امریکی سفارت خانہ رابن رافیل کی مصروفیات سے لاعلم

پاکستانی میڈیا میں رابن رافیل کی عمران خان سے ملاقات کی خبروں کے بعد حکومتی اتحاد کے رہنما پی ٹی آئی چیئرمین کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ماضی میں رابن رافیل افغانستان میں طالبان سے براہ راست ملاقاتیں کرنے والی واحد امریکی سرکاری عہدے دار رہی ہیں۔ اس وجہ سے انہیں انڈیا میں ’لیڈی طالبان‘ کا نام بھی دیا گیا(تصویر امیرکن اکیڈمی آف ڈپلومیسی)

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ایک سابق امریکی سفارت کار رابن رافیل کی بنی گالہ میں حالیہ دنوں میں مبینہ ملاقات کی خبروں کے بعد اتحادی حکومت کے رہنما عمران خان پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔

اپریل میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کے ’امریکی غلامی نامنظور‘ کے بیانیے کے تناظر میں اس مبینہ ملاقات کی خبروں کو اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کے رابطہ کرنے پر امریکی سفارت خانے کے ایک نمائندے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر مبینہ ملاقات کی خبروں سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’رابن رافیل امریکی حکومت کے سرکاری مہمان کے طور پر پاکستان نہیں آئیں۔

’اس لیے ہمارا ان کے دورے سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں ان کے شیڈول کا علم نہیں اور نہ ہی معلوم ہے کہ وہ کس سے مل رہی ہیں۔‘

11 ستمبر 2022 کو مقامی میڈیا پر اس ملاقات سے متعلق خبر سامنے آئی تھی جس کے بعد پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا ٹوئٹر پر ’یہ ملاقات تین سال قبل ہوئی‘ کا بیان سامنے آیا۔

تاہم گذشتہ روز جب انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد صحافیوں نے اس ملاقات سے متعلق عمران خان سے بارہا سوال کیے لیکن انہوں نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

بعد میں ایک نجی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ ’امریکہ سے دشمنی نہیں بلکہ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔‘

عمران خان نے امریکہ سے اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ میں ہماری بڑی طاقت ور کمیونٹی ہے۔ ہمیں امریکہ سے اچھے تعلقات چاہییں۔

انہوں نہ ملاقات کے بارے میں براہ راست بات نہیں کی لیکن امریکہ کے ساتھ تعلقات پر روشنی ضرور ڈالی۔ ’میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ ہمیں استعمال نہ کیا جائے۔ ہم وار آن ٹیرر میں استعمال ہوئے۔ میرا یہ مطلب یہ نہیں کہ ہم آپ سے دشمنی چاہتے ہیں۔ ہم باوقار تعلقات چاہتے ہیں۔‘

ٹاک شو میں میزبان کے امریکہ سے بات چیت اور اس میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے کہا کہ ’میں رابن رافیل کو طویل عرصے سے جانتا ہوں۔ وہ امریکی حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ ایک امریکی تھنک ٹینک کے ساتھ ہیں۔

’لیکن میں آپ کو واضح کر دوں، میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے بالکل ٹھیک تعلقات ہونے چاہییں۔‘

اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد 24 اپریل، 2022 کو اسلام آباد میں منعقد جلسے میں عمران خان نے ایک مبینہ سفارتی خط لہرایا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ خط ایک امریکہ میں پاکستانی سفیر نے لکھا تھا جس میں مبینہ طور پر واضح طور پر کہا گیا تھا کہ امریکہ کو ان کی حکومت قابل قبول نہیں تھی جس میں اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں نے اہم کردار ادا کیا۔‘

’لیڈی طالبان‘ کا نام پانے والی رابن رافیل کون ہیں؟

1993 میں ایشیا میں پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز کرنے والی رابن رافیل کو امریکی صدر بل کلنٹن کے دور حکومت میں اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ برائے وسطی اور جنوبی ایشیا تعینات کیا گیا۔

اس عہدے کا مقصد پاکستان، انڈیا اور افغانستان سے متعلق جمہوری، جوہری اور طالبان سے متعلق معاملات کو دیکھنا تھا۔

اس دوران پاکستان میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی حکومتیں رہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رابن رافیل نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازع کشمیر سے متعلق کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کشمیر کو متنازع مسئلہ قرار دیا جس پر انڈیا نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ماضی میں وہ افغانستان میں طالبان سے براہ راست ملاقاتیں کرنے والی واحد امریکی سرکاری عہدے دار رہی ہیں۔

اس وجہ سے انہیں انڈیا میں ’لیڈی طالبان‘ کا نام بھی دیا گیا۔

بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں پریسلر ترمیم کے نفاذ کے دوران جب پاکستان اور امریکہ کے درمیان سیاسی و فوجی تعلقات ختم ہو گئے تب رابن رافیل نے تعلقات کی بہتری کے لیے کردار ادا کیا اور امریکہ نے پریسلر امینڈمنٹ میں ترمیم کر کے پاکستان کو پہلے سے طے شدہ فوجی ساز و سامان کی ترسیل کی اجازت دی۔

رابن رافیل نے ریٹائر ہونے کے بعد 2005 میں امریکی لابسٹ فرم کیسیڈی اینڈ ایسوسی ایٹس کو بطور سربراہ جوائن کیا۔

ان کی شمولیت کے فوری بعد فرم نے پاکستان کے لیے لابنگ کا 1.2 ارب ڈالرز کا معاہدہ کیا لیکن پرویز مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ بعد یہ معاہدہ ختم ہو گیا۔

2009 میں رچرڈ ہالبروک ایف پاک ٹاسک فورس کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی بنے تو رابن رافیل نے افغانستان پاکستان ٹاسک فورس کو جوائن کیا۔

ان کا کام کیری لوگر بل کے تحت 1.5 ارب ڈالرز کی پاکستان کو سالانہ امداد اور اس کے منصوبوں میں خرچ سے متعلق امور کو دیکھنا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 2013 میں امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے رابن رافیل کی ایک پاکستانی سرکاری افسر سے گفتگو کو ریکارڈ کیا جس کے بعد ان کا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے معاہدہ ختم کر دیا گیا اور ان کے خلاف پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کی تحقیقات کا آغاز ہوا۔

اس دوران ان کے گھر کی تلاشی لی گئی اور ان کے خلاف پاکستان کےساتھ خفیہ دستاویز شیئر کرنے کی تحقیقات بھی ہوئیں مگر امریکی عدالت انصاف نے ان پر لگے تمام الزامات مسترد کر دیے۔

رابن رافیل کے شوہر آرنلڈ رافیل پاکستان میں امریکہ کے سفیر تھے جو 1988 میں فوجی صدر جنرل ضیا الحق کے ہمراہ بہاول پور کے علاقے میں ایک طیارہ حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس ملاقات کے حوالے سے رابن رافیل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے بات نہ ہو سکی۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ