کشمیری صحافی کو دہلی ایئرپورٹ پر روکنے پر امریکہ کا اظہار تشویش

28 سالہ صحافی کا کہنا ہے کہ ’مجھے بغیر کسی وجہ کے روکا گیا اور دوسرے لوگوں کو جانے دیا گیا۔ شاید اس کا تعلق میرے کشمیری ہونے سے ہے۔‘

ثنا ارشاد متو ان چار صحافیوں میں شامل تھیں جنہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کے لیے کام کرتے ہوئے رواں سال فیچر فوٹو گرافی کا پلٹرز پرائز جیتا تھا(تصویر: فری پریس کشمیر)

امریکہ نے انڈیا کے نئی دہلی ایئرپورٹ پر بیرون ملک سفر پر جانے والی کشمیری صحافی کو روکنے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آزادی صحافت کا احترام کرے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بدھ کو امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ وہ اس پیش رفت سے آگاہ ہے کہ صحافت کی دنیا کا معتبر ایوارڈ پلٹرز پرائز جیتنے والی کشمیری صحافی ثنا ارشاد متو کو انڈیا کے امیگریشن حکام نے نئی دہلی کے ہوائی اڈے پر روک لیا اور امریکہ ’اس صورت حال کو بغور دیکھ رہا ہے۔‘

محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پاٹیل نے مزید کہا کہ ’انڈیا امریکہ کے باہمی تعلقات میں جمہوری اقدار اور صحافتی آزادی کا احترام اہم ترین ہے۔‘

تاہم انہوں امریکہ کے اس معاملے پر انڈیا سے اعتراض کرنے کے سے مزید معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ہندو قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں ملک میں انسانی حقوق اور صحافتی آزادی کی صورت حال مخدوش ہے اور تنقید کرنے والے صحافیوں بالخصوص خواتین صحافیوں کو آن لائن بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


بدھ کو انڈیا کے دورے پر آئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آزادی کے بعد سے بھارت کی کامیابیوں پر اس کی تعریف کی ہے لیکن انہوں نے نئی دہلی سے ’صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، طلبہ اور دانشوروں کے حقوق کا تحفظ‘ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ثنا ارشاد متو ان چار صحافیوں میں شامل تھیں جنہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کے لیے کام کرتے ہوئے رواں سال فیچر فوٹو گرافی کا پلٹرز پرائز جیتا تھا۔

ایئرپورٹ پر حکام کے جانب سے روکنے جانے کے بعد ثنا ارشاد کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں جانتی مجھے کیا کہنا چاہیے۔ یہ میرے لیے زندگی میں ایک بار ملنے والا موقع تھا۔‘

28 سالہ صحافی کا کہنا ہے کہ ’مجھے بغیر کسی وجہ کے روکا گیا اور دوسرے لوگوں کو جانے دیا گیا۔ شاید اس کا تعلق میرے کشمیری ہونے سے ہے۔‘

یہ دوسرا موقع تھا جب انہیں انڈیا سے جاتے ہوئے روک دیا گیا۔ اس سے قبل جولائی میں انہیں پیرس جاتے ہوئے بھی روک دیا گیا تھا۔

سال 2019 میں کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے بعد انڈین حکام گذشتہ تین سال کے دوران کئی کشمیری صحافیوں کو ملک سے باہر جانے سے روک چکے ہیں۔

جولائی میں ہی گارڈین کے لیے لکھنے والے صحافی آکاش حسن کو بھی نئی دہلی سے کولمبو جانے والی پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا