لوگوں کی خبروں میں دلچسپی کم کیوں ہو رہی ہے؟

46 ممالک میں کیے گئے اس سروے میں93 ہزار افراد شریک ہوئے، اس میں سامنے آیا کہ خبروں سے گریز کرنے والوں کی شرح بڑھ کر38 فیصد ہوگئی ہے جو2017 میں29 فیصد تھی۔

25 مارچ 2021 کی اس تصویر میں جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں ٹی وی چینلز پر چلنے والی شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی فوٹیج(اے ایف پی)

روئٹرز انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے مایوس کن حالات کی وجہ سے لوگوں میں خبروں کے حوالے سے پائی جانے والی دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔

برطانوی تحقیقی گروپ کے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وبا، روس یوکرین جنگ اور روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے مشترکہ اثرات کی وجہ سے خبروں میں لوگوں کی دلچسپی کم ہو رہی ہے۔

46 ممالک میں کیے گئے اس سروے میں93 ہزار افراد شریک ہوئے، اس میں سامنے آیا کہ خبروں سے گریز کرنے والوں کی شرح بڑھ کر38 فیصد ہوگئی ہے جو2017 میں29 فیصد تھی۔

برازیل (54 فیصد) اور برطانیہ (46) سمیت بعض ممالک میں یہ تعداد دگنی ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خاص طور پر نوجوان خبروں کو مایوس کن سمجھتے ہیں لیکن خبروں کو نظر انداز کرنے کی وجہ بڑی وجہ ان کا باربار دہرایا جانا ہے بالخصوص کرونا وبا اور سیاست کے متعلق خبریں۔

ایک 27 سالہ برطانوی شہری نے محققین کو بتایا کہ:’میں ان چیزوں یا سرگرمی سے گریز کرتا ہوں جو میری پریشانی اور ایسی چیزوں کو متحرک کرتی ہیں جس سے میرا دن خراب ہو۔ میں اموات اور آفات جیسی چیزوں کے بارے میں خبریں پڑھنے سے گریز کرنے کی کوشش کروں گا۔ ‘

کئی دوسرے افراد کا کہنا تھا کہ ’خبروں کی وجہ سے ایسے دلائل سامنے آئے جن سے وہ گریز کریں گے یا بے بس محسوس کریں گے۔‘

 جب کہ بہت سے نوجوانوں کا کہنا تھا کہ اسے سمجھنا مشکل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ کے مرکزی مصنف این آئی سی نیومین نے کہا کہ یہ نتائج ’خاص طور پر خبروں کی صنعت کے لیے چیلنجنگ‘ ہیں۔

ان کے حوالے سے کہا گیا کہ:’صحافی جن موضوعات کو سب سے اہم سمجھتے ہیں مثلا سیاسی بحران، بین الاقوامی تنازعات اور عالمی وبا، یہی لوگوں کو خبر سے دور کر رہے ہیں۔‘

رپورٹ کے حوالے سے زیادہ تر تحقیق فروری میں یوکرین پر حملے سے پہلے مکمل کرلی گئی تھی، لیکن اس کے بعد پانچ ممالک میں ہونے والے سروے سے معلوم ہوا کہ یہ مسائل جنگ کے بعد مزید بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سروے میں شامل نصف ممالک میں میڈیا پر اعتماد کم ہوا اور صرف سات میں اضافہ ہوا۔

کرونا وبا کی وجہ سے جب میڈیا پر اعتماد44 فیصد تھا جو اب مجموعی طور پر42 فیصد ہے۔

امریکہ میں لوگوں نے میڈیا پر سب سے کم اعتماد کا مظاہرہ کیا جو26 فیصد ہے اور سلوواکیہ کے برابر رہا۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع ابلاغ سے تیزی سے لاتعلق ہوتے نوجوانوں کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید بڑھ رہا ہے اور 18 سے 24 سال کے 15 فیصد نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ ٹک ٹاک کو خبروں کے بنیادی ذریعہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق