’اسرائیل کے لیے جاسوسی‘: ایران میں بہائی کمیونٹی کے ارکان گرفتار

ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے اپنی ویب سائٹ پر گرفتار ارکان کی تعداد بتائے بغیر کہا کہ انٹیلی جنس ایجنٹس نے ’بہائی جاسوس پارٹی کے متعدد مرکزی ارکان کو گرفتار کیا ہے۔‘

19 جون 2011 کی اس تصویر میں برازیل میں ریو ڈی جنیرو کے ساحل سمندر پر بہائی مذہب کے ارکان ایک مظاہرے کے دوران ایرانی حکام سے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں 20 سال قید کی سزا پانے والے اپنی کمیونٹی کے سات افراد کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے (فائل فوٹو: اے ایف پی/ اینا کیرولینا فرنینڈس)

ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے پیر کو بتایا ہے کہ اس نے بہائی اقلیت کے چند ارکان کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ اسرائیل میں واقع ایک مرکز کے لیے جاسوسی اور اپنے مذہب کو پھیلانے کے غرض سے غیر قانونی طور پر کام کر رہے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت نے اپنی ویب سائٹ پر گرفتار ارکان کی تعداد بتائے بغیر کہا کہ انٹیلی جنس ایجنٹس نے ’بہائی جاسوس پارٹی کے متعدد مرکزی ارکان کو گرفتار کیا ہے جو بیت العدل کے نام سے معروف صیہونی مرکز سے براہ راست منسلک تھے۔‘

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ان گرفتاریوں نے بہائی برادری کے خلاف ممکنہ کریک ڈاؤن کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر جانے والی ویڈیوز میں مشتبہ افراد میں سے ایک کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ ’وزارت کے ایجنٹ اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔‘

ایران میں بہائیوں کو ’بدعتی‘ سمجھا جاتا ہے اور ان پر اس حوالے سے شک کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔ ایران کے شمالی شہر حیفہ میں بہائی کمیونٹی کا روحانی مرکزی قائم ہے۔

وزارت نے کہا کہ بہائیوں کے مرکز نے ان مشتبہ افراد کو ایران میں اس ممنوعہ فرقے کو بحال کرنے اور ’با ہدف معلومات اکٹھی کرنے‘ کی ہدایت کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید کہا گیا کہ ان افراد کو ایران کے ’تعلیمی ماحول میں مختلف سطحوں پر دراندازی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، خاص طور پر ملک بھر کے چھوٹے بچوں کے سکولوں میں۔‘

ایران کئی اقلیتوں کو مذہبی آزادی کی اجازت دیتا ہے لیکن یہاں بہائی عقیدے پر پابندی ہے۔ بہائی کمیونٹی کے افراد 1817 میں پیدا ہونے والے ایک ایرانی بہاء اللہ کو ’خدا کا بھیجا ہوا نیا نبی‘ مانتے ہیں۔

بہائی کمیونٹی کا دعویٰ ہے کہ ان کے دنیا بھر میں سات کروڑ سے زیادہ پیروکار ہیں، جن میں سے تقریباً تین لاکھ ایران میں موجود ہیں۔

2013 میں ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک فتوے میں ایرانیوں پر زور دیا تھا کہ وہ ممنوعہ بہائی فرقے کے ارکان کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاملات سے گریز کریں۔

ایران میں مسیحیوں اور یہودیوں جیسے غیر مسلموں کو عبادت کرنے کی اجازت ہے لیکن مسلمانوں کے دوسرے مذاہب کو قبول کرنے کی کوشش کرنے کے خلاف یہاں سخت قوانین رائج ہیں۔

2018 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں ایران سے اقلیتی مذاہب بشمول بہائیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس قرارداد میں دیگر خلاف ورزیوں کے علاوہ ’ہراسانی، دھمکیاں دینا، ظلم و ستم، گرفتاریوں اور نظربندی‘ کا حوالہ دیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا