نیند نہیں آ رہی، تو پھر یہ نیا گدا کیسا رہے گا؟

انجینیئرز نے ایک ایسا گدا اور تکیہ تیار کیا ہے جو انسانی جسم پر نیند طاری کرنے کے لیے اسے گرمائش اور ٹھنڈک پہنچانے کا گُر استعمال کرتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عام طور پر لوگوں کو اس وقت نیند آتی ہے جب رات کو ان کے جسم کا درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے(پکسابے)

انجینیئرز نے پیش رفت کرتے ہوئے ایک ایسا گدا اور تکیہ تیار کیا ہے جو انسانی جسم پر نیند طاری کرنے کے لیے اسے گرمائش اور ٹھنڈک پہنچانے کا گُر استعمال کرتا ہے۔

اس طرح لوگوں کی نیند کو بہتر بنانے کے لیے نئے طریقوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

آسٹن میں یونیورسٹی آف ٹیکسس کے محققین سمیت سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عام طور پر لوگوں کو اس وقت نیند آتی ہے جب رات کو ان کے جسم کا درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے۔ یہ عمل 24 گھنٹے کے چکر کا حصہ ہے۔

نئے گدے کے بارے میں حال ہی میں جرنل آف سلیپ ریسرچ نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا۔

یہ گدا انسانی جسم کو نیند محسوس کرواتا ہے اور جلد سو جانے میں لوگوں کی مدد کرتا ہے۔

ہارورڈ میڈیکل سکول کے ریسرچ فیلو اور تحقیق کے شریک مصنف شہاب حقائق نے ایک بیان میں کہا ’ہم جسم کے اندرونی درجہ حرارت کے حساس سینسرز پر کام کر کے سونے کی تیاری کو آسان بناتے ہیں تاکہ جسم کے تھرموسٹیٹ کو مختصر وقت کے لیے ایڈجسٹ کیا جا سکے جس سے وہ سمجھتا ہے کہ درجہ حرارت اسے زیادہ ہے جتنا کہ وہ حقیقت میں ہوتا ہے۔‘

سائنس دانوں کے مطابق یہ گدا گردن کی جلد کو گرم تکیے سے ہدف بناتا ہے کیوں کہ جسم کا یہ حصہ ’انسانوں کے لیے اہم جسمانی تھرموسٹیٹ‘ ہے۔

یہ بیک وقت گردن، ہاتھوں اور پیروں کو گرم کرتے ہوئے جسم کے مرکزی حصوں کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ جسم کی حرارت کو کم کرنے کے لیے خون کے بہاؤ میں اضافہ کرتا ہے۔

سائنس دانوں نے دو اقسام کے گدوں کے ساتھ تجرجہ کیا ہے۔ پہلا وہ گدا جس میں جسمانی درجہ حرارت کو متاثر کرنے کے لیے پانی استعمال کیا جاتا ہے اور دوسرا وہ جس میں ہوا استعمال ہوتی ہے۔

انہوں نے 11 لوگوں پر تجربہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ معمول سے دو گھنٹے پہلے سونے کے لیے بستر پر چلے جائیں۔

کچھ راتوں کو گدے کے ٹھنڈک اور گرمائش پہنچانے کے نظام کو استعمال میں لائیں اور بعض میں اسے استعمال نہ کریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حرارت اور ٹھنڈک پہنچانے والے گدوں نے تجربے کے شرکا کو ان راتوں میں بھی جب وہ وقت سے پہلے سونے کے لیے چلے گئے انہیں 58 فیصد تیزی سے نیند میں جانے میں مدد کی، ان راتوں کے مقابلے میں جب انہوں نے گدوں کا ٹھنڈک اور حرارت پہنچانے والا نظام استعمال نہیں کیا تھا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جسم کے اندرونی درجہ حرارت کو کم کرنے کی بدولت نیند میں جانے کے لیے درکار وقت کافی کم ہو گیا اور نیند کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔

تحقیق کے ایک اور شریک مصنف کنیتھ ڈِلر کے بقول: ’یہ بات قابل ذکر ہے کہ گردن کی ہڈی کو حرارت اور ٹھنڈک پہنچانا جسم کو سگنل بھیجنے میں کتنا مؤثر ہے تاکہ بنیادی درجہ حرارت کو کم کرنے اور نیند کے غلبے کو تیز کرنے کے لیے ہاتھوں اور پیروں میں خون کا بہاؤ بڑھایا جاسکے۔‘

ڈاکٹر ڈلر کا مزید کہنا تھا کہ’یہی اثر رات کے وقت فشار خون کو تھوڑا سا کم کرتا ہے جس سے دل کے نظام کو اس دباؤ سے نکلنے میں مدد ملتی ہے جس کا وہ دن میں جاری رہنے والی سرگرمیوں کے دوران خون کا بہاؤ برقرار رکھنے کی وجہ سے شکار رہتا ہے۔ یہ عمل طویل مدتی صحت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت