اسلام آباد میں ہر وقت سات ڈرون پرواز کرتے رہتے ہیں: پولیس

سیف سٹی اسلام آباد کے سربراہ نے بتایا ہے کہ شہر کی نگرانی کے لیے ڈرونز کے علاوہ مختلف مقامات پر 2600 کیمرے نصب ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے گنجان آباد علاقے سے ذرا فاصلے پر سرکاری عمارتوں کے بیچ بلند دیواروں کے پیچھے ’سیف سٹی‘ اسلام آباد منصوبے کی عمارت ہے، جہاں سے 24 گھنٹے کیمرے کی آنکھ سے شہر کے مختلف علاقوں پر نظر رکھی جاتی ہے۔

قریبی عمارتوں سے قدرے مختلف اس بلڈنگ کے کنٹرول روم میں داخل ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے شہر کا ایک بڑا حصہ آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔

آپ اگر کسی مخصوص شاہراہ یا چوراہے کو دیکھنا چاہیں تو کیمرے کی آنکھ آپ کو اس جگہ کے اس قدر قریب لے جاتی ہے جہاں آپ خود کو سڑک کنارے کھڑا محسوس کر سکتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کو سیف سٹی کے کنٹرول روم تک رسائی دی گئی جہاں ایک بڑے ہال میں لگے کیمروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیف سٹی کے سربراہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس رومیل اکرم نے کہا کہ کیمرے جرم کو روک تو نہیں سکتے لیکن جرم کے بعد مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں کلیدی کردار ضرور ادا کرتے ہیں۔

’پچھلے چھ ماہ میں ہم نے کوئی 600 مزید کمیرے لگائے ہیں جس کے بعد شہر میں نصب فعال کیمروں کی تعداد 2600 ہو گئی ہے۔‘

رومیل اکرم کا کہنا تھا کہ اب ’جرم والا بچ نہیں پائے گا اور پکڑا جائے گا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ان کمیروں کی مدد سے حاصل ہونے والی ویڈیوز سے ’ملزم کو مجرم ثابت کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔‘

اسلام آباد پولیس نگرانی کے لیے اب ڈرون بھی استعمال کر رہی ہے۔ 

وفاقی دارالحکومت میں’ٹریل تھری‘ نامی ایک ہائیکنگ ٹریک پر عموماً سہ پہر کے وقت خاص رش ہوتا ہے اور گھنے درختوں میں گھرے اس ٹریل کی بھی نگرانی ڈرون سے کی جاتی ہے۔

’سات چھوٹے ڈرون ہر وقت اسلام آباد کی فضاؤں میں رہتے ہیں جو شاید آپ کو نظر نہیں آتے، کرائم پاکٹس (ایسی جہگیں جہاں جرائم شرح زیادہ ہوتی ہے) اُن کو ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رومیل اکرم کا کہنا تھا کہ ’سہ پہر تین سے شام سات بجے تک ٹریل تھری پر خاصا رش ہوتا ہے اور پولیس ڈرون کی مدد سے وہاں نگرانی کر رہی ہوتی ہے تاکہ ٹریل پر موجود بچوں اور خواتین خود کو محفوظ سمجھیں۔‘

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اب صرف ملزمان کی نشاندہی تک ہی نہیں رہے گا بلکہ ماضی کے مقابلے میں حد رفتار سے تجاوز کرنے والی گاڑیوں کے’ای چالان‘بھی کیے جائیں گے۔

سیف سٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ای چالان کے لیے پہلے اسلام آباد میں صرف چار مقامات پر کمیرے نصب تھے اور ان کی تعداد بڑھا کر 44 کر دی گئی جن میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس لیے اب آئندہ آنے والے مہینوں میں ای چالان کی شرح بھی بڑھے گی۔

پاکستان کے دارالحکومت کو محفوظ بنانے کے اس منصوبے کا افتتاح تو 2016 میں ہوا تھا لیکن پولیس کے مطابق گزرتے وقت کے ساتھ شہر میں نصب کیمروں اور ٹیکنالوجی میں بہتری کے ساتھ ساتھ اب یہ شہر اور اس کے باسی زیادہ محفوظ ہیں اور جرم کرنے والوں کا بچنا قدرے مشکل ہے۔

تاہم اب بھی شہر کا صرف 30 فیصد حصہ ایسا ہے جس کی نگرانی نصب شدہ کمیروں سے جاتی ہے۔

کسی خاص علاقے میں ہنگامی طور پر پہنچنے کے لیے پولیس کے پاس گاڑیوں میں نصب موبائل کمیرے بھی  ہیں جن کی تعداد بڑھانے کے لیے ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔

(ایڈیٹنگ: بلال مظہر)

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی