سیریل: وہ پوڈ کاسٹ جس نے عدنان سیدکی سزا پر شک کو جنم دیا

امریکی عدالت نے پاکستانی نژاد امریکی شہری عدنان سید کی سزا ختم کردی ہے، جو اپنی سابقہ گرل فرینڈ کے قتل کے الزام میں سال 2000 سے عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔

عدنان سید پانچ فروری 2016 کو ریاست میری لینڈ میں بالٹی مور سٹی سرکٹ کورٹ ہاؤس سے نکل رہے ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)

ایک امریکی عدالت نے پاکستانی نژاد امریکی شہری عدنان سید کی سزا ختم کردی ہے، جو اپنی سابقہ گرل فرینڈ کے قتل کے الزام میں سال 2000 سے عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔

یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس نے 2014 میں ہٹ ترین پوڈ کاسٹ ’سیریل‘ کی بدولت دنیا بھر میں توجہ حاصل کی۔

یہ ایک ہفتہ وار پوڈ کاسٹ تھا، جس میں ایک صحافی نے ان کی سزا کا دوبارہ جائزہ لیا اور ان کے جرم پر شک کا اظہار کیا۔

ان کا کیس ایچ بی او چینل پر’عدنان سید کے خلاف مقدمہ‘ کے نام سے چار حصوں پر مشتمل دستاویزی فلم کا موضوع بھی رہا ہے۔

’سیریل‘ پوڈ کاسٹ تفتیشی صحافت، مرکزی کردار کے بیانیے اور ڈرامائی کہانی سنانے کا ایک مرکب ہے۔ اس نے اپنے پہلے سنسنی خیز سیزن میں 12 اقساط پر مشتمل عدنان سید کی کہانی دکھائی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور کے سٹی سرکٹ کورٹ کی جج میلیسا فن نے پیر کو 42 سالہ عدنان سید کی سزا ختم کی، جو 1999 میں 18 سالہ ہائی من لی کے قتل کے الزام میں 2000 سے جیل میں قید تھے۔

جج میلیسا فن نے ’انصاف اور شفافیت کے مفاد میں‘ عدنان کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

بھرے ہوئے کمرہ عدالت میں اس وقت خوشی کی لہر دوڑ گئی جب جج نے افسران کو حکم دیا کہ وہ عدنان سید کی ’بیڑیاں کھول دیں۔‘

گھنی داڑھی کے ساتھ سفید قمیص اور سر پر سفید ٹوپی پہنے ہوئے عدنان سید عدالت میں موجود تھے۔

ہائی من لی کی لاش فروری 1999 میں بالٹی مور کے جنگل میں ایک قبر میں دفن پائی گئی تھی۔ 18 سالہ نوجوان لڑکی کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔

عدنان سید اپنی بے گناہی پر ثابت قدم رہے لیکن ان کی متعدد اپیلوں کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ امریکی سپریم کورٹ نے بھی 2019 میں ان کے کیس کی سماعت سے انکار کردیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ ہفتے ایک حیرت انگیز اقدام میں بالٹی مور سٹی ریاست کی اٹارنی مارلین موسبی نے اعلان کیا کہ انہوں نے عدالت سے کہا ہے کہ جب تک مزید تحقیقات جاری ہیں وہ عدنان سید کی سزا خارج کر دیں۔

سٹیٹ کے اسسٹنٹ اٹارنی بیکی فیلڈمین نے جج کو بتایا کہ یہ فیصلہ دو متبادل مشتبہ افراد کے حوالے سے نئی معلومات سامنے آنے اور ناقابل اعتماد سیل فون ڈیٹا کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ وہ ڈیٹا جو سید عدنان کو مجرم قرار دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔

فیلڈمین نے کہا: ’ریاست انصاف کی فراہمی پر اعتماد کھو چکی ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ کہ ہم صحیح شخص کا احتساب کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم اپنی تحقیقات جاری رکھیں گے‘ اور وعدہ کیا کہ ’ہائی من لی کے خاندان کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔‘

عدنان سید کی وکیل ایریکا سوٹر نے بھی عدالت کے روبرو کہا کہ ’میرا موکل بے گناہ ہے۔‘

ایریکا سوٹر سے صحافیوں نے پوچھا کہ عوام کے سامنے کوئی بیان نہ دینے والے عدنان سید کا جج کے فیصلے پر رد عمل کیا تھا؟

وکیل نے کہا: ’انہوں نے کہا کہ انہیں اس کے حقیقی ہونے پر یقین نہیں آ رہا۔‘

’غیر متوقع فیصلہ‘

اب بالٹی مور سٹی کے استغاثہ کے پاس 30 دن ہیں کہ یا تو وہ عدنان سید کے خلاف نئے الزامات لائیں یا مقدمہ خارج کریں۔

ریاست کے اٹارنی موسبی نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ہم ابھی تک عدنان سید کو ’بے گناہ‘ قرار نہیں دے رہے۔

انہوں نے کہا: ’ریاست تمام چارجز ختم کرنے یا نیا ٹرائل شروع کرنے کا فیصلہ کرنے سے قبل ہائی من لی کے کپڑوں پر نئے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے۔‘

سماعت شروع ہونے سے پہلے ہائی من لی کے بھائی ینگ لی نے زوم کے ذریعے عدالت سے خطاب کیا۔

ینگ لی نے جذباتی انداز میں کہا کہ استغاثہ کا عدنان سید کی رہائی کا فیصلہ ان کے لیے’غیر متوقع‘ تھا۔

انہوں نے کہا: ’اچانک مجھے معلوم ہوا کہ فیصلہ خارج کرنے کی اپیل دائر ہوئی ہے۔ اس سے بار بار گزرنا مشکل ہے۔‘

ینگ لی نے کہا کہ وہ ’عدالتی نظام پر بھروسہ کرتے ہیں‘ اور جج سے کہا کہ وہ’صحیح فیصلہ کریں۔‘

عدنان سید اور ہائی مین لی دونوں ہائی سکول کے طلبہ اور تارکین وطن خاندانوں کے بچے تھے۔ ایک پاکستانی اور دوسری جنوبی کوریائی، جنہوں نے اپنے قدامت پسند والدین سے اپنے تعلقات کو چھپایا تھا۔

استغاثہ نے مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا کہ ہائی مین لی کے ساتھ تعلقات ختم ہونے کے بعد عدنان سید ایک اپنے آپ کو حقیر محسوس کرتے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ