پانی، پاکستان، پالیسی، پریشانی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ پانی کا زیاں زراعت کے شعبے میں ہوتا ہے، جہاں کسان ایک گلاس پانی کی جگہ تقریباً ایک بالٹی پانی استعمال کرتے ہیں۔

11 مئی 2022 کی اس تصویر میں سندھ کے شہر جیکب آباد کے مضافات میں خواتین برتن لیے پانی بھرنے جارہی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

چولستان میں ہر سال پانی کی قلت، لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی۔۔۔ یہ دو تشویش ناک حقائق ہم اتنے عرصے سے سن رہے ہیں کہ اب یہ ہمارے لیے معمول کی خبر بن چکے ہیں، حالانکہ انہیں بریکنگ نیوز سے بھی زیادہ اہم ہونا چاہیے۔

پانی زندگی ہے، صحت ہے، معیشت ہے، زراعت ہے، صنعت ہے، بجلی ہے، لیکن ہمیں ابھی تک اس مسئلے کی سنگینی کا احساس نہیں ہو رہا۔ یوں گمان ہوتا ہے کہ شاید یہود و ہنود ہم میں مایوسی پھیلا کر ہمارا ایمان آزما رہے ہیں۔

چند ہفتے قبل راقم کا شمار بھی انہی با شعور لوگوں میں ہوتا تھا جنہیں لگتا ہے کہ بس ایک دفعہ مون سون ہو گیا تو سب صحیح ہو جائے گا، کھیت سیراب ہو جائیں گے۔ زیر زمین پانی کی سطح بھی بلند ہو جائے گی۔ اور ہاں بھئی لاہور اور کراچی میں پانی کی کمی سمجھ میں آتی ہے، لیکن اس کا زراعت پر کیا اثر ہو گا بھلا۔ یہ کون سا ہماری زرعی ضروریات کے کفیل ہیں۔

شدید دھچکا اس وقت لگا جب پتا چلا کہ اٹک کے نواحی دیہاتوں میں پانی اتنا کم ہے کہ لوگ بلا مبالغہ دو دو گھنٹے کنوؤں کے پاس بیٹھ کر پانی چڑھنے کا انتظار کرتے ہیں اور جب اللّٰہ اللّٰہ کر کے کنویں کی تہہ میں پانی کی سطح بلند ہوتی ہے تو بس دو چار گھڑے ہی بھر پاتے ہیں اور پانی ندارد۔

چولستان تو چلو صحرا ہے اور صحرا کی قسمت میں پیاس ہے۔ یہ لکھنا بے حسی ہے لیکن ہم ایک عام سوچ کی بات کر رہے ہیں۔ اسی طرح لاہور یا کراچی میں پانی کی قلت پر ہم آبادی کو موردالزام ٹھہرا کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں کہ شہر کی استطاعت سے بڑھ کر اس پر انسانوں کا بوجھ لاد دیا گیا۔

لیکن ضلع اٹک نہ تو بالکل بنجر اور صحرا ہے، نہ ہی اتنا گنجان کے اپنی آبادیوں کا بوجھ خود نہ اٹھا پائے۔ نہ تو یہاں صنعتوں کی بھرمار ہے کہ ملوں اور مشینوں نے سارا پانی چوس لیا۔ حتیٰ کہ دریائے سندھ بھی اٹک کی مغربی سرحد سے پرے بہتا ہے۔

جغرافیائی اعتبار سے سطح مرتفع پوٹھوہار میں واقع ضلع اٹک بے شک اتنا ہرا بھرا نہیں ہے کہ آپ گرمیاں گزارنے وہاں چلے جائیں لیکن یہاں کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے۔ مونگ پھلی کے باغات، مکئی کے کھیت اور گندم کی فصل یہاں کی مشہور زرعی پیداوار ہیں۔

2014 میں ورلڈ بینک کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں تفصیلاً لکھا گیا کہ عالمی بینک ضلع اٹک میں آبپاشی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کسانوں کو معاونت فراہم کرے گا۔ اسی طرح 2018 میں بھی ایک ایسی ہی رپورٹ شائع کی جاتی ہے لیکن کیا یہ سب کاغذی ہے؟

پھر کیا وجہ ہو گئی کہ علاقے کے مکینوں کو ماہ اپریل کے آغاز سے ہی پانی کے لیے کئی کلومیٹر دور جانا پڑ رہا ہے۔ تازہ صورت حال یہ کہ کنویں متعدد لیکن خشک۔ انسان اور مویشی بہت کم پانی پر گزارا بلکہ اکتفا کر رہے ہیں۔

علاقے کے لوگ کبھی ایک دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں تو کبھی دوسری جگہ درخواست دے رہے ہیں۔

اب تک یہ تحریر پڑھ کر آپ کو لگنے لگا ہے کہ ہم کوئی بہت شاندار تجویز پیش کرنے والے ہیں۔ میں تو خود حیران و پریشان ہوں کہ کوئی ہے صاحب ادراک جو یہ گتھی سلجھا دے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ وجہ ہے کہ پاکستان کے ماہر آبی امور و آب رسانی ( یہ ہائیڈرولوجسٹ کا خود ساختہ ترجمہ ہے) ڈاکٹر حسن عباس سے رہنمائی طلب کی۔ ڈاکٹر صاحب کی تحقیق و تجربے کی رُو سے پاکستان میں سب سے زیادہ پانی کا زیاں زراعت کے شعبے میں ہوتا ہے جہاں کسان ایک گلاس پانی میں بہت اچھے طریقے سے کام لے سکتے ہیں وہاں تقریباً ایک بالٹی پانی استعمال کیا جاتا ہے۔

راقم جیسے اہل علم و دانش کو مزید ورطہ حیرت میں ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیم بنانے پر وقت، محنت اور سرمایہ ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ زیر زمین پانی ذخیرہ کرنے کے نظام کو جدید پیمانے پر منظم کیا جائے جو کہ نسبتاً کم خرچ اور جلد تکمیل ہونے والا متبادل بندوبست ہے اور شہری اور زرعی ضروریات کے لیے یکساں مفید ہے۔

ڈاکٹر حسن عباس کے مطابق ضلع اٹک میں زیر زمین پانی کی سطح میں واضح کمی بلکہ فقدان کی ایک بڑی وجہ آج سے تقریباً 20 سال قبل کنکریٹ سے تیار کردہ دنیا کی سب سے لمبی نہر غازی بروتھا کی تعمیر ہے۔ تقریباً 52 کلومیٹر طویل اس پختہ نہر کی وجہ سے دریائے سندھ کا پانی اردگرد کی زمین میں جذب نہیں ہو پاتا۔ گویا نہر کی تعمیر نے پانی کے زیر زمین ذخیرہ ہونے کی قدرتی عمل کو بتدریج متاثر کیا، یعنی جتنا پانی نلکوں اور کنوؤں کے ذریعے ہم زمین سے کھینچ رہے ہیں اتنا پانی زمین کو میسر نہیں رہا۔

بہر حال شکوہ ظلمت شب سے بہتر ہے کہ اپنے حصے کی شمع جلائی جائے۔ آج کل مون سون کا موسم ہے۔ یہ سال کا وہ بہترین وقت ہے جب انفرادی طور پر اٹک اور ایسے علاقوں کے لوگ جہاں پانی کی کمی ہے اپنے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔ عمومی طریقہ کار تو یہ کہ لوگ بارشوں کا پانی گھر کی چھت پر اکھٹا کرکے استعمال کرتے ہیں لیکن اگر اسی پانی کو پائپ کے ذریعے کسی کنویں میں جمع کر لیا جائے تو پانی آہستہ آہستہ جذب ہو کر زیر زمین جمع ہو جائے گا اور لمبے عرصے تک کام آئے گا۔ یہ بہت بڑی سادہ سی سائنس ہے۔

لیکن مجھے کیا؟ میں کیوں اتنی فکر کروں؟ نہ تو میں لاہور میں مقیم ہوں، نہ کراچی میں میرا آنا جانا ہے۔ نہ میرا سندھ سے کوئی تعلق واسطہ ہے، نہ میری اٹک میں زمینیں ہیں اور نہ ہی میرا چولستان سے کوئی لینا دینا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات