پی ٹی آئی کا لانگ مارچ چھ دن سے چھ ماہ میں کیسے تبدیل ہوا؟

یہ مارچ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب آرمی چیف کی تعیناتی کا موضوع مسلسل بحث کا محور بنا رہا جبکہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائر ہو رہے ہیں۔

29 اکتوبر 2022 کی اس تصویر میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان لاہور میں لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے(اے ایف پی)

تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد رواں سال 25 مئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد پہنچنے پر کنٹینر سے ’چھ دن میں دوبارہ لانگ مارچ‘ شروع کرنے کے اعلان کے بعد اس وقت کا احتجاج ختم کیا تھا۔

عمران خان بار بار جلسوں میں اعلان کرتے رہے کہ وہ نئے مارچ کی جلد تاریخ دیں گے لیکن اس میں تقریباً چھ ماہ کا وقت لگ گیا اور بالآخر لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں 28 اکتوبر کو انہوں نے لبرٹی چوک سے مارچ کے آغاز کا اچانک اعلان کر دیا۔

اس وقت تک معروف اینکر پرسن ارشد شریف کا کینیا میں قتل اور پی ٹی آئی رہنما اور سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری اور دوران حراست مبینہ زیادتی کے واقعات سامنے آ چکے تھے۔ مبصرین کے مطابق نئے مارچ کی تاریخ عمران خان کے خیال میں انہیں دن بدن دیوار سے لگانے کی وجہ سے دی گئی۔

یہ مارچ شروع تو بہت جوش و خروش سے ہوا لیکن تین نومبر کو وزیرآباد میں عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سست پڑ گیا اور اب بالآخر آج (26 نومبر کو) راولپنڈی پہنچ رہا ہے، جس کے لیے انتظامیہ نے تحریک انصاف کو چند شرائط کے ساتھ اجازت دے دی ہے۔ ان میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کو فیض آباد کو 26 اگست کی رات تک خالی کرنا ہو گا۔

اگرچہ عمران خان نے مارچ کے اعلان کے وقت معاشی ابتری اور دیگر واقعات کو وجہ بتایا لیکن بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان پر ’مارچ کے ذریعے آرمی چیف کی تعیناتی پر اثرانداز ہونے کی کوشش‘ کا الزام لگتا رہا، وہیں مبصرین اس کے تاخیر کی وجہ سٹریٹ پاور میں کمی آنے اور زیادہ لوگوں کو سڑکوں پر نہ نکال پانا بھی بتاتے رہے۔

پہلے لانگ مارچ کے وقت عمران خان کا ہدف اسلام آباد پہنچنا تھا جبکہ اب اس مارچ کی منزل وفاقی دارالحکومت کے بجائے راولپنڈی ہوگی۔

یہ مارچ راولپنڈی ایک ایسے میں وقت پہنچ رہا ہے جب پاکستانی فوج کا ہیڈکواٹرز یعنی جی ایچ کیو اعلیٰ قیادت کی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا موضوع اب بھی بحث کا محور بنا ہوا ہے جبکہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت ختم ہونے میں تین دن رہ گئے ہیں۔

صدر عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کے تجویز کردہ جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تعیناتی کی منظوری دے دی ہے، لیکن اس سے قبل عمران خان کی جانب سے اس اہم عہدے سے متعلق کئی بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ 

سیاسی مبصرین اس مارچ میں تاخیر کی وجہ عمران خان کے مطالبات نہ مانے جانے کو قرار دے رہے ہیں۔

 مبصرین کے مطابق عمران خان ابتدائی طور پر پرامید تھے کہ ان کے مطالبات مانے جائیں گے لیکن جب مطالبات مانے جانے کا کوئی امکان نظر نہیں آیا تو عمران خان نے لانگ مارچ کا کارڈ آخر میں کھیلنے کا فیصلہ کیا اور اسی دوران عمران خان اور حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بیچ کا راستہ اور مذاکرات کے ذریعے معاملات کا حل نکالنے کی کوششیں بھی ہوتی رہیں، جس کا خود صدر عارف علوی بھی اعتراف کر چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لانگ مارچ کی کال کے دوران یہ بھی تنقید ہوئی کہ عمران خان آخری کارڈ پہلے ہی کھیل رے ہیں۔ اگر لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ گیا تو کیا ہوگا، عمران خان کو یہ کارڈ آخر میں کھیلنا چاہیے تھا۔

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ چھ دن میں شروع ہونے والے اس مارچ کا آغاز ہونے میں تقریبا چھ ماہ کیوں لگے۔

پی ٹی آئی کے رہنما فرخ حبیب سے جب اس حوالے سے بتا کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ملک میں ’رجیم چینج‘ ہونے اور فوری انتخابات کے لیے کال دی گئی تھی، لیکن 25 مئی کو جو ظلم کیا گیا تب یہ مارچ تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔

’مارچ کے پہلے دور کو اس لیے ختم کیا گیا کیونکہ پی ٹی آئی کو لگ رہا تھا کہ اس وقت عوام اور ملک کے سکیورٹی ادارے آمنے سامنے آ گئے تھے، خونریزی اور نقصان سے بچنے کے لیے یہ کیا گیا۔‘

فرخ حبیب کے مطابق: ’عمران خان نے سٹیٹس مین ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے مارچ کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد پی ٹی آئی نے 52 ملک گیرجلسے کیے۔ 15 ضمنی نشستیں جیتی اور پنجاب میں حکومت بنائی۔ اس دوران ہماری جماعت ملک میں صاف شفاف انتخابات کا موقع فراہم کرتی رہی۔ جب انہوں نے ایسا نہیں کیا تو ہم نے دوبارہ حقیقی آزادی مارچ کی کال دے دی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت نے اقتدار بچانے کے لیے پچھلے چھ ماہ میں ہر قسم کا ہتھکنڈا استعمال کیا ہے۔ ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت اورغیر مستحکم صورت حال کی وجہ سے ہمارا مارچ اور تحریک منطقی مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ عوام کی رائے کے خلاف کوئی بھی فیصلہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

ان کے مطابق: ’عوام کے برے حالات دیکھتے ہوئے امپورٹڈ حکومت کو مسلسل مواقع دیے جانے کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی تو اب یہ مارچ اپنی منزل کو پہنچ رہا ہے۔‘

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان فہد حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’لانگ مارچ کا مقصد حکومت پر نئے انتخابات کا مطالبہ ماننے اور نئے آرمی چیف کی تقرری پر دباؤ ڈالنا تھا لیکن لانگ مارچ بڑی تعداد میں عوام کو اکٹھا کرنے میں ناکام رہا اور اس حوالے سے لوگوں کی طرف سے ناقص ردعمل سامنے آیا، کیونکہ عمران خان سڑکوں پر دباؤ نہیں بنا سکے اس لیے انہوں نے مارچ کو سست کر دیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لانگ مارچ موجودہ صورت حال سے غیر موثر ہو گیا ہے کیوں کہ حکومت نے عمران خان کے مطالبے کے مطابق انتخابات نہ کروانے کا کہہ دیا ہے۔‘

فہد حسین کے مطابق: ’لانگ مارچ، بیان بازی، دعوؤں اور خواہشات پر مبنی تھا لیکن نتائج کے لحاظ سے مختصر رہا۔ اس کی چھ دن سے چھ ماہ میں تبدیلی کی وجہ عمران خان کا نتائج دینے میں ناکام ہونا ہے۔‘

صحافی و سیاسی تجزیہ نگار عاصمہ شیرازی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’چونکہ پی ٹی آئی نے آرمی چیف کی تعیناتی کو نشانہ بنایا تھا اور جب تعیناتی کا معاملہ حکومت کی جانب سے تاخیر کا شکار ہوتا چلا گیا اور نومبر کا مہینہ آخری تاریخوں تک پہنچا تو عمران خان نے راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی۔ اس دوران وہ عوام کو سڑکوں پر لانے میں ناکام رہے اور یہ مارچ گنتی کے اعتبار سے شکست خوردہ نظر آنا شروع ہو گیا۔‘

ان کے مطابق: ’اس کا مقصد پہلے دن سے حکومت پر پریشر ڈالنا تھا کہ اگر ہمارا اثر و رسوخ نہیں بڑھ رہا تو حکومت کا اثر و رسوخ کم کیا جا سکے جس میں انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ یہ ایک اہم سوال ہے کہ اب عمران خان کیا بیانیہ استعمال کریں گے؟ اینٹی امریکہ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے سے عمران خان پہلے ہی پیچھے ہٹ چکے ہیں اور کیا وہ نئی اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنانے کا خطرہ مول لے سکتے ہیں؟‘

بقول عاصمہ شیرازی: ’یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں وہ خود الجھن میں ہیں کہ ان کی سیاست کا بیانیہ کیا ہوگا اور وہ اسے کیسے برقرار رکھیں گے؟‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست