اسرائیلی مظالم میں اضافہ، درجنوں فلسطینیوں کے مکانات منہدم

ناقدین کے مطابق ان مکانات کا انہدام اسرائیل کی جانب سے مشرقی یروشلم کے علاقے پر غلبہ پانے اور وہاں کے رہائشیوں کو جبری بے گھر کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

ناقدین کے مطابق ان مکانات کا انہدام اسرائیل کی جانب سے مشرقی یروشلم کے علاقے پر غلبہ پانے اور وہاں کے رہائشیوں کو جبری بے گھر کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے(ای پی اے)

اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں پیر کے روز درجنوں فلسطینیوں کے مکانات کو گرانا شروع کر دیا۔ عالمی برادری کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی اس کارروائی کی مذمت کی جا رہی ہے۔

فلسطینی علاقے سربحر میں مکانات کو منہدم کی جانے کی اس کارروائی میں بلڈوزروں کے ساتھ سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے بھی حصہ لیا۔ یہ علاقہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے تعمیر کی جانے والی سینکڑوں میل طویل دیوار کے قریب واقع ہے۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق ان مکانات کا دیوار کے قریب موجود ہونا سیکیورٹی رسک تھا اور یہ غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔

ناقدین کے مطابق ان مکانات کا انہدام اسرائیل کی جانب سے مشرقی یروشلم کے علاقے پر غلبہ پانے اور وہاں کے رہائشیوں کو جبری بے گھر کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد مغربی کنارے اورمشرقی یروشلم کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مشرقی یروشلم، اسرائیل کا ناقابل تقسیم دارالحکومت ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے دونوں علاقوں کو مقبوضہ تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ فلسطینی عوام ان دونوں علاقوں کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کے حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

سربحر کے محل وقوع نے اسے اس تنازع کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ اس گاؤں کے کچھ حصے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی میونسپل کی حدوں میں اور مغربی کنارے کی سرحد سے باہر واقع ہیں جبکہ کچھ علاقے درمیان میں ہیں جو یروشلم سے باہر ہیں لیکن رکاوٹوں کی اسرائیلی طرف موجود ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مکانات کے فلسطینی مالکان کے مطابق ان کے گھر فلسطینی حکام کے زیر انتظام علاقوں میں واقع ہیں، جن کو مقبوضہ مغربی کنارے میں محدود اختیارات حاصل ہیں۔ اسرائیل کی سپریم کورٹ نے اس ماہ سربحر کے رہائشیوں کی جانب سے کی جانے اپیل کو مسترد کر دیا تھا جس کے بعد ان مکانات کی انہدام کی راہ ہموار ہوگئی۔

اسرائیل کے تحفظ عامہ کے وزیر گیلاد اردن کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر قانونی تعمیرات کو بہت سنگین خطرہ قرار دیتا ہے جو عام شہریوں کے درمیان خودکش بمباروں کو چھپنے کے ٹھکانے مہیا کرسکتی ہیں۔

فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے مکانات کے گرائے جانے کو ’سنگین جارحیت‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’یہ یروشلم کے رہائشیوں کی ان کے گھروں اور زمینوں سے جبری بے دخلی کے سلسلے کا تسلسل ہے۔ یہ ایک جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔‘

یورپی یونین نے ان تعمیرات کے انہدام کی مذمت کی ہے۔ یورپی یونین کے ایک بیان میں کہا گیا: ’اس طرح کی صورتحال کا جاری رہنا پائیدار امن اور دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔‘

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کوآرڈینیٹر جیمی میکگولڈرک اور اقوام متحدہ کے دیگر عہدیداروں نے گذشتہ ہفتے اسرائیلی حکام پر ان تعمیرات کے نہ گرانے پر زور دیا تھا۔ ان کے مطابق 10 عمارتوں کو گرائے جانے سے 17 فلسطینی جبری بے دخلی کا شکار ہو جائیں گے۔ ان عمارتوں میں درجنوں اپارٹمنٹس قائم ہیں۔

(اس رپورٹ میں خبر ایجنسیوں کی معاونت شامل ہے)

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا