پاکستانی طالبان کا شیڈو کابینہ اور دوسرے ذمہ داران کا اعلان

تحریک طالبان پاکستان نے افغان طالبان کی طرز پر کابینہ اراکین، صوبائی گورنروں اور دوسرے ذمہ داران کی تعیناتی کی ہے، تاہم ان افراد سے متعلق زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

ٹی ٹی پی نے گذشتہ ہفتے کے دوران کابینہ، صوبوں کے گورنرز اور شعبہ جات کے لیے سربراہان، نائبین اور دیگر ذمہ داران کی تقریریاں کی ہیں، جن کا اعلان بیانات میں کیا گیا (اے ایف پی)

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت اور ’رہبری شوریٰ‘ نے افغان طالبان کی طرز پر 2023 کے لیے کابینہ، صوبائی گورنرز اور مختلف کمیشنز کے سربراہان کی تقرریاں کی ہیں۔

افغانستان میں امریکہ اور نیٹو فوجیوں کے خلاف 20 سالہ جنگ کے دوران افغان طالبان 34 صوبوں کے لیے شیڈو گورنرز اور فوجی کمیشن کے علاوہ کئی دوسرے کمیشنز کے لیے باقاعدہ تقرریاں کرتے تھے۔

سال 2021 میں کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد افغان طالبان کی تنظیم کے ذمہ داروں میں سے اکثریت کو ان ہی شعبوں میں ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

اس کی بہترین مثال ملا یعقوب مجاہد کی ہے، جو کابل پر طالبان کے کنٹرول سے پہلے تنظیم کے فوجی کمیشن کے سربراہ تھے اور طالبان حکومت میں انہیں وزیر دفاع بنایا گیا ہے۔

افغان طالبان کی طرح ٹی ٹی پی نے بھی اپنی شوریٰ کو ’رہبری شوریٰ‘ کا نام دیا ہے۔

اسی ہفتے ٹی ٹی پی نے اپنی کابینہ، صوبوں کے گورنرز اور شعبہ جات کے لیے سربراہان، نائبین اور دیگر ذمہ داران کی تقریریاں کی ہیں، جن کا اعلان بیانات میں کیا گیا ہے۔

 ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے کابینہ اور کمیشنز بنانے سے متعلق میرے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’یہ تنظیمی ڈھانچہ ہے اور مقصد ایک ہی ہے۔ تحریک کی بہتری کے لیے سب کچھ کرتے ہیں کہ ہر کام منظم طریقے سے ہو۔‘

ٹی ٹی پی کی افغان طالبان طرز پر کابینہ اور تنظیم سازی سے متعلق سوال پر پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کے سابق سربراہ احسان غنی کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی ہمیشہ افغان طالبان کے زیر اثر رہی ہے۔

احسان غنی نے کہا کہ ٹی ٹی پی کی توجہ شریعت پر نہیں بلکہ ایک خود مختار علاقے پر ہے۔ ’ہم یہ بات پہلے بھی کہتے رہے ہیں، لیکن پالیسی سازوں نے اس کو اہمیت نہیں دی، کیونکہ وہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں۔‘

احسان غنی کی بات سے اتفاق کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ٹی ٹی پی کے اپنی کابینہ اور دیگر ذمہ داران کی تقرری سے متعلق اردو بیان میں پشتو اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔

مثلاً صوبے کے لیے ’ولایت‘، گورنر کے لیے ’والی‘، ضلع کے لیے ’ولسوالی‘، فوجی کے لیے ’نظامی‘ اور قیادت کے لیے ’مشرتابہ‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔

ٹی ٹی پی کی کابینہ میں شامل شخصیات سے متعلق زیادہ معلومات شیئر نہیں کی گئی ہیں اور پاکستانی طالبان سے متعلق خبروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کا بھی کہنا ہے کہ کابینہ اور دیگر ذمہ داران سے متعلق زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

ان کے بقول ٹی ٹی پی کے لوگ اکثر اصل نام استعمال نہیں کرتے، تاہم کابینہ کی فہرست میں امیر مفتی نور ولی محسود کے بعد اہم شخصیت ٹی ٹی پی کے وزیر دفاع مفتی مزاحم کی ہے، جو کہ گروپ کے نائب امیر بھی ہیں۔

ریاست پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے اور حملے شروع کرنے کا اعلان بھی مفتی مزاحم نے ہی ایک بیان میں کیا تھا۔

مفتی مزاحم کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ مہینے امریکہ نے انہیں عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق قاری امجد پاکستان کے قبائلی اضلاع اور خیبر پختونخوا میں آپریشنز اور شدت پسندوں کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں جبکہ مفتی مزاحم کا تعلق ضلع لوئر دیر کے علاقے ثمر باغ سے ہے اور وہ اس وقت افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ کے علاقے دانگام میں موجود ہیں۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مالاکنڈ کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے خلاف آپریشنز کے بعد وہ افغانستان چلے گئے تھے۔

ٹی ٹی پی نے کابینہ کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب اسی گروپ نے خیبر پختونخوا میں کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے علاوہ ٹی ٹی پی نے 23 دسمبر کو اسلام آباد میں خودکش حملے کے علاوہ صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال میں آئی ایس آئی کے ملتان ریجن کے ڈائریکٹر نوید صادق اور انسپکٹر ناصر عباس کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

ٹی ٹی پی نے 30 نومبر کو کوئٹہ کے قریب بلوچستان کانسٹیبلری کی ایک گاڑی پر خود کش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی، جس میں ایک پولیس اہلکار سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان نے حملوں کا دائرہ کار بڑھایا ہے، لیکن اس گروپ کے حملوں کا مرکز خیبر پختونخوا ہی ہے۔

ٹی ٹی پی کابینہ کے دیگر وزرا میں وزیر فلاح و بہبود مفتی ابو ہریرہ، اقتصادی وزیر بلال، وزیر معارف (تعلیم) شیخ گل محمد، وزیر اطلاعات و نشریات مفتی غفران، شعبہ تعمیرات مولانا شاکر اور وزیر امور سیاسیہ ڈاکٹر محمود شامل ہیں۔

ٹی ٹی پی کے امیر ابو منصور عاصم (مفتی نور ولی محسود) کو انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے بھی یاد کیا گیا ہے۔

ٹی ٹی پی نے افغان طالبان کی طرز پر عدالتوں کے لیے بھی تقریریاں کی ہیں۔ افغانستان میں جس طرح عدالتوں کا نظام ہے اسی طرح پاکستانی طالبان نے ’محمکہ (عدالت) ابتدایہ‘ کا ذکر کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزراء کے علاوہ ٹی ٹی پی نے مفتی نعمت اللہ کو رئیس دارالافتا، میڈیا ونگ، عمر میڈیا کے انچارج چوہدری منیب الرحمان جٹ اور ترجمان محمد خراسانی کی تقرریاں کی ہیں۔

اس کے علاوہ ویڈیو، سوشل میڈیا، ویب سائٹ، میگزین کے لیے بھی ذمہ داران کی تقرریاں کی گئی ہیں۔

ٹی ٹی پی نے اطلاعات کا نظام بھی موثر بنایا ہے۔

صحافیوں کے ساتھ وٹس ایپ گروپس پر خبریں شیئر کرنے کے علاوہ اس گروپ نے ٹیلی گرام پر پشتو، اردو، عربی اور انگریزی زبانوں میں میڈیا مہمات کو منظم  کیا ہے اور ان زبانوں میں بیانات جاری کیے جاتے ہیں۔

افغانستان میں طالبان کی سابق حکومت سے وابستہ ایک رہنما سے ٹی ٹی پی کی کابینہ کی تشکیل کے مقاصد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی طالبان ہر وہ کام کریں گے جس سے اپنے مخالف کو پریشان کیا جا سکے۔ دوسرا مقصد ہے کہ گروپ بین الاقوامی سطح پر توجہ مبذول کرانا چاہتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستانی طالبان کی تشکیل اسلامی امارت (افغان طالبان) کی تشکیل سے مطابقت رکھتی ہے۔

نام شائع نہ کرنے کی درخواست پر طالبان رہنما نے کہا کہ پشتو بیان لکھنے میں کسی افغان نے ان کی مدد کی ہے کیونکہ ٹی ٹی پی اس طرح پشتو نہیں لکھ سکتی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان