ایران: پستے کے قدیم بیوپاری کاروبار بیٹی کے سپرد کرنے کو تیار

ایران کے گرینڈ بازار میں پستے کے سب سے پرانے تاجر 88 سالہ عباس امامی اپنی بیٹی کو اس مشکل کاوربار کے گن سکھا رہے ہیں، جس پر آج تک مردوں کا غلبہ رہا ہے۔

تہران کے مشہور گرینڈ بازار کے ایک کونے میں پستے کا کاروبار چلانے والے ایران کے سب سے پرانے بیوپاری خاموشی سے ایک انقلاب کی تیاری کر رہے ہیں۔

وہ اپنی چھوٹی بیٹی کے حوالے ایک ایسا کاروبار کرنے جا رہے ہیں جس پر مردوں کا غلبہ ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 88 سالہ عباس امامی نے 15 سال کی عمر میں اس کاروبار میں اپنے والد کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔

سات دہائیوں سے چلنے والی اس دکان میں ملنے والے پستوں کے بیگز پر اب بھی ’ایک صدی سے زائد کا تجربہ‘ درج ہوتا ہے۔

عباس امامی یہ نہیں جانتے کہ کب ان کے خاندان نے اس کاروبار کا آغاز کیا، مگر وہ بتاتے ہیں کہ ’میرے والد میری نانا کے خشک میوجات کی دکان میں کام کرتے تھے اور پھر اپنا کاروبار شروع کیا۔‘

وہ یاد کرتے ہیں کہ دن میں وہ دکان میں والد کی مدد کرتے تھے اور رات میں پڑھتے تھے۔

انہوں نے 1975 میں اس دکان کا چارج سنبھالا۔ ’مجھے اس کاروبار کے راز جاننے میں ایک دہائی لگی۔‘

امامی اب اپنا وسیع تجربہ اپنی 50 سالہ بیٹی مرجان کو دے رہے ہیں جو ان کے بعد ’شمس روسٹڈ نٹس‘ نامی کاروبار کو چلائیں گی۔

پستے زیادہ ایران کے صوبوں کرمان اور سمنان میں اگاتے جاتے ہیں۔

ہر دو یا تین ماہ میں کاشکاروں کے لیے کام کرنے والے ایجنٹ آ کر آرڈر درج کرواتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بازار میں ان کے کاروباری حریف اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ امامی اس علاقے میں پستے کے سب سے پرانے بیوپاری ہیں۔

امامی نے بتایا کہ وہ پانچ اقسام کے پستے خریدتے ہیں اور جو دیکھنے میں، ذائقے میں، میعار میں اسی لیے قمیت میں مختلف ہیں۔

ایران ترکی اور چین کے بعد پستے کے استعمال کے لحاظ سے دنیا کے تین بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی طلب خاص طور پر نوروز میں بڑھ جاتی ہے۔

اکتوبر میں ایران میں دو لاکھ 80 ہزار ٹن پستے کی پیدوار ہوئی، جس میں نصف ملک میں ہی استعمال ہوا اور باقی دنیا کے 75 ممالک کو  برآمد کیا گیا، جس سے ملک میں 90 کروڑ ڈالر آئے۔

امامی کہتے ہیں کہ اس کاروبار میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ صحیح وقت پر خیرداری کریں۔

ان کی بیٹی مرجان نے کہا کہ کرونا وبا کے دوران ان کے والد دکان پر نہیں آ سکتے تھے، تو اس لیے نوروز کے دنوں میں انہوں نے مدد کی اور پھر یہیں رہ لیا۔

ان کا کہنا تھا: ’اس کاروبار کو چلانا بہت مشکل ہے۔ صحیح قیمت پر مال لینا آسان نہیں ہے۔‘

انہوں نے کاروبار سے جڑی مزید مشکلات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حفظان صحت، سٹوریج اور دیگر مرحلے کافی دشوار ہیں۔‘

ان کے والد کہتے ہیں 1950 سے اس کاروبار میں کافی تبدیلیاں آئیں ہیں کیونکہ پہلے اس میں صرف امیر بیوپاری ہی کام کرتے تھے۔

’جب میں چھوٹا تھا تو صرف چار ہول سیل ٹریڈنگ ہاؤس تھے۔ آج ان کی تعداد 10 گنا زیادہ ہے۔‘

70 سال سے زائد کام کرنے کے باوجود وہ اب بھی اس کاروبار میں مکمل خیر باد کرنے تو تیار نہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’سب سے پہلے سیکھنا ضروری ہے۔ یہ آسان کاروبار نہیں، مگر وہ سیکھ لے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا