پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں کب کیا ہوا؟

پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے دائر مقدمے کی آٹھ سالوں میں 190 سماعتیں اور الیکشن کمیشن اور اعلی عدالتوں میں درجنوں درخواستیں داخل ہوئیں جبکہ آدھے درجن سے زیادہ وکیل تبدیل کیے گئے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان 26 مئی، 2022 کو اسلام آباد میں ایک ریلی کے دوران پارٹی کارکنوں کو ہاتھ ہلا کر جواب دے رہے ہیں (اے ایف پی)

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے منگل کو ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر ممنوعہ فنڈز لینا ثابت ہو گیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ’متفقہ‘ فیصلہ سنایا۔ فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن میں غلط  ڈیکلیریشن جمع کرایا۔

پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ ​​کا مقدمہ پارٹی کے بانی ارکان میں سے ایک اکبر شیر بابر (المعروف اکبر ایس بابر) نے نومبر 2014 میں الیکشن کمیشن میں دائر کیا تھا۔

انہوں نے پارٹی پر غیر اعلانیہ اکاؤنٹس کے ذریعے غیر ملکی کمپنیوں اور غیر ملکی شہریوں سے رقوم حاصل کرنے کا الزام لگایا تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن کی تحقیقات کے دوران کئی باتیں سامنے آئیں۔

تحریک انصاف کی قیادت شروع سے ہی اس مقدمے کے 'غیر قانونی' ہونے کے باعث مخالفت كرتے رہے ہیں، جبکہ کئی موقعوں پر انہوں نے دوسری سیاسی جماعتوں خصوصاً ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف پاکستان مسلم لیگ ن کے فنڈز کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

حال ہی میں تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فرخ حبیب نے اچھی شہرت رکھنے والے بین الاقوامی آڈیٹرز سے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے فنڈز کی تحقیقات کی تجویز پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ 2014 کے بعد سے کیس کی تقریباً 200 سماعتیں ہوئیں، جبکہ مقدمہ دائر ہونے کے وقت سے تحریک انصاف نے 30 مرتبہ سماعتوں میں التوا مانگا اور چھ مرتبہ مقدمے کے ناقابل سماعت ہونے یا الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے باہر ہونے کی درخواستیں دائر کیں جبکہ نو بار وکیل تبدیل کیے۔

الیکشن کمیشن نے 21 بار تحریک انصاف کو دستاویزات اور مالی ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کیں۔

یہ مقدمہ الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے تین رکنی بینچ نے سنا، جس میں دو دیگر اراکین میں نثار احمد درانی اور شاہ محمد جتوئی شامل تھے۔

پاکستان تحریک انصاف نے اس کیس کی وجہ سے الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر پی ٹی آئی مخالف جماعتوں کی طرف داری کا الزام لگایا اور ملک میں انتخابات کروانے کے ذمہ دار ادارے کے خلاف گاہے بگاہے احتجاج بھی کیا۔

الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے اپنے خلاف الزامات کو متعدد بار مسترد کر چکا ہے۔

گذشتہ سال اس وقت کے وفاقی وزیر فرخ حبیب نے الیکشن کمیشن میں ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں انہوں نے ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی پر فنڈز چھپانے کا الزام لگایا، جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی نے دونوں جماعتوں کو بھی طلب کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے بینچ نے اس سال جون میں فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ مقدمے میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب چند روز قبل برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا کہ پاکستانی ٹائیکون عارف نقوی نے پاکستان تحریک انصاف کو براہ راست 21 لاکھ ڈالرز کی مجموعی رقم منتقل کی۔ رپورٹ کے مطابق یہ رقم تین قسطوں میں بھیجی گئی۔ 

اس رپورٹ پر ردعمل میں پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر لکھا: ’یہ انتہائی دلچسپ بات ہے کہ شریف برادارن کے 20 ملین امریکی ڈالرز حاصل کرنے کا ذکر صرف پاسنگ ریمارکس کے طور پر کیا گیا ہے جب کہ پی ٹی آئی کی قانونی فنڈنگ کے 13 لاکھ ڈالرز کو ’سنگین‘ دکھایا گیا ہے۔ فنانشل ٹائمز کی اینگلنگ کچھ پاکستانی میڈیا گروپس سے بھی زیادہ گئی گزری ہے۔‘

فارن فنڈنگ اور قانون

دستور پاکستان کے تحت ہر شہری کو سیاسی جماعت بنانے یا اس کا رکن بننے کا ناقابل تنسیخ بنیادی حق حاصل ہے۔ تاہم آئین کے آرٹیکل 17(3) کے تحت سیاسی جماعت کے لیے 'قانون کے مطابق اپنے فنڈز کے ذرائع کا محاسبہ کرنا' ضروری قرار دیا گیا ہے۔ 

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی تشکیل اور کام کرنے سے متعلق قانون پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے سیکشن ٹو سی فارن فنڈڈ یا غیر ملکی امداد حاصل کرنے والی سیاسی جماعت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے:

 (c) 'غیر ملکی امداد یافتہ سیاسی پارٹی' کا مطلب وہ سیاسی جماعت ہے جو

(i) کسی بیرونی ملک کی کسی حکومت یا سیاسی جماعت کے کہنے پر تشکیل یا منظم كی گئی ہو، یا

(ii) کسی بیرونی ملک کی کسی حکومت یا سیاسی جماعت سے وابستہ یا اس سے وابستہ ہے، یا

(iii) بیرونی ملک کی کسی بھی حکومت یا سیاسی جماعت سے، یا اس کے فنڈز کا کوئی حصہ غیر ملکی شہریوں سے کوئی امداد، مالی یا دوسری صورت میں وصول کرتی ہے۔

اسی قانون كے سیكشن 6(3) میں مزید لکھا گیا ہے: 'کسی بھی غیر ملکی حکومت، کثیر القومی یا مقامی سرکاری یا نجی کمپنی، فرم، تجارتی یا پیشہ ورانہ ایسوسی ایشن کی طرف سے براہ راست یا بالواسطہ کوئی بھی کنٹریبیوشن (چندہ یا عطیات) ممنوع ہو گا اور فریقین صرف افراد سے چندہ اور عطیات قبول کر سکتے ہیں۔'

پولیٹیكل پارٹیز آرڈر 2002 كے 6(4) مندرجہ بالا سیكشن (6(3)) کے تحت چندے کا حاصل ہونا ثابت ہونے کی صورت میں مذکورہ رقم ریاست کے حق میں ضبط کیے جانے کا ذکر کرتی ہے، جبکہ شق چھ کی وضاحت میں درج ہے کہ اس سیکشن (6) کے تحت عطیے سے مراد نقد رقم، اشیا، سٹاک، مہمان نوازی، رہائش، نقل و حمل، ایندھن اور اس طرح کی دیگر سہولیات کی فراہمی ہے۔

اسی قانون کا سیکشن 13 میں درج ہے: 'پارٹی کے فنڈ کے ذرائع کے بارے میں معلومات، (1) ہر سیاسی جماعت، ہر مالی سال کے اختتام سے 60 روز کے اندر اپنے اکاونٹس کی تفصیلی سٹیٹمنٹ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے ذریعے الیکشن کمشنر کے تجویز یا بیان کردہ طریقے سے الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائے گی، جن میں (a) سالانہ آمدنی اور اخراجات، (b) فنڈز کے ذرائع، اور (c) اثاثے اور واجبات شامل ہوں گے۔

سیکشن 13 کے ذیلی سیکشن ٹو میں درج ہے کہ سیاسی جماعت کی سالانہ سٹیٹمنٹ کے ساتھ اس کے سربراہ کی طرف سے دستخط شدہ سرٹیفیکیٹ بھی ہونا لازمی ہو گا، جس میں پارٹی سربراہ درج کرے گا کہ اس کی جماعت سے قانون کے تحت ممنوعہ ذرائع سے کوئی فنڈز پارٹی کو موصول نہیں ہوئے اور سٹیٹمنٹ میں پارٹی کی درست مالی پوزیشن بیان کی گئی ہے۔

غیر ملکی امداد ثابت ہونے كے نتائج

کسی سیاسی جماعت کے غیر ملکی ذریعے سے فنڈنگ قبول کرنا ثابت ہونے کی صورت میں الیکشنز ایکٹ 2017 حرکت میں آتا ہے۔

اس قانون کے سیکشن 212 (1) میں کہا گیا ہے: 'جہاں وفاقی حکومت کمیشن کے حوالے سے یا کسی دوسرے ذریعے سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر مطمئن ہو کہ سیاسی جماعت ایک غیر ملکی امداد یافتہ سیاسی جماعت ہے … حکومت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے، سرکاری گزٹ میں، ایسا اعلان کرے گی۔'

اسی سیکشن کے ذیلی سیکشن 2 اور 3 میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت اعلان کرنے کے 15 دن میں سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی اور جب سپریم کورٹ پارٹی کے خلاف کیے گئے اعلان کو برقرار رکھتی ہے تو ایسی سیاسی جماعت تحلیل ہو جائے گی۔

قانون كا سیکشن 213 وضاحت کرتا ہے کہ تحلیل شدہ جماعت سے تعلق ركھنے والے قانون ساز اداروں میں منتخب اراكین متعلقہ ایوان كی بقیہ مدت کے لیے نااہل قرار پائیں گے۔

قانون کا سیکشن 212 میں واضح کرتا ہے کہ سیاسی جماعت کی جانب سے ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ کا حجم اہم نہیں بلکہ رقم سے قطع نظر، غیر ملکی شہریوں سے موصول ہونے والی کوئی بھی غیر ملکی فنڈ پارٹی کو غیر ملکی امداد یافتہ قرار دینے کے لیے کافی ہو گا۔

قانونی ماہرین کی رائے میں کسی سیاسی جماعت کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے کی صورت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اس کا انتخابی نشان بھی منسوخ کر سکتا ہے۔

تھینک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجیسلیٹیو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب روزنامہ ڈان میں 2021 کو اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں: 'حکومت کی جانب سے کسی سیاسی جماعت کو فارن فنڈڈ قرار دینے اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھنے کی صورت میں کئی قانونی لڑائیاں ہوں گی، اور عدالتیں متعلقہ قانون کی تشریح بھی کر سکتی ہیں۔

’تاہم یہ واضح ہے کہ کم از کم کاغذ پر غیر ملکی شہری سے معمولی رقم بھی قبول کرنے کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔'

پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کیسے بنا؟

ممنوعہ فنڈنگ کیس کے محرک اکبر ایس بابر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ستمبر 2011 میں ایک خط کے ذریعے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی توجہ جماعت میں کرپشن کی طرف دلوائی تھی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عمران خان نے انہیں فی الحال اس پر خاموش رہنے کی تلقین کی اور یوں تین سال گزر گئے۔

'2013 میں پارٹی فنڈز كے سپیشل آڈٹ كے لیے ٹی او آرز بنائے گئے، 2014 میں رپورٹ آگئی جس میں میرے الزامات درست ثابت ہوئے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ آڈیٹرز کی رپورٹ کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور تب انہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا۔

اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ انہیں ممنوعہ فنڈنگ اور جماعت میں دوسری کرپشن سے متعلق دستاویزی شواہد پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں کام کرنے والے ملازمین فراہم کرتے رہے تھے۔

یہاں یہ ذكر ضروری ہے كہ پارٹی نے ہمیشہ اكبر ایس بابر کے ممنوعہ فنڈنگ اور کرپشن سے متعلق الزامات کی تردید کی اور اسے پارٹی چیئرمیں عمران خان سے ذاتی عناد كی وجہ قرار دیا۔

پی ٹی آئی نے متعدد مرتبہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ممنوعہ فنڈنگ کیس میں رازداری برقرار رکھنے اور کارروائی کو پبلک نہ کرنے کی درخواستیں دائر کیں۔

ممنوعہ فنڈنگ ​​کیس کی مختصر ٹائم لائن

14 نومبر، 2014: غیر قانونی فنڈنگ، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے ثبوت کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کے سامنے پٹیشن دائر کی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کی قیادت میں پارٹی کے چیئرمین عمران خان سے لے کر فنانس بورڈ میں شامل تمام افراد کے خلاف سیاسی فنڈنگ ​​قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

18 نومبر، 2014: عمران خان کے قریبی سمجھے جانے والے پی ٹی آئی کے ایک رکن کی جانب سے اکبر ایس بابر کو مبینہ طور پر دھمکی دی گئی اور انہیں قانونی راستے سے ہٹ جانے کو کہا گیا۔

اکبر ایس بابر نے 21  نومبر، 2014 کو وفاقی سیکرٹری داخلہ کو ایک خط میں مذکورہ مبینہ دھمکی کا ذکر کرتے ہوئے سیکورٹی کا مطالبہ کیا۔ 

یکم اپریل، 2015: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک آرڈر میں کہا کہ کمیشن کے سامنے پیش کی گئی پی ٹی آئی کی سالانہ آڈٹ رپورٹس میں تفصیلات اور فنڈز کے ذرائع، جو قانون کے تحت ایک ضرورت ہے، شامل نہیں۔

آٹھ اکتوبر، 2015: الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے خلاف درخواست کو برقرار رکھنے اور کیس کی سماعت کے لیے دائرہ اختیار پر پی ٹی آئی کے دائر کردہ اعتراضات کو مسترد کر دیا اور 10 نومبر، 2015 کو ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا حکم دیا۔

26 نومبر، 2015: پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست کے ذریعے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار اور اکبر ایس بابر کی پی ٹی آئی کی رکنیت کو چیلنج کیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے اپنے بیان حلفی میں کہا کہ وہ اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے لیے پاکستان کے عام شہریوں کو جوابدہ نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

17 فروری، 2017: الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار اور اکبر ایس بابر کی پی ٹی آئی کی رکنیت کو چیلنج کرنے والی درخواست کے مسترد ہونے کے بعد ممنوعہ فنڈنگ کیس ڈیڑھ سال کی تاخیر کے بعد واپس الیکشن کیمشن کے پاس آیا۔

آٹھ مئی، 2017: الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر کہا کہ اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی سے نکالے جانے کے دعوے کی حمایت میں ثبوت موجود نہیں۔

پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار اور اکبر ایس بابر کی رکنیت کو چیلنج کرنے سے متعلق متعدد درخواستیں دائر کیں۔

مارچ 2018: الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے لیے اپنے ڈائریکٹر جنرل قانون اور دو آڈیٹرز (ڈی جی آڈٹ ڈیفنس سروسز اینڈ کنٹرولر اکاؤنٹس پاکستان  ایئر فورس) کی سربراہی میں ایک سکروٹنی کمیٹی تشکیل دی، جس کے 95 اجلاس ہوئے، جس میں سے 24 بار پی ٹی آئی نے التوا مانگا جب کہ پی ٹی آئی نے درخواست گزار کی کمیٹی میں موجودگی کے خلاف چار درخواستیں دائر کیں، ا؎سکروٹنی کمیٹی نے 20 بار آرڈر جاری کیے، کہ پی ٹی آئی متعلقہ دستاویزات فراہم کرے۔

تین جولائی، 2018: الیکشن کمیشن نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے 2009 سے 2013 کی مدت کے لیے پی ٹی آئی کے مالیاتی ریکارڈ طلب کیے اور مرکزی بینک نے ملک میں تمام شیڈولڈ بینکوں کے صدور کو 16 جولائی، 2018 تک الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی۔ 

تمام بینکوں کی جانب سے موصول ہونے والی معلومات میں ملک بھر میں پی ٹی آئی کے 23 بینک اکاؤنٹس کی موجودگی کا انکشاف ہوا جبکہ پارٹی نے الیکشن کمیشن کو صرف آٹھ اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کر رکھی تھیں۔  

اس حقیقت کے سامنے آنے کے باعث الیکشن کمیشن میں جاری تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال تعطل کا شکار ہو گئی۔

24 جولائی، 2018: اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی اکبر ایس بابر کے پارٹی رکن نہ ہونے سے متعلق درخواست مسترد کر دی۔

پارٹی اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال رکوانے کے لیے پی ٹی آئی کی اسلام آباد ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن میں دائر تمام درخواستیں مسترد ہوئیں۔

اس کے علاوہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے بیسیوں تحریری احکامات کی تعمیل سے انکار کیا، جو دستاویزات کی تیاری، پاکستان اور بیرون ملک موجود پارٹی اکاؤنٹس اور بینک اسٹیٹمنٹس کی تفصیلات سے متعلق تھے۔ 

اگست 2020: الیکشن کمیشن نے سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

14 جنوری، 2021: الیکشن کمیشن میں فرخ حبیب کی درخواست کے نتیجے میں الیکشن کمیشن نے اس وقت کی حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال شروع کی اور سکروٹنی کمیٹی نے دونوں پارٹیوں کو طلب کیا۔

چار جنوری، 2022: الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی نے حتمی رپورٹ جمع کی جس میں انکشاف ہوا کہ تحریک انصاف نے 2013 سے 2018 کے دوران الیکشن کمیشن سے 31 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم خفیہ رکھی، اور اسی عرصے میں پارٹی نے مختلف غیر ملکی ڈونرز سے 44 ہزار امریکی ڈالرز وصول کیے۔

رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے الیکشن کمیشن سے خفیہ رکھے گئے اکاؤنٹس پی ٹی آئی رہنماؤں اسد قیصر ، شاہ فرمان ، عمران اسماعیل ، محمود الرشید ، احد رشید ، ثمر علی خان ، سیما ضیاء ، نجیب ہارون ، جہانگیر رحمان ، خالد مسعود ، نعیم الحق اور ظفر اللہ خٹک کے ناموں پر تھی۔ 

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تحریک انصاف کو یورپی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈ اور فن لینڈ سمیت دیگر ممالک سے فنڈ موصول ہونے کے شواہد ملے۔

سکروٹنی کمیٹی نے امریکہ اور دوسرے ملکوں سے فنڈنگ کی تفصیلات سے متعلق سوال نامہ پی ٹی آئی کو دیا مگر واضح جواب نہ دیا گیا، پی ٹی آئی نے غیر ملکی اکاؤنٹس تک رسائی بھی نہیں دی۔

سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی بینک سٹیٹمنٹس سے متعلق سٹیٹ بینک کے ذریعے حاصل آٹھ جلدوں کو خفیہ رکھا جنھیں بعد میں الیکشن کمیشن کی ہدایت پر درخواست گزار اکبر ایس بابر کے حوالے کیا گیا۔

15 جون، 2022: پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن میں ایک درخواست کے ذریعے درخواست کی کہ اس کے خلاف کیس کو فارن فنڈنگ کیس کی بجائے ممنوعہ فنڈنگ کیس پکارا جائے۔

الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے درخواست منظور کرتے ہوئے کمیشن کے عملے کو کاز لسٹ اور دوسرے ریکارڈ میں ایسا کرنے کو کہا۔

21 جون، 2022: الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

دو اگست، 2022: الیکشن کمیشن کے تین رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی پر ممنوعہ فنڈنگ لینا ثابت گیا ہے۔ تاہم پارٹی لیڈر فواد چوہدری کا فیصلہ آنے کے بعد کہنا ہے کہ یہ غیر ملکی فنڈنگ نہیں بلکہ پارٹی کو بیرون ملک آباد پاکستانیوں نے پیسے بھیجے اور یہ فنڈنگ آئندہ بھی جاری رہے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست