متروک ہوتے ہوئے چونے کی تیاری کے مراحل

روہڑی سے تعلق رکھنے والے خادم حسین شر جو گذشتہ تین نسلوں سے اس کام سے منسلک ہیں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پھتر سے چونا بنانے کا عمل خاصا محنت طلب ہوتا ہے۔

چونا پوتنا یا چونا لگانا خاص معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے البتہ چونا کچھ عرصہ قبل گھروں کی دیواروں کو رنگنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا لیکن جدت آنے کے بعد اب گھروں میں چونے کی پوتائی کا کام  خاصا کم ہوگیا ہے تاہم اس کا صنعتی استعمال اب بھی کیا جاتا ہے۔

مگر یہ چونا تیار کیسے ہوتا ہے؟

لاِئم اسٹون یعنی چونا مخصوص پہاڑی پتھروں کو بھٹی میں پکا کر تیار کیا جاتا ہے۔ سکھر ڈویژن میں موٹروے سکھر انٹرچینج کے قریب ہلکے زرد رنگ کے پتھروں کا طویل پہاڑی سلسلہ ہے جہاں سے حاصل شدہ پتھروں کو بھٹی میں پکا کر چونا تیار کیا جاتا ہے۔

جس پتھر کو چونا بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس میں کیلشیم کی خاصی مقدار شامل ہوتی ہے۔

روہڑی سے تعلق رکھنے والے خادم حسین شر جو گذشتہ تین نسلوں سے اس کام سے منسلک ہیں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پتھر سے چونا بنانے کا عمل خاصا محنت طلب ہوتا ہے۔

’اس کے لیے روہڑی بائی پاس کے اطراف پہاڑوں سے لایا جانے والا مخصوص پتھر توڑ کر باریک کیا جاتا ہے پھر اسے چھ تا آٹھ فٹ کی مینار نما بھٹی میں ایک مخصوص انداز میں رکھا جاتا ہے۔ اس کام کو کرنے والے مستری اس کام میں مہارت رکھتے ہیں۔ جب یہ کچی بھٹی تیار ہوجاتی ہے تو اسے کھجور کے پتوں سے داغا جاتا ہے۔‘

خادم حسین کا کہنا ہے کہ ’اس بھٹی کا ایندھن بھی ہم مقامی کھجور کی فصلوں سے ان کی ناکارہ ٹہنیوں اور پتوں سے حاصل کرتے ہیں۔ جس کے بعد مزید 24 گھنٹے کے لیے ٹھنڈا ہونے رکھ دیا دیا جاتا ہے جس کے بعد اسے نکال کر بوریوں میں بھرا جاتا ہے تاکہ ملک بھر میں سپلائی کیا جاسکے۔‘

خادم حسین کے مطابق اس کے نرخ بروکر طے کرتے ہیں جس وجہ سے بعض اوقت منافع پورا نہیں ملتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اگر حکومت اس سلسلے میں اقدامات کرے اور اس کے نرخ مقرر کرے تو ہم اس کام سے وابستہ مزدوروں کو اچھا معاوضہ دے سکتے ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں خادم حسین نے بتایا کہ ’ربر ٹائر تو درکنار ہم تو کوئلہ بھی استعمال نہیں کرتے، اس بھٹی کا ایندھن پتے اور ٹہنیاں ہوتی ہیں جس سے ماحولیاتی آلودگی اور ہمارے ملازمین کی صحت پر مضر اثرات نہیں پڑتے اور ربڑ کا استعمال چونے میں ممکن بھی نہیں کیوں کہ اس سے نکلنے والے ذرات پھٹوں کو ڈھک لیں گے جس سے سفید چونے کا حصول ممکن نہیں ہو گا۔‘

چونے کے بھٹے کے ایک مالک علی شیر نے بتایا کہ ایک بھٹی میں 20 ٹن تک چونا تیار ہوتا ہے جسے ملک بھر میں سپلائی کیا جاتا ہے تاہم کبھی کبھار ناقص پتھروں یا آگ درست طرح نہ لگنے کی صورت میں کافی مال خراب ہوجاتا ہے۔

ان کے مطابق: ’ایک بھٹی کی تیاری میں مسلسل چار روز کا وقت لگتا ہے جبکہ مکمل تیار ہونے میں 15 دن تک کا وقت لگ جاتا ہے۔ تیار چونا کھلا رکھا جائے تو تین دن بعد یہ ڈھیلے پوڈر کی شکل اختیار کرلیتا ہے جبکہ اسے کٹوں میں پیک کرکے رکھا جائے تو کئی دن تک اپنی افادیت قائم رکھتا ہے۔‘

چونے کے علاوہ بھٹی میں ویسٹ مٹیریل نکلتا ہے اس میں کھانگر(کالا پتھر) جو اکثر لوگ سیم والے علاقوں میں مکانوں کی بنیادوں میں استعمال کرتے ہیں جبکہ کیری بھی نکلتی ہے جو کوئلے کی طرح بہت ہلکی ہوتی ہے جبکہ اس کا حجم زیادہ ہوتا ہے۔

چونے کا پوڈر اکثر لوگ سڑکوں پر استقبالیہ نشانات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایک بھٹی میں مختلف کام کرنے والے 20 سے 25 افراد کام کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا