چین سے صحافت پڑھنا کیسا ہے؟

مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ نے صحافت پڑھنے کے لیے چین کا انتخاب ہی کیوں کیا۔

علومِ ابلاغیات میں بہت سی چیزیں آتی ہیں، مثلاً پبلک ریلیشنز، فلم میکنگ، ایڈورٹائزنگ، اینیمیشن اور نیو میڈیا وغیرہ (تصویر: پکسابے)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ نے صحافت پڑھنے کے لیے چین کا انتخاب ہی کیوں کیا۔

میں انہیں بتاتی ہوں کہ میری ڈگری صحافت میں نہیں بلکہ کمیونیکیشن سٹڈیز یعنی علومِ ابلاغیات میں ہے۔ صحافت علومِ ابلاغیات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

علومِ ابلاغیات میں بہت سی چیزیں آتی ہیں، مثلاً پبلک ریلیشنز، فلم میکنگ، ایڈورٹائزنگ، اینیمیشن اور نیو میڈیا وغیرہ۔

چین میں بے شک صحافتی آزادی نہ ہونے کے برابر ہے لیکن وہاں کی یونیورسٹیوں میں قائم علومِ ابلاغیات کے شعبہ جات اپنے طالب علموں کو ہر وہ مہارت سکھاتے ہیں جو دنیا کے کسی بھی ملک میں کمیونیکیشن کی فیلڈ میں کام کرنے کے لیے درکار ہیں۔

وہ اپنے گریجویٹ پروگرامز میں جدید ترین کورس پڑھاتے ہیں جبکہ ہماری جامعات ابھی تک دہائیوں پرانے کورسز اور کورس آؤٹ لائنز میں پھنسی ہوئی ہیں۔

چین میں ایک سمیسٹر میں ہمیں ویڈیو گیمز پر کورس پڑھایا گیا تھا۔ اس کورس کے دوران ہم نے پہلی دفعہ ویڈیو گیمز کو بطور کمیونیکیشن چینل دیکھا اور سمجھا۔

میرے چین جانے کی سب سے اہم وجہ میرے والد صاحب تھے۔ ان کے لیے میرا ملک سے باہر جا کر پڑھنا نا قابلِ قبول تھا۔

ان کے ماننے تک میرے ہاتھ سے بہت سی آفرز نکل چکی تھیں۔ پھر جو بچا تھا اسے ہی کافی سمجھتے ہوئے صبر شکر کر لیا۔

وقت نے اس فیصلے کو بہترین ثابت کیا۔

میں نے چین جانے سے قبل پنجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹڈیز سے ماسٹرز کیا تھا۔ میں نے اس ماسٹرز کے دوران ہی سوچ لیا تھا کہ یہ پاکستان سے میری آخری ڈگری ہوگی۔

وہاں کورس پڑھانے والے نہ کورس کے پابند تھے نہ وقت کے۔ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔

ایک کورس ڈیپارٹمنٹ کے ڈین پڑھا رہے تھے۔ کلاس کا وقت ختم ہونے والا ہوتا تھا وہ تب کلاس میں آتے تھے۔ ’اوئے تو، اوئے تو‘ کر کے نکل جاتے تھے۔

ایک پروفیسر برسوں سے اپنے ہر کورس میں ’خبر کیا ہے‘ پڑھا رہے تھے۔ وہ اس سے آگے ہی نہیں بڑھتے تھے، بس خبر کیا ہے، خبر کیا ہے، کرتے رہتے تھے۔

سوشل میڈیا، نیو میڈیا، اینیمیشن، اور ورچوئل رئیلٹی کے الفاظ وہاں سوچ میں بھی نہیں آ سکتے تھے۔

ایک صاحب کلاس میں آتے تھے۔ سب کی حاضری لگاتے تھے۔ پھر لڑکوں کو لے کر چائے پینے کیفیٹیریا چلے جاتے تھے۔

کبھی کسی لیکچرار یا پروفیسر نے غلطی سے بھی اپنا یا کسی اور کا تحقیقاتی پرچہ ہمیں نہیں دکھایا۔ جو آتا تھا، کہتا تھا بس اخبار پڑھیں۔

ان کے لیے کمیونیکیشنز سٹڈیز بس اخبار پڑھنے کا نام تھی۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ میں غلط فیلڈ کا انتخاب کر بیٹھی تھی۔

ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں ایک ریڈیو سٹیشن بھی تھا۔ وہاں کچھ طالب علم کام کرتے تھے۔ ہم سب میں وہی چند انڈسٹری میں ہونے والے کام کے بارے میں کچھ سیکھ سکے تھے۔

مجھ سمیت باقی طالب علم اس ڈیپارٹمنٹ میں جیسے داخل ہوئے تھے ویسے ہی باہر نکل گئے تھے۔

پرانے کورسز اور پرانی کورس آؤٹ لائنز کے علاوہ اس ڈیپارٹمنٹ کا ایک بڑا مسئلہ اساتذہ کے ہاتھ میں طاقت کا نہ ہونا بھی تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک صاحبہ ہمیں ایڈورٹائزنگ کا کورس پڑھانے آئیں۔ انہوں نے فیلڈ میں کافی کام کیا ہوا تھا۔

انہوں نے ہمیں زبانی کلامی سب کچھ بتایا لیکن ہم سے عملی طور پر کچھ نہ کروا سکیں۔

ایک دن کمپیوٹر لیب لے گئیں۔ وہاں کا عملہ ہمیں دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ کمپیوٹرز پر مطلوبہ سافٹ وئیر ہی موجود نہیں تھا۔

امتحان آئے تو ہمیں ایڈورٹائزنگ ایجنسیز پر مضمون لکھنے کے لیے دے دیا۔ یونیورسٹی کو ہر طالب علم کی طرف سے ایک عدد لکھا ہوا پرچہ بطور ثبوت درکار تھا۔

وہ چاہتی تھیں کہ وہ امتحان کی جگہ ہر طالب علم سے ایک عدد اشتہار بنوا لیں لیکن انہیں اس کی اجازت ہی نہیں ملی۔

ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں ایک عدد آڈیو ویڈیو لیب بھی تھی۔ طالب علموں کا وہاں جانا سختی سے منع تھا۔

دوسری طرف چین میں معاملہ الٹ تھا۔ میری یونیورسٹی ہی کمیونیکیشنزز کی تھی۔ وہاں ہر شعبہ ایک مختلف طرح کی کمیونیکیشن پڑھا رہا تھا۔

وہاں اساتذہ وقت کے پابند تھے۔ پنجاب یونیورسٹی میں ہمارے کئی لیکچرار ٹو پیس سوٹ پہن کر آتے تھے اور فلسفہ جھاڑ کر چلے جاتے تھے۔

چین میں پروفیسرز بغیر استری شدہ کپڑوں میں آتے تھے۔ اپنا تیار شدہ لیکچر ملٹی میڈیا کے ذریعے ہمیں پڑھاتے تھے۔

اپنی تحقیق دکھاتے تھے۔ اس پر ہم سے رائے لیتے تھے۔ ہمیں بہت سے پرچے اور کتابیں پڑھنے کے لیے دیتے تھے۔

کچھ پروفیسرز ہمیں میڈیا اداروں میں بھی لے کر گئے تاکہ ہم وہاں ہونے والے کام کو سمجھ سکیں۔

ایک پروفیسر فوٹوگرافی پڑھا رہے تھے۔ کورس کے اختتام پر انہوں نے ہر طالب علم کو بطور فائنل امتحان ایک تصویر جمع کروانے کا کہا۔ ہم سب کو ہماری کھینچی گئی تصاویر کی بنیاد پر ہی کورس میں پاس کیا گیا تھا۔

ایک سمیسٹر میں امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی سے ایک پروفیسر کو ڈاکیومینٹری میکنگ پڑھانے کے لیے بلایا گیا۔ انہوں نے ہمیں چھوٹے چھوٹے گروہ میں تقسیم کیا۔ ہر گروہ نے ڈاکیومینٹری بنانی تھی۔

ہمیں بتایا گیا کہ فلاں ڈیپارٹمنٹ سے ہم آلات لے سکتے ہیں۔ ہم وہاں گئے۔ انہیں اپنے سٹوڈنٹ کارڈ دکھائے۔ انہوں نے جدید ترین کیمرے اور دیگر آلات ہمیں پکڑا دیے۔

پچھلے سمیسٹر میں مجھے یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر کام کرنے کا موقع ملا۔ اس وقت مجھے پتہ چلا کہ یونیورسٹی کے تمام میڈیا چینلز یونیورسٹی کے طالب علم ہی چلا رہے تھے۔

میرے تجربے کے مطابق چین سے علومِ ابلاغیات یا کسی بھی دوسری فیلڈ میں ڈگری حاصل کرنا پاکستان میں پڑھنے سے بہتر ہے۔ یہاں کا نظام بدلنے میں سالوں لگیں گے۔ اس دوران اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل تباہ نہ کریں۔ جو بہتر آپشن ملے اسے پکڑیں اور اپنی زندگی سنوار لیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ