پاکستانی شوہر کی افغان اہلیہ: ’آپ نکاح نامہ، پاسپورٹ نہیں بنوا سکتے‘

پاکستانی شہری غفران چاہتے ہیں کہ ان کی افغان اہلیہ اور بچے ان کے پاس لندن آ جائیں لیکن وہ ان کے پاسپورٹ بننے میں حائل رکاوٹوں سے پریشان ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 27 لاکھ افغان پناہ گزین ہیں (یو این ایچ سی آر پاکستان)

محمد غفران کا تعلق پشاور سے ہے اور آج کل وہ لندن میں پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

غفران نے ایم فل کی ڈگری بھی لندن کی یونیورسٹی سے حاصل کی ہے۔ وہ کچھ عرصہ پاکستان میں ملازمت کرنے کے بعد دوبارہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن آ گئے۔

ان کی اہلیہ افغان ہیں تاہم ان کی پیدائش پشاور میں ہوئی۔ ان کی اہلیہ کا خاندان بھی گذشتہ 30 سالوں سے پشاور میں رہائش پذیر ہے۔

غفران اب اپنی اہلیہ اور بچوں کو لندن لے جانا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔

غفران نے بتایا: ’میری اہلیہ کے پاس افغان پاسپورٹ نہیں کیونکہ وہ یہیں پیدا ہوئیں اور زندگی میں کبھی افغانستان نہیں گئیں۔

’ان کے پاس صرف افغان پناہ گزینوں کے لیے نادرا کا جاری کردہ خصوصی کارڈ ہے۔‘

انہیں لے جانے کے لیے پاکستان کا پاسپورٹ اور نکاح نامہ ہونا ضروری ہے۔

غفران نے بتایا، ’پہلے تو میں جب یونین کونسل گیا تو مجھے کہا گیا کہ نادرا کی جانب سے افغان سیٹیزن کارڈ پر نکاح نامہ نہیں بن سکتا۔

’یہ صرف اس شناخت کے لیے ہے کہ آپ کی اہلیہ رجسٹرڈ افغان پناہ گزین ہے اور اس کے علاوہ اس پر کوئی دستاویز نہیں بنائی جا سکتی۔‘

غفران نے بتایا کہ وہ مزید پریشان ہو گئے کیونکہ اب تو وہ بچوں کے بھی کارڈ اور پاسپورٹ نہین بنوا سکتے جب تک ان کی اہلیہ کے پاس پاکستانی پاسپورٹ یا شناختی کارڈ نہ ہو۔

’بچوں کا نہ میں فارم ب بنا سکتا ہوں وار نہ ان کا پاسپورٹ بن سکتا ہے کیونکہ میری اہلیہ کے پاس پاسپورٹ یا پاکستانی شناختی کارڈ نہیں ہے اور نہ وہ اب افغانستان جا سکتی ہے کہ اپنے لیے پاسپورٹ بنا سکے۔‘

غفران کے مطابق وہ تقریباً تین مہینوں سے لندن میں اپنے بچوں اور اہلیہ سے دور ہیں۔ ’مجھے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔‘

انہوں نے بتایا، ’اب میں اپنی اہلیہ کو کابل بھی نہیں بھیج سکتے کیونکہ میں یہاں پر ہیں اور کابل میں پاسپورٹ بھی اتنی آسانی سے نہیں مل سکتا۔

 ’تاہم میں نے اپنی کوشش جاری رکھی ہے اور پاکستانی امیگریشن کے قوانین وغیرہ کو دیکھتا ہوں لیکن ان قوانین میں یہی لکھا ہے کہ اہلیہ کے پاس پاکستانی پاسپورٹ لازمی ہے۔

غفران نے بتایا، ’اہلیہ کے پاکستانی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے اب خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ کے لیے بھی وہ اہل نہیں۔

’میری اہلیہ کے پاس افغان پناہ گزین کارڈ ہے جس کی وجہ سے وہ اور بچے صحت کارڈ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔‘

غفران کی طرح بہت سے ایسے پاکستانی ہیں جنھوں نے افغان شہریت رکھنے والی خواتین یا افغان مردوں نے پاکستانی خواتین کے ساتھ شادیاں کر رکھی ہیں اور ان سب کو غفران کی طرح اسی قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔

تاہم گذشتہ ہفتے اسی طرح کے ایک مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک درخواست گزار کی درخواست پر فیصلہ سنایا ہے۔

24 سالہ درخواست گزار فضل حق نے، جو افغان ہیں لیکن پاکستان میں پیدا ہوئے، عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ چونکہ پاکستان میں پیدا ہوئے لہٰذا ان کو پاکستانی شہریت دی جائے۔

روزنامہ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق مقدمے کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی اور عدالت نے وزارت داخلہ کو افغان شہریوں کو جو پاکستان میں پیدا ہوئے، شہریت دینے کے لیے اقدامات کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہ سمیت کئی ممالک میں پیدائش پر شہریت دی جاتی ہے اور پاکستان قوانین میں بھی لکھا ہے کہ جو یہاں پیدا ہوئے ہیں وہ پاکستان کے شہری تصور ہوں گے۔

عدالت نے بتایا کہ درخوست گزار کو صرف پیدائش کا سرٹیفکیٹ وزارت داخلہ میں جمع کرنے ہوں گے اور وزارت داخلہ درخواست گزار کو شہریت دینے کے لیے جمعے تک اقدامات کرے۔

وزارت داخلہ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ درخواست گزار کی جانب سے پیدائش کا سرٹیفکیٹ جمع ہو جائے تو کیس پر کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

پاکستانی شہریت کی قانون کیا ہے؟

پاکستان میں شہریت کے حوالے سے ’پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951‘موجود ہے جس کے تحت ’پاکستانی شہری‘ کی تعریف کے حوالے سے شقیں موجود ہیں۔

اس قانون کے تحت پاکستانی شہری وہ ہوگا جو پاکستانی سرزمین پر 14 اگست، 1947 کے بعد پیدا ہوا اور اس تاریخ کے بعد اس نے کسی دوسرے ملک میں مستقل طور پر رہائش اختیار نہیں کی۔

تاہم اس شق میں یہ بھی لکھا ہے کہ پیدائش کے وقت کسی بھی شخص کے والدین نے کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار نہ کی ہو اور اگر ایسا ہے تو وہ شخص پاکستان شہری تصور نہیں ہوگا۔

اسی طرح اسی ایکٹ کے تحت وہ شخص پاکستان کا شہری تصور ہوگا، جس کے ایکٹ کے نافذ ہونے کے وقت والدین پاکستانی شہری ہوں۔

افغان پناہ گزینوں، جو پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں، کے لیے 2018 میں اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے شہریت دینے کا اعلان کیا تھا لیکن افغان پناہ گزیوں کے مطابق ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا۔

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 27 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں جو ’افغان جہاد‘ کے دوران پاکستان نقل مکانی کر گئے تھے، جس کی سب سے زیادہ تعداد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آباد ہے۔

عمران خان نے کراچی میں ایک اجتماع سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ افغان پناہ گزین جو یہاں پیدا اور پلے بڑھے ان کو پاکستانی شہریت دی جائے گی کیونکہ ان کے مطابق ایسا تمام دنیا میں ہوتا ہے۔

عمران خان نے اس وقت بتایا تھا: ’یہ بھی انسان ہیں اور پچھلے 40 سالوں سے ہم نے ان کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سے محروم رکھا۔‘

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

عمر اعجاز گیلانی اسلام آباد ہائی کورٹ کے وکیل اور افغان درخواست گزار کے کیس کی پیروی کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ان افغان باشندوں کی، جو پاکستان میں پیدا ہوئے، درخواست عدالت میں جمع کرائی اور عدالت میں پاکستانی قانون کا ذکر کیا گیا ہے جس کے تحت جو بھی بچہ پاکستانی سرزمین پر پیدا ہوا ہو وہ پاکستانی شہری ہوگا۔

عمر اعجاز گیلانی نے بتایا، ’تقسیم ہند کے بعد 1951 میں اس وقت کی حکومت نے باقاعدہ یہ قانون پارلیمنٹ سے پاس کرایا ہے جس کے تحت کوئی بھی بچہ پاکستانی سرزمین میں پیدا ہوتے ہی پاکستانی شہری تصور ہوگا اور ان کو وہی حقوق حاصل ہوں گی جو کسی بھی شہری کو حاصل ہیں۔‘

اسی طرح انہوں نے افغان خواتین کا پاکستانی مردوں اور پاکستانی خواتین کا افغان مردوں سے شادی کے حوالے سے بتایا کہ شہری قانون میں یہ بھی درج ہے کہ اگر کسی پاکستانی مرد نے غیرملکی خاتون سے شادی کی، تو ان کی اہلیہ پاکستانی شہریت حاصل کر سکتی ہیں۔

عمر گیلانی نے بتایا، ’جب تک ان دونوں کے مابین نکاح قائم ہے، تب تک غیر ملکی خاتون کو پاکستانی شہریت حاصل ہوگی جبکہ ان کے بچوں کو بھی پاکستانی شہریت ملے گی۔‘

عمر گیلانی نے تاہم یہ بتایا کہ اگر کسی پاکستانی خاتون نے غیر ملکی سے شادی کی تو اس قانون میں یہ واضح ہے کہ ان کو شہریت ملے گی البتہ اس قانون میں بچوں کے حوالے سے ضرورت ہے کہ اگر کسی بچے کا والدین میں سے کوئی بھی پاکستانی شہری ہے، تو پاکستانی کی شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریمارکس کے بعد اور اس سارے معاملے پر انڈپینڈنٹ اردو نے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان