جوہری ہتھیاروں کی کانفرنس: روس نے حتمی دستاویز پر معاہدہ روک لیا

جوہری عدم پھیلاؤ کی بنیاد سمجھے جانے والے اس معاہدے میں روسی فوج کے یوکرین پر حملے کے فوری بعد یورپ کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ پر قبضے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

24 اگست 2022 کی اس تصویر میں اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب ویسیلی نبینزیا اجلاس کے دوران روس کا موقف بیان کرتے ہوئے(فوٹو: اے ایف پی)

روس نے جمعے کی شب اقوام متحدہ کے تجویز کردہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق معاہدے کی اس حتمی دستاویز پر معاہدہ روک دیا ہے، جس کا چار ہفتے تک جائزہ لیا گیا۔

جوہری عدم پھیلاؤ کی بنیاد سمجھے جانے والے اس معاہدے میں روسی فوج کے یوکرین پر حملے کے فوری بعد یورپ کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ پر قبضے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق روسی وزارت خارجہ کے عدم پھیلاؤ اور ہتھیاروں کے کنٹرول کے شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایگور وشنیوتسکی نے 50 سال پرانے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا جائزہ لینے والی کانفرنس کے حتمی اجلاس کو بتایا کہ ’بدقسمتی سے اس دستاویز پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔‘

 ان کا اصرار تھا کہ بہت سے ممالک، جن میں صرف روس ہی شامل نہیں ہے، معاہدے کے 36 صفحات پر مشتمل حتمی مسودے میں شامل ’تمام معاملات‘ سے متفق نہیں ہیں۔

معاہدے کی منظوری کے لیے ان 191 ملکوں کا اس پر متفق ہونا ضروری ہے جو اس میں فریق ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ ایٹمی عدم پھیلاؤ کا جائزہ لینے کے لیے کانفرنس ہر پانچ سال بعد ہوتی ہے لیکن کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔

دوسری مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ فریق ممالک حتمی معاہدہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ 2015 میں ہونے والی آخری جائزہ کانفرنس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطیٰ زون کے قیام پر شدید اختلافات کی وجہ سے بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماضی میں انڈیا اور پاکستان جو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شامل نہیں ہوئے، ایٹم بم حاصل کرنے کی جانب آگے بڑھتے رہے۔ شمالی کوریا نے بھی ایسا ہی کیا، جس نے پہلے معاہدے کی توثیق کی لیکن بعد میں اعلان کیا کہ وہ دستبردار ہو رہا ہے۔

معاہدے پردستخط نہ کرنے والا ملک اسرائیل، جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں لیکن وہ نہ تو اس کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تردید کرتا ہے، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطیٰ کے بارے میں ہونے والی بات چیت میں رکاوٹ رہا ہے۔

ایٹمی معاہدے کے فریقین ملک، انڈیا، اسرائیل اور پاکستان سے جوہری ہتھیاروں سے پاک ریاستوں کے طور پر معاہدے میں شامل ہونے اور جنوبی سوڈان سے جلد از جلد فریق بننے کا مطالبہ کریں گے۔ شمالی کوریا سے جلد از جلد معاہدے پر واپس آنے اور فوری طور پر اپنی جوہری سرگرمیاں بند کرنے پر زور دیا جائے گا۔

ایٹمی عدم پھیلاؤ کے 50 سال پرانے معاہدے کا جائزہ لینے والی کانفرنس کے صدر اور ارجنٹائن کے سفیر گستاوو زلاؤوینن نے 36 صفحات پر مشتمل حتمی دستاویز جاری کی، جس کا مقصد چین کے بعض خدشات دور کرنا تھا۔

تاہم دستاویز میں وہی چار حوالے دیے گئے، جن کا تعلق جنوب مشرقی یوکرین کے علاقے زیپورزیا میں واقع یورپ کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ پر روسی قبضہ تھا۔ دستاویز میں روس کا نام نہیں لیا گیا۔

قبل ازیں اس ہفتے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ ایک متفقہ حتمی دستاویز چاہتی ہے، جو جوہری معاہدے کو مستحکم کرے اور اس بات کو تسلیم کرے کہ ’یوکرین میں روسی جنگ اورغیر ذمہ دارانہ اقدامات، ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کے بنیادی مقصد کو بے حد کمزور کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب روس کے اقوام متحدہ کے سفیر ویسیلی نبینزیا نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے ’حتمی دستاویز پر کام کو سیاسی بنانے اور عالمی سلامتی کو مستحکم کرنے میں اجتماعی ضروریات پر روس کو سزا دینے کے حوالے سے اپنے سیاسی و جغرافیائی  مفادات کو مقدم رکھا۔‘

نبنزیا کے بقول: ’عالمی سلامتی کے ڈھانچے کو مغرب کی جانب سے اجتماعی طور پر نقصان پہنچانے کے پس منظر میں، روس کم از کم معاہدے بنیادی نکات کو بحال رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا