’ارے، تم نے پی آئی اے کا ٹکٹ کیوں خریدا؟

پاکستانی حکومت کو پی آئی اے کی سروس بہتر کرنے کے لیے بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے، تب کہیں جا کر ہم بھی پی آئی اے کے ساتھ کہہ سکیں گے، ’گریٹ پیپل ٹو فلائی وِد۔‘

ایک زمانہ تھا کہ پی آئی اے کا دنیا میں نام اور مقام تھا (فوٹو: پی آئی اے)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے:

 

’ارے، تم نے پی آئی اے کا ٹکٹ کیوں خریدا؟ ان کی تو بہت خراب سروس ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے بس میں بیٹھے ہیں۔ بہت خواری ہوتی ہے۔ فلاں ایئر لائن سے جانا تھا۔ ان کی کمال سروس ہے۔‘

یہ اور ایسی بہت سی باتیں ہمیں اس وقت سننی پڑتی ہیں جب ہم اپنے فضائی سفر کے لیے اپنی قومی ایئر لائن، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن، کا انتخاب کرتے ہیں اور اس بارے میں کسی کو بتاتے ہیں۔

پی آئی اے کا ماضی کبھی بہت شاندار تھا۔ پھر اس نے اپنے شاندار پن کو ماضی میں چھوڑتے ہوئے بےحالی کا ہاتھ تھاما اور حال میں قدم رکھ دیا۔

پھر ہم سب نے بھگتا۔ پر کیا کریں ہماری اپنی ایئر لائن ہے۔ یہ ان گنت مسائل کا شکار ہے لیکن جب ہمیں اپنے ملک کی ڈائریکٹ فلائٹ لینی ہوتی ہے تو ہم چاہتے نہ چاہتے ہوئے اسی کا انتخاب کرتے ہیں۔

ہمارا سفر تو پڑوس میں بیجنگ تک ہی ہوتا ہے۔ یہ ہمیں وہاں ساڑھے چھ گھنٹوں میں پہنچا دیتی ہے۔ وہ بھی مناسب قیمت میں۔

کرونا کی عالمی وبا سے پہلے ایک طرف کا کرایہ پاکستانی روپوں میں 50 ہزار سے لے کر 60 ہزار روپے تک ہوتا تھا۔ اب یہی کرایہ دو لاکھ روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔

’ایئر چائنا‘ بھی دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پرواز چلا رہی ہے۔ اس کا یک طرف کا کرایہ ساڑھے تین لاکھ پاکستانی روپے سے بھی زیادہ ہے۔

کرونا کے آنے سے پہلے ہم لاہور سے بیجنگ کے درمیان اپنے سفر کے لیے پی آئی اے کا ہی انتخاب کرتے تھے۔ کرایہ بھی مناسب تھا اور سفر بھی کم۔ پھر ماضی تو شاندار تھا ہی۔

بیجنگ کا پیکنگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پروازوں کے لیے کھلا تو وہاں اترنے والی پہلی بین الاقوامی پرواز پی آئی اے کی ہی تھی۔ یہ پرواز اسلام آباد سے بیجنگ آئی تھی۔

اس سے قبل اپریل 1964 میں پی آئی اے نے چین کے کسی بھی ایئرپورٹ پر اترنے والی پہلی غیر کمیونسٹ کمرشل پرواز کا ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔

10 اپریل 1964 کو چین کے صنعتی شہر گوآنگ ژُو، جسے بین الاقوامی طور پر کانٹو کے نام سے جانا جاتا تھا، کے بین الاقوامی ایئرپورٹ گوآنگ ژُو بائی یُن کی توسیع کا عمل مکمل ہو چکا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے دس روز بعد بروز 20 اپریل شنگھائی کے شنگھائی ہونگ چیاؤ ایئرپورٹ کی تکمیل بھی مکمل ہو گئی تھی۔

چینی حکام نے دونوں ہوائی اڈوں کو آزمائشی طور پر پروازوں کے لیے کھول دیا تھا۔ پاکستان چین دوستی اس وقت بھی بے مثال تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی پرواز پاکستان سے چین بلوائی گئی۔

یہ 29 اپریل 1964 کا دن تھا۔ کراچی ایئرپورٹ سے پی آئی اے کے بوئنگ 720B  نے چین کے لیے پرواز بھری۔ یہ طیارہ پہلے چین کے گوآنگ ژُو بائی یُن ایئرپورٹ پر اترا پھر وہاں سے شنگھائی ہونگ چیاؤ ایئرپورٹ آیا۔

یہ چین کے کسی بھی ایئرپورٹ پر اترنے والی پہلی غیر کمیونسٹ کمرشل پرواز تھی۔

وہ دن دونوں ممالک کے لیے ایک تاریخی دن تھا۔ پی آئی اے کی اس پرواز پر آنے والے عملے کو چین کی طرف سے سرکاری مہمانوں کا درجہ دیا گیا تھا۔

چین نے شنگھائی ہونگ چیاؤ ایئرپورٹ پر اس پرواز کے استقبال کے لیے ایک بہت بڑی تقریب کا انعقاد کیا تھا۔

ایئرپورٹ پر ہزاروں چینی بچے دونوں ممالک کے پرچم پکڑے ہوئے پی آئی اے کی اس پرواز کو خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھے۔

اس تقریب کی میزبانی چین کے عظیم رہنماؤں ماؤ زے تنگ اور چو این لائی نے کی تھی۔

اس دن پاکستان اور چین نے ڈھاکہ سے شنگھائی کے فضائی راستے کا سرکاری طور پر اعلان بھی کیا تھا۔

اس وقت پی آئی اے کے لیے سب سے بڑا چیلنج پاکستان سے چین تک فضائی راستے کی نشاندہی کرنا تھا۔

یہ پہلی بار تھا کہ پاکستان سے کوئی پرواز چین جانے والی تھی۔ یہ ایک ایسا راستہ تھا جس کی نشاندہی ہونا باقی تھی۔

اس موقعے پر پاکستان فضائیہ نے اپنے تجربے اور مہارت کی بنیاد پر کراچی سے ڈھاکہ اور وہاں سے شنگھائی کے راستے کی نشاندہی کر کے دی تھی۔

1984 میں اس وقت کے چینی صدر لی شیان نیان نے اس پرواز کی بیسویں سالگرہ کے موقعے پر ایک پاکستانی وفد کی بیجنگ میں موجود گریٹ ہال آف دا پیپل میں میزبانی بھی کی تھی۔ پھر یہ باتیں ماضی میں ہی رہ گئیں۔

کل اس بلاگ کے لیے چین کا سرچ انجن بیدو کھولا تو وہاں ہماری ایئرلائن کے نام کے ساتھ وہی مسائل لکھے ہوئے نظر آئے جن کا ہم شکار ہوتے ہیں۔

  • کیا پی آئی اے محفوظ ایئر لائن ہے؟
  • پی آئی اے کی پروازیں ہمیشہ دیر سے کیوں اڑتی ہیں؟
  • پی آئی اے کا عملہ مسافروں سے کیسا سلوک کرتا ہے؟

وغیرہ وغیرہ۔

شاندار ماضی سے ان سوالات تک کا سفر یقیناً کسی بھی ملک اور اس کے عوام کے لیے شرمناک ہے۔

پاکستانی حکومت کو پی آئی اے کی سروس بہتر کرنے کے لیے بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے، تب کہیں جا کر ہم بھی پی آئی اے کے ساتھ کہہ سکیں گے، گریٹ پیپل ٹو فلائی وِد۔

تب تک جب بھی ہم پی آئی اے کا ٹکٹ خریدیں گے، ہم سے یہی پوچھا جائے گا، ’ارے، اس کا ٹکٹ کیوں لیا؟‘

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ