھی شروع نہیں ہوئی ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان