خدا حافظ چین: فور جی انٹرنیٹ سے تھری جی انٹرنیٹ کا سفر

میں نے اس سفر کے دوران ایک ایسا جہان دیکھا ہے جو یہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وہ مستقبل ہمارا حال کب بنے گا، اس بارے اب کوئی امید بھی نظر نہیں آ رہی۔

24 جنوری 2019 کی اس تصویر میں بیجنگ میں چینی صحافی نئی فائیو جی ٹیکنالوجی کی لانچ کی تقریب میں شریک ہیں(اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

دنیا کے چکر بھی خوب ہیں۔ کرونا کی عالمی وبا کی وجہ سے چین کی جامعات میں زیرِ تعلیم ایسے پاکستانی طالب علم جو چین واپس نہیں آ پا رہے تھے، چین آنے کے لیے بے چین تھے۔

دوسری طرف میرے جیسے لوگ جو اس دوران وہیں رہ رہے تھے، وطن واپس لوٹنے اور اپنے گھر والوں سے ملنے کے لیے بے تاب تھے۔

دو آپشن تھے۔ یا تو خود پاکستان آ جائیں یا گھر والوں کو وہاں بلا لیں۔ دونوں ممکن نہیں تھے۔

پھر دل پر پتھر رکھا اور ٹکٹ کروا لی اور پرسوں وطن واپسی کر لی۔

تین سال گھر والوں سے دور بہت ہوتے ہیں۔

آنے سے پہلے کیا کیا نہیں سوچا تھا۔ صبح حلوہ پوری کا ناشتہ ہو گا۔ دوپہر میں امی کے ہاتھ کا کھانا۔ شام میں چائے کے ساتھ سموسے اور رات میں بار بی کیو۔

کچھ خریداری کا بھی پلان تھا، مگر سارا پلان پی آئی اے کی پرواز میں ہی خراب ہو گیا۔ اے سی بند، ٹی وی سکرینز خراب، اور سروس کا تو پوچھیں مت۔ آپ بٹن دبا دبا کر تھک جائیں گے وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلیں گے۔

مجبوراً خود جا کر پانی لانا پڑا۔

ایئرپورٹ پر کسی کے چہرے پر ماسک نہیں تھا۔ چین میں ایئرپورٹ سٹاف ماسک کے علاوہ دستانے، ٹوپی، چہرے کے سامنے احتیاطی شیلڈ بھی پہنتا ہے۔ یہاں امیگریشن کے عملے کے پاس ماسک تک نہیں تھے۔

جہاز سے نکلتے ہی کچھ لوگوں کے ارد گرد ایئر پورٹ سٹاف آ گیا۔ پتہ لگا ان لوگوں کو پروٹوکول کی شدید کمی محسوس ہو رہی تھی۔ ان کی اس کمی کو دور کرنے کے لیے ایئرپورٹ سٹاف ان کے پیچھے پیچھے گھوم رہا تھا۔

سامان ملنے تک ان کی اکڑی ہوئی گردنیں دیکھیں۔ میرا سوٹ کیس آیا تو وہ بیلٹ سے اتارا، ٹرالی پر رکھا اور باہر نکل گئی جہاں میرے گھر والے میرا انتظار کر رہے تھے۔

گھر پہنچے۔ کچھ بات چیت ہوئی پھر بجلی چلی گئی۔ میری بہن نے کہا واپڈا والے تمہیں خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

پورا دن آس پڑوس سے لوگ ملنے کے لیے آتے رہے۔ جو بھی آتا، پہلے ہاتھ ملاتا، پھر گلے ملتا، پھر سر سے پاؤں کا ایکسرے کر کے میری والدہ سے کہتا، ’آنٹی یہ پتلی ہو گئی ہے!‘

انٹرنیٹ کنیکٹ کیا تو احساس ہوا کہ میں چین میں تیز ترین انٹرنیٹ استعمال کر رہی تھی، وہاں موبائل ڈیٹا پر فور جی لکھا ہوتا تھا، یہاں تھری جی لکھا ہوا ہے۔ رفتار ایسی کہ پیج لوڈ ہونے تک آپ پورے گھر کے کام نبٹا لیں پھر بھی پیج نہ کھلے۔

کہیں جانا تھا۔ ٹیکسی منگوائی۔ ٹیکسی والا ایسے آرام سے ٹیکسی چلا رہا تھا جیسے یہ اس کی زندگی کا آخری کام ہو۔

جو سفر دس منٹ میں کٹ سکتا تھا وہ اس نے ایک لمبے روٹ پر 20 منٹ میں کاٹا۔ میں نے پوچھا تو کہا، ’جی میں لاہور میں نیا ہوں۔‘

ان کے لاہور میں نئے ہونے کی وجہ سے مجھے زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑا۔

اس لمحے چین یاد آیا جہاں ایسے نخرے کب کے ختم ہو چکے ہیں۔

آپ کسی علاقے میں نئے ہوں یا پرانے، اپنے سمارٹ فون پر تیز ترین انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی نقشے والی ایپ کی مدد سے اپنی منزل تک جانے کے تمام راستے دیکھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہاں کون سی بس، کون سی سب وے ٹرین جائے گی، یہ بھی پتہ لگ جاتا ہے۔ یہاں ایسی ٹیکنالوجی آنے میں بہت سال باقی ہیں۔ تب تک بسوں اور سب وے کا بندو بست ہو جائے تو بہترین ہے۔

وہاں ٹیکسی ڈرائیور تنگ کرے یا ان صاحب کی طرح ’میں ابھی ننھا کاکا ہوں‘ کرے تو آپ اس کی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ ٹیکسی کمپنی ہر شکایت پر فوراً کارروائی کرتی ہے۔

ایک چیز جو میں نے بہت واضح محسوس کی وہ وہاں کے لوگوں کی خوش اخلاقی اور ہماری بد اخلاقی ہے۔

یہاں ہر انسان جیسے دوسرے کو کاٹ کھانے کے لیے تیار ہے۔ ہم اپنے لوگوں سے سوشل میڈیا پر ہی رابطہ رکھیں تو بہتر ہے۔ ہم وہیں اپنا بہترین ورژن لے کر آتے ہیں۔ اصل زندگی میں ہم وہ بادشاہ ہیں جن کے پاس نہ تخت ہے نہ خزانہ پھر بھی اکڑ ایسی ہے کہ سبحان اللہ۔

اب آپ پوچھیں گے کہ چین سے پاکستان واپس آنے کے بعد میں کیسا محسوس کر رہی ہوں؟

میں ابھی تک اپنے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ فی الحال ایسے لگ رہا ہے جیسے میں مستقبل میں وقت کا سفر کر کے پاکستان واپس لوٹی ہوں۔

میں نے اس سفر کے دوران ایک ایسا جہان دیکھا ہے جو یہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وہ مستقبل ہمارا حال کب بنے گا۔اس بارے اب کوئی امید بھی نظر نہیں آ رہی۔

چلیں جی، بجلی چلی گئی۔ پھر ملاقات ہو گی۔ رب راکھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ