قطر کے ’مجلس‘ گیمرز کی نظریں ای سپورٹس لیگز پر

گیس سے مالا مال قطر میں ایک ڈیجیٹل فوج تیار ہے اور وہ ای سپورٹس سیکٹر میں قدم رکھتے ہوئے اپنے نوجوانوں کی گیمنگ مہارت کو بروئے کار لانے کی بھی امید رکھتا ہے۔

قطری فٹ بالر اور پیشہ ور سپورٹ ایتھلیٹ حمد ال مغیسب دوحہ میں ایک انٹرویو کے دوران گفتگو کر رہے ہیں(فوٹو: اے ایف پی)

رواں برس ورلڈ کپ فٹ بال کے میزبان قطر کی نظریں صرف فٹ بال پر نہیں ہیں بلکہ وہ ای سپورٹس سیکٹر میں قدم رکھتے ہوئے اپنے نوجوانوں کی گیمنگ مہارت کو بروئے کار لانے کی بھی امید رکھتا ہے۔

گیس سے مالا مال قطر میں ایک ڈیجیٹل فوج تیار ہے، جہاں بہت سے ’مجلس‘ یعنی کمرے (گھروں سے منسلک جمع ہونے کی جگہیں) طویل عرصے سے نوجوان دوستوں کے لیے ویڈیو گیم کے مرکز کے طور پر دوگنا ہو چکی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ابراہیم سماہ نے جوش میں آکر کہا: ’ہماری مجلسوں میں بہت سارے سازوسامان موجود ہیں۔ یہ جگہیں اکثر پانچ یا چھ کھلاڑیوں کے لیے کنسول کے ساتھ بنائی جاتی ہیں اور گدوں پر پراجمان نوجوان ورچوئل دنیا کی جنگوں میں مشغول رہتے ہیں۔‘

ابراہیم سماہ قطر کے پہلے وقف گیمنگ کمپلیکس ورچوسٹی میں ای سپورٹس منصوبوں کے سربراہ ہیں، جو 2019 میں قائم کیا گیا تھا اور جس نے کووڈ 19 کی وبا کے بعد مارچ میں اپنے پہلے بڑے ٹورنامنٹ کی میزبانی کی تھی۔

انہوں نے کہا: ’مجھے لگتا ہے کہ یہ سب وہیں سے شروع ہوتا ہے۔ جب آپ ان مجلسوں میں کھیلتے ہیں تو آپ بہت معمولی اور تفریحی انداز میں کھیلتے ہیں، لیکن اگر آپ اسے پیشہ ورانہ سطح پر لے جانا چاہتے ہیں اور دیگر ٹیموں اور دیگر کھلاڑیوں کے خلاف مسابقتی طور پر کھیلنا چاہتے ہیں تو آپ ای سپورٹ ایونٹس میں حصہ لینا چاہیں گے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ورچوسٹی آتا ہے۔‘

2030 تک توانائی سے اپنی معیشت کو دور لے جانے اور اسے متنوع بنانے کے لیے قطر کے ورچوسٹی کا مقصد تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی ای سپورٹس مارکیٹ کا ایک حصہ حاصل کرنا ہے، جس کی سالانہ آمدنی کا تخمینہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔

تین ماہ قبل اس نے سمیش ورلڈ ٹور کے افتتاحی راؤنڈ کی میزبانی کی تھی، جو نینٹینڈو کے کراس اوور فائٹنگ گیم سپر سمیش بروس کی چیمپیئن شپ تھی، جس میں فاتح کے لیے انعامی رقم میں پانچ ہزار قطری ریال (1300 ڈالر) تھے۔

2021 کے آخر میں ایک ای سپورٹس فیڈریشن بنائی گئی تھی اور گیمنگ کو قطر کے انٹرنیشنل سکول آف لندن کے نصاب میں بھی ضم کیا گیا ہے۔

’ایک سنجیدہ بات‘

24 سالہ احمد ال مغیسب پہلے ای سپورٹس کے ویٹرن ہیں۔ انہوں نے پہلی بار 2017 میں فیفا میں فٹ بال میں قطر کی نمائندگی کی تھی اور گذشتہ سال کے اوائل میں قومی ٹیم کو عالمی رینکنگ میں دسویں نمبر پر لے گئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ ماضی میں قطری معاشرے کے ای سپورٹس کے بارے میں بات کرتے ہوئے یاد کرتے ہیں کہ بنیادی طور پر انہیں پہلے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی، جب تک انہیں بڑی پیشکش اور بھاری ویورشپ سے ممکنہ آمدنی کا خیال آیا۔ ’یہ پہلے کی طرح مشکل نہیں ہے۔ لوگ اب سمجھتے ہیں کہ ای سپورٹ ایک سنجیدہ چیز ہے۔‘

خلیفہ الہارون، جو ایک تاجر اور انفلوئنسر ہیں اور سوشل میڈیا پر ’مسٹر کیو‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، قطر میں ای سپورٹس کے بڑے حامی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قطر کو مزید کلب اور ای لیگز بنانے، مزید ٹورنامنٹس کی میزبانی کرنے اور سرمایہ کاری اور سٹوڈیوز کو راغب کرنے کی ضرورت ہے، جو اصل مواد تخلیق کریں گے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’میرا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ قطر مشرق وسطیٰ میں ایک رہنما ہو، یقیناً گیمنگ کے معاملے میں بھی ایک عالمی رہنما ہو۔ میں یہاں سب سے بڑے ٹورنامنٹ ہوتے دیکھنا چاہتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ لوگ آکر اپنی کمپنیاں اور اپنی ٹیمیں قطر سے بھی باہر بنانا چاہیں۔‘

’سافٹ پاور‘

ہارون کے ساتھ 35 سالہ جیک البلوشی شریک ہیں، جو ’پی او بی جی: بیٹل گراؤنڈز‘ کے ٹورنامنٹ کا اہتمام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی ایک پلیٹ فارم تعمیر کر لیا ہے۔ ’یہ آن لائن اور سب کچھ ہے، لیکن مجھے کمپنیوں کو یہ احساس کروانے کی ضرورت ہے کہ ہم لوگ سخت محنت کر رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ چیزیں درست سمت میں جا رہی ہیں۔‘

ایک بڑی فون کمپنی اوریڈو ہے، جس نے مئی میں 25,000 ڈالر کی انعامی رقم کے ساتھ فیفا گیم ٹورنامنٹ کی سرپرستی کی تھی اور پیشہ ورانہ ٹیم کی تعمیر کے لیے ٹیلنٹ سکاؤٹنگ پروگرام شروع کیا ہے۔

اس کے پہلے دو بھرتی ہونے والے احمد ال مغیسب ہیں جو فیفا کھیلتے ہیں اور یوسف الدفا جو فورٹ نائٹ میں مقابلہ کرتے ہیں، جو ایپک گیمز کی طرف سے بنائی گئی جنگ ہے۔

قطر واحد ملک نہیں ہے جو ای سپورٹس میں اپنی شناخت بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر روایتی طور پر جنوبی کوریا اور چینی کھلاڑیوں کا غلبہ رہا ہے لیکن مختلف کھیلوں میں دنیا بھر میں اس کی ٹیمیں موجود ہیں۔

ای سپورٹس کا مطالعہ کرنے والے ماہر سماجیات نکولس بیسومبس نے کہا کہ گیمنگ تیل کی دولت سے مالا مال خلیج کے ارد گرد مقبول ہے اور قطر اور سعودی عرب کی جانب سے بہت مضبوط کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا عروج ایک حالیہ واقعہ ہے جو وبا سے تھوڑا پہلے شروع ہوا تھا۔

’یہ سافٹ پاور ہے تاکہ ان کی شبیہ اور کشش کو بہتر بنایا جا سکے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل