پاکستانی طالبان باعزت اپنے علاقوں میں واپسی چاہتے ہیں: بیرسٹر سیف

بیرسٹر سیف نے بتایا کہ ’یہ ایسا نہیں ہے کہ ہم ان سے ملے اور مسئلہ حل ہوگیا اور طالبان نے بیگ وغیرہ اٹھائے اور اپنے علاقوں کو واپس چلے گئے۔ اس کے بعد مزید ملاقاتیں بھی ہوں گی اور امید یہی ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔‘

کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے امن مذاکرات کے لیے کابل جانے والے وفد اور طالبان رہنماؤں کی تصویر (تصویر:سینیٹر ہلال الرحمٰن ٹوئٹر)

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ ’امن مذاکرات‘ کے سلسلے میں پاکستان سے جانے والے وفد کے سربراہ اور خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے بتایا کہ تین دن ٹی ٹی پی کے ساتھ ملاقاتوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فریقین سنجیدہ ہیں اور کامیابی کی امید ہے۔

ٹی ٹی پی سے امن مذاکرات کے لیے جانے والے وفد میں قبائلی اضلاع  کے کچھ اراکین اسمبلی اور قبائلی مشران بھی شامل ہیں۔ یہی وفد کچھ عرصہ قبل بھی کالعدم ٹی ٹی پی سے ملاقات کے لیے گیا تھا۔

بیرسٹر سیف نے کابل سے فون پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’تین دن میں ٹی ٹی پی کے ساتھ ملاقاتیں اچھے ماحول میں ہوئیں تاہم تقریبا 20 سالوں سے یہ مسئلہ چل رہا تھا تو جتنا یہ مسئلہ پیچیدہ ہے اتنا ہی اس کا حل بھی پیچیدہ ہو گا لیکن ہمیں امید ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔‘

بیرسٹر سیف نے بتایا کہ ’طالبان کی جانب سے قبائلی اضلاع کی آزاد حیثیت دوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کو باوقار اور باعزت طریقے سے واپس اپنے علاقوں میں بھجوایا جائے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اب چوں کہ یہ مطالبات سامنے آئے ہیں اور فریقین نے ایک دوسرے کو سن لیا ہے تو اب اس کے بعد پاکسان واپس جا کر پارلیمنٹ، پاکستانی حکام اور قبائلی اضلاع کے لوگوں کے ساتھ بھی اس پر بات چیت ہوگی اور ان مطالبات کو مختلف زاویوں سے دیکھا جائے گا۔‘

بیرسٹر سیف نے بتایا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ ہم ان سے ملے اور مسئلہ حل ہو گیا اور طالبان نے بیگ وغیرہ اٹھائے اور اپنے علاقوں کو واپس چلے گئے۔ اس کے بعد مزید ملاقاتیں بھی ہوں گی اور امید یہی ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔‘

بیرسٹر سیف سے جب پوچھا گیا کہ ٹی ٹی پی کے علاوہ بھی کچھ کالعدم گروپس ہیں جو وزیرستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں سرگرم ہیں تو کیا حکومت ٹی ٹی پی کے بعد باقی گروہوں سے بھی مذاکرات کرے گی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’فی الحال تو ہم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں جو پاکستان کے زیادہ تر حصے میں موجود ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ٹی ٹی پی کے بعد اگر کوئی بھی گروپ چاہتا ہے کہ وہ ہتھیار پھینک کر بات چیت کرے تو ہم بھی بات کریں گے اور اگر کوئی جنگ کرنا چاہتا ہے تو پھر بدقسمتی سے ہم ان کے ساتھ جنگ کریں گے۔‘

کالعدم ٹی ٹی پی نے بیرسٹر سیف کی سربراہی میں کابل جانے والے وفد کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

پاکستانی وفد کے سربراہ نے بتایا کہ ’ابھی جو صورت حال ہے، ہم ملاقاتیں کر رہے ہیں لیکن مطالبات کے ماننے نہ ماننے پر بات نہیں ہوئی ہے کیوں کہ اس کے بعد مزید ملاقاتیں بھی ہوں گی اور امید ہے مسئلے کا حل نکل آئے گا۔‘

مذاکرات کا یہ دور رواں سال مئی میں شروع ہوا تھا جب قبائلی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن سے ایک جرگہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے کابل گیا تھا۔

مذاکرات کے بارے میں ٹی ٹی پی نے کہا تھا کہ ان مذاکرات میں افغان طالبان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور فریقین سے نرمی کی درخواست کر رہے ہیں۔

ٹی ٹی پی نے گذشتہ مہینے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ان مذاکرات میں پاکستان حکومت کی جانب سے نمائندگی پشاور کے کور کمانڈر جنرل فیض حمید کر رہے ہیں جبکہ ٹی ٹی پی کی جانب سے ان کے امیر مفتی نور ولی کر رہے ہیں۔

تین دن پہلے جو وفد ٹی ٹی پی کے ساتھ ملنے کابل گیا تھا، ان سے پہلے پاکستانی علما کا ایک وفد مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں کابل گیا تھا اور وہاں پر ٹی ٹی پی کے رہنماوں سے ملاقات کی تھی۔

علما کے وفد سے ملاقات کے بارے میں ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ ’ہم ان علما کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ملنے آئے لیکن ہم قبائلی اضلاع کی آزاد حیثیت کو واپس بحال کرنے کے مطالبے پر ڈٹے رہیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان