برسوں تک امریکی راز کیوبا پہنچانے والی جاسوسہ جیل سے رہا

امریکہ میں اعلیٰ حکومتی تجزیہ کار بن کر جاسوسی کرنے والی اینا مونٹیس کی گرفتاری نائن الیون کے باعث دب گئی تھی۔

اینا مونٹیس جنہیں 20 سال سے زیادہ جیل میں رہنے کے بعد رہا کر دیا گیا (ایف بی آئی مونٹیس خاندان)

اینا مونٹیس نے امریکی انٹیلی جنس کے تاریخی پلندوں کو کھنگالتے ہوئے کئی برس جانفشانی سے کام کیا، اپنی ساکھ کیوبا کے بارے میں ایک ماہر فرد کے طور پر قائم کی اور چوری چھپے  فیدل کاسترو کی حکومت تک اہم راز پہنچاتی رہیں۔

ان کے محب وطن بہن بھائیوں اور ان کے شریک حیات ایف بی آئی کے لیے کام کرتے رہے۔

وہ اس وقت پکڑی گئیں جب بچپن میں اپنے خاندان کے ساتھ کیوبا سے فرار ہونے والی نیشنل سکیورٹی ایجنسی سے وابستہ ایک دھن کی پکی تجزیہ کار نے بہادری کے ساتھ چپکے سے ایسی غدار کی انتھک تلاش شروع کی جو امریکی معلومات کمیونسٹوں کو بیچ رہی تھی۔

اینا مونٹیس کی زندگی ایسا لگتا ہے جیسے ہالی وڈ کی کسی جاسوسی فلم کی کہانی ہو۔

اب ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کی سابق ملازمہ جیل سے رہا ہو چکی ہیں۔

مونٹیس 2001 میں گرفتار ہوئی تھیں جسے 20 سال سے زائد عرصہ گزر چکا مگر وہ کسی بھی طرح ایک مشہور نام نہیں بن پائیں۔

نئی کتاب ’کوڈ نیم بلیو رین: امریکہ کی خطرناک ترین خاتون جاسوس اور اس کی بہن کی سچی کہانی جسے اس نے دھوکہ دیا تھا‘ Code Name Blue Wren: The True Story of America’s Most Dangerous Female Spy - and the Sister She Betrayed. کے مصنف کہتے ہیں ’اگر اینا کو چند ہفتے پہلے گرفتار کر لیا جاتا اور نائن الیون نہ ہوا ہوتا تو مجھے لگتا ہے کہ ان کا نام رابرٹ ہینسن اور سی آئی اے کے رک ایمس جیسے زیادہ اہم جاسوسوں کے ساتھ لیا جاتا۔ یہ کہانی نائن الیون کی وجہ سے بالکل ہی دب کر رہ گئی۔‘

مونٹیس کی گرفتاری دہشت گرد طیاروں کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کو نشانہ بنانے کے محض 10 دن بعد عمل میں آئی جب حکومت اور امریکی عوام اس تباہ کن حملے کے گہرے صدمے میں تھے۔

نائن الیون کے بعد کیوبا کے لیے جاسوس کرنے والے کسی فرد کی گرفتاری، یہاں تک کہ اس کی حیران کن حد تک اعلیٰ سطح کی سکیورٹی کلیئرنس، کئی برس سے دھوکہ دہی اور اس کے خاندان کی قانون نافذ کرنے والی اداروں سے وابستگی کی تاریخ میڈیا میں معمولی سی توجہ بھی نہ کھینچ سکی۔

محض 11 ستمبر جیسا زمین کو دہلا دینے والا واقعہ ہی اس طرح کے خفیہ کارندے کی گرفتاری کو دھندلا سکتا تھا۔ انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی تلاش برسوں پہلے شروع ہو چکی تھی۔

مونٹیس ڈیڑھ عشرے سے بھی زیادہ مدت سے جاسوسی کرتی آ رہی تھیں جب بالآخر انہیں بے نقاب کیا گیا۔

مسٹر پوپکن اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں ایف بی آئی کو کور کرنے والے صحافی کے طور پر کام کر رہے تھے۔

اپنے باقی ہم عصروں کی طرح وہ بھی دہشت گردی کے حملوں کے بعد اسی دلدل میں پھنس گئے۔

مونٹیس کیس میں ان کی دلچسپی جزوی طور پر اس لیے زندہ رہی کیونکہ انہیں پتہ چلا کہ وہ ان کے دوست کے پرانے اپارٹمنٹ میں رہ رہی ہے، یہ ایک ایسی جگہ تھی جسے وہ اچھی طرح سے جانتے تھے۔

انہوں نے کھوج لگانی شروع کی اور جاسوس کی بہن لوسی کے ساتھ دوستی گانٹھ لی جو ایف بی آئی کی مترجم تھیں اور جس کے اپنے کیریئر نے کیوبا کے دیگر جاسوسوں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے میں مدد کی تھی۔

جب مونٹیس نے ٹیکسس کی جیل سے اپنی رہائی کے لیے تیاری پکڑی جہاں انہیں مینس گرل کہلائی جانے والی لینیٹ سکویکی فروم جیسی بدنام زمانہ قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا تھا۔

اس وقت مسٹر پوپکن نے اپنی برسوں پر محیط  تحقیق اور انٹرویوز کو مرتب کرنا شروع کر دیا کیونکہ اس بات کو کافی وقت گزر چکا تھا، سو بہت سے وہ افراد ان سے بات کرنے کو تیار تھے جنہوں نے مونٹیس کے زوال کی غیر معمولی کہانی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ان میں این ایس اے کی ایک تجزیہ کار بھی شامل ہے، جہاں مونٹیس کام کرتی تھیں، جس نے ایف بی آئی اور بعد میں ڈی آئی اے کو اطلاع دی تھی کہ ایجنسی کی صفوں میں کوئی جاسوس بھی بیٹھا ہے۔

کوڈ نیم بلیو ورین میں ایلین والڈیز کہلانے والی یہ عورت صرف چھ سال کی تھی جب اس نے کیوبا چھوڑا۔

مسٹر پوپکن کا کہنا ہے کہ وہ کاسترو کی حکومت کے لیے کام کرنے والے ایک ایجنٹ کو امریکی سرکاری صفوں میں سے بے نقاب کرنا ایک ’ذاتی مشن‘ سمجھتی تھی۔

مسٹر پوپکن لکھتے ہیں کہ این ایس اے کاؤنٹر انٹیلی جنس تجزیہ کار اور ان کے افسران نے پہلی بار 1998 میں ایف بی آئی کو کیوبا کے ایک جاسوس کے بارے میں بریف کیا، انہوں نے ایسے اشارے سامنے رکھے جن سے انکشاف ہوا تھا کہ کسی کارندے نے امریکی حکومت میں اعلی سطح تک رسائی حاصل کر لی تھی۔

دو سال بعد ’مسز والڈیز‘ سخت مایوس ہونے لگیں کیونکہ وہ سمجھتی تھیں اتنے زیادہ وقت میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔

اپنے  کیریئر کو خطرے میں ڈالتے ہوئے وہ ایف بی آئی سے آگے بڑھیں اور ڈی آئی اے کے تفتیش کاروں کے پاس جا پہنچیں۔

انہوں نے ان کی فراہم کردہ معلومات کو اکٹھا کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں یہ خفیہ کام اپنی ایجنسی میں ہی کرنا ہے۔

والڈیز کی کوششوں کے تقریباً ایک سال بعد مونٹیس کو گرفتار کیا گیا تھا۔

مسٹر پوپکن نے دی انڈپینڈنٹ کو والڈیز کے بارے میں بتایا کہ ’کیوبا میں پیدا ہونا اور یہ دیکھنا کہ وہاں کی انتظامیہ نے کیسا سلوک کیا اور اس نے ان کے اپنے خاندان کو کس طرح متاثر کیا، یہ ان کے لیے ایک ذاتی مشن تھا جس سے وہ رکنے والی نہیں تھیں۔

جب انہیں معلوم ہوا کہ کوئی اعلی امریکی اہلکار ایسا شخص ہے جو کاسترو حکومت کا جاسوس ہے تو وہاں کے جبر سے گہری واقفیت کے بعد اس کا پتہ لگانا اور پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہر طرح کی کوشش کرنا ان کے لیے ایک ذاتی مشن تھا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’یہی چیز ہے جس نے انہیں اس بات کو یقینی بنانے پر مجبور کیا کہ یہ کیس منطقی انجام کو پہنچے۔

کاش میں ان کا اصلی نام استعمال کر سکتا تاکہ لوگ واقعی جان سکیں کہ وہ کون ہے، کیونکہ یہ وہ انسان ہے جس نے ناقابل یقین بہادری کا مظاہرہ کیا اور ایک طرح سے وہ ایجنسی کے ایسے عام سے ملازمت پیشہ فرد ہیں جن کا نام تک کسی نے نہیں سنا ہو گا۔‘

تجزیہ کار کی بہادری نے ایک ایسے جاسوسی کیرئیر سے پردہ اٹھایا جس کا ریاست کینسس میں مونٹیس کے بچپن میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

اینا مونٹیس البرٹو مونٹیس اور ان کی اہلیہ ایمیلیا کے ہاں پیدا ہوئیں۔

پورٹو ریکو سے تعلق رکھنے والے ان کے والد پہلے امریکی فوج میں شامل ہوئے اور بعد میں فرائیڈین سائیکو تھراپسٹ بن گئے۔

مسٹر پوپکن نے البرٹو کو بدسلوکی کرنے والے سخت مزاج شخص کے طور پر بیان کیا ہے۔

مونٹیس کی پرورش کینسس اور میری لینڈ میں اپنی بہن اور دو بھائیوں کے ساتھ ہوئی، ان کا تعلیمی کیریئر اعلیٰ کامیابی سے روشن ہے۔

انہوں نے یونیورسٹی آف ورجینیا سے گریجویشن اور پھر جانز ہاپکنز کے ممتاز ادارے سکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل سٹڈیز سے ماسٹرز کیا۔

وہاں ان کی ملاقات کیوبا کی ایک جاسوس مارٹا ویلازیکویس سے ہوئی جس نے وسطی امریکہ میں بائیں بازو کی تحریکوں، خاص طور پر نکاراگوا میں سینڈی نسٹاس کے لیے مونٹیس میں ہمدردی کا جذبہ پیدا کیا۔

ویلازیکویس نے اپنی دوست کو کیوبا کے باشندوں کی مدد کرنے کے بہانے نکاراگون کی مدد کرنے کے لیے کام پر بھرتی کر لیا۔

مسٹر پوپکن لکھتے ہیں کہ بعد میں وہ آرام سے امریکی مداخلت کو روکنے کے واضح مقصد کے ساتھ کیوبا سے اپنی وفاداری تبدیل کر لیتی ہیں۔

یہ بات بہت اہم ہے کہ مونٹیس ایک نظریاتی جاسوس تھیں جنہیں چھوٹے موٹے اخراجات کے معاوضے کے علاوہ کچھ نہیں ملتا تھا جبکہ انہوں نے اپنی زندگی اور کیریئر کو ایک غیر ملکی طاقت کے ہاتھوں خطرے میں ڈال رکھا تھا۔

وہ کاسترو کے ملک کے بارے میں بیگانگی اور مخالفانہ رویے کی شہرت حاصل کرتے ہوئے محکمہ انصاف اور پھر ڈی آئی اے میں پہنچ گئیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ ان کے پیچھے انہیں ’کیوبا کی ملکہ‘ اور ’La Otra‘ یعنی ’باہر والی‘ جیسے طنزیہ ناموں سے پکارا جاتا تھا۔

مونٹیس نے کیوبا کے لیے معلومات جمع کرنے، یاد کرنے اور منتقل کرنے کا کام برسوں تک کیا جس کے لیے انہوں نے مخصوص زبان میں لکھ کر بھیجنے سے کالز تک پھیلے ہوئے جاسوسی کے مختلف طریقوں کا ماہرانہ استعمال کیا۔

جب وہ امریکی حکومت کے لیے کیوبا کی صلاحیتوں کے بارے میں رپورٹیں لکھ رہی تھیں اس وقت کاسترو حکومت کو اہم تفصیلات فراہم کر کے امریکی کوششوں کو نقصان بھی پہنچا رہی تھیں، جس میں کیوبا میں موجود چار خفیہ کارندوں کی شناخت بھی شامل تھی۔

کوڈ نیم بلیو ورین ایل سلواڈور میں امریکی اسپیشل فورسز کے افسر کی موت میں بھی ان کے ملوث ہونے کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے۔

جس جگہ ان پر حملہ ہوا تھا وہاں محض چند ہفتے پہلے مونٹیس نے چکر لگایا تھا۔

مسٹر پوپکن لکھتے ہیں کہ مونٹیس کے افشا کردہ رازوں کے اثرات تباہ کن تھے۔

وہ دی انڈپینڈنٹ کو بتاتے ہیں کہ ’جاسوسی کے بارے میں سوچتے ہوئے ہمارے ذہنوں میں عام طور پر روس، چین یا کبھی اسرائیل یا ایران کا نام آتا ہے لیکن بالعموم کیوبا کی طرف دھیان نہیں جاتا۔

دراصل کیوبا جاسوسی کے معاملے میں ایک جدید ترین نیٹ ورک رکھتا ہے۔ ان کی تربیت سوویت یونین نے کی تھی۔ وہ اپنے کام میں بہت اچھے ہیں۔

وہ آج تک جاسوسی کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ کیوبا کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بس کاغذی شیر ہے جس سے واضح طور پر ہماری قومی سلامتی کے لیے کوئی سنگین خطرہ نہیں، روایتی فوجی قوت کے لحاظ سے ان کی طرف سے خطرے کو بہت ہلکا لیا جاتا تھا۔

میرے خیال میں اینا مونٹیس کی کہانی کے دب کر رہ جانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ’اوہ، ایک کیوبا کی جاسوس، اس سے فرق ہی کیا پڑتا ہے؟‘

حقیقت میں اگر آپ واقعی اس کی گہرائی میں جائیں تو انہیں کلاسیفائیڈ معلومات تک رسائی کی تقریباً کھلی چھوٹ حاصل تھی۔

مونٹیس نے جو کیا اس میں وہ کمال تھیں۔ وہ سر جھکائے معلومات یاد کرتی رہیں اور تقریباً 17 سال تک ہمارے ایک مخالف کے ساتھ انہیں شیئر کیا۔

’اس مخالف کیوبا کا ہمارے راز روس اور امریکہ کے دیگر دشمن ملکوں کو بیچنے یا ان کا لین دین کرنے کا طویل ریکارڈ ہے۔

’جو کچھ اس نے کیا، جو معلومات  اس نے شیئر کیں، اس نے واقعی ملک کو شدید نقصان پہنچایا۔‘

جب مونٹیس امریکہ کو خطرے میں ڈال رہی تھیں ان کے خاندان سے ان کے قریبی رشتہ دار ملک کی حفاظت کے لیے کام کر رہے تھے۔

لوسی مونٹیس، اپنی بہن سے 16 ماہ چھوٹی، میامی میں ایف بی آئی کے مترجم کے طور پر کام کر رہی تھیں جس میں ایک ایسی ٹاسک فورس بھی شامل تھی جس نے کیوبا کے جاسوسوں کے مشہور نیٹ ورک WASP کو ختم کیا تھا۔

تیسرا سب سے چھوٹا ٹیٹو مونٹیس اپنی بیوی جوین کی طرح ایف بی آئی کا ایجنٹ بن گیا۔

وہ تعطیلات اور خاص مواقع مونٹیس کے ساتھ ساتھ گزارتے جو پیشہ ورانہ طور پر تحسین جیت رہی تھی اور اس نے اپنے خاندانی حلقے میں کبھی شکوک و شبہات کو جنم نہیں لینے دیا۔

تاہم یہ دوہری زندگی مونٹیس کو بری طرح متاثر کر رہی تھی۔ اس نے اپنی جوانی کا زیادہ تر حصہ ایک خطرناک کھیل کھیلتے ہوئے گزارا تھا اور اب دوسروں کے حوالے سے عدم اعتماد اور تنہائی کا شکار ہو رہی تھی۔

(مسٹر پوپکن ایک ہلکا پھلکا قصہ سناتے ہیں کہ کس طرح کیوبا کے لوگوں نے انہیں ایک ساتھی کے ساتھ ملانے کی کوشش کی مگر مونٹیس نے اسے ’بہت زیادہ بالوں والا‘ کہہ کر مسترد کر دیا)۔

جب ان کا نیٹ ورک پکڑا گیا تب وہ 44 سال کی تھیں۔ حکام کو معلوم تھا کہ مونٹیس ممکنہ طور پر اہم کردار ہیں لیکن وہ محتاط رہے کہ اسے بہت جلدی خبر نہ ہو جائے۔

پھر نائن الیون ہو گیا اور اس سے پہلے کہ اعلی سطحی تجزیہ کار مشرق وسطی میں امریکہ کی جاری فوجی کارروائی سے متعلق انتہائی حساس اعداد و شمار پر ہاتھ صاف کرتیں ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

 مونٹیس کو 21 ستمبر 2001 کو ڈی آئی اے کے ہیڈکوارٹر سے گرفتار کر لیا گیا، یہ خبر ان کے جاننے والے تمام افراد کے لیے صدمے سے کم نہ تھی۔

انہوں نے اپنا جرم تسلیم کیا، وہ سزائے موت سے بچ گئیں اور اپنی 25 سالہ قید کی سزا کاٹنا شروع کر دی۔

وہ مشروط طور پر اب ایک آزاد عورت ہیں۔ ان کی عمر 65 سال ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسٹر پوپکن کا کہنا ہے کہ انہوں نے گذشتہ برسوں میں لوسی کے رویے میں تبدیلی دیکھی ہے جو اپنے باقی محب وطن خاندان کے ساتھ یہ بتانے کی خواہاں تھی کہ وہ جاسوسی کی سرگرمیوں میں قطعاً ملوث نہیں تھیں۔

 اتوار کو ان کی رہائی سے قبل مسٹر پوپکن نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’وہ جانتی ہیں کہ اینا جیل سے باہر آرہی ہے اور دو چیزیں ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے خیال میں اس نے اپنی سزا پوری کی  اب اس کے پاس اپنی زندگی ازسرنو شروع کرنے کا موقع ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ یہ (لوسی کی) پہلی سوچ ہے۔

’دوسرا یہ کہ یہ خاندان سب سے پہلے ہے۔ وہ خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک فرد ہیں جو اب جیل سے باہر آرہی ہیں اگرچہ  غصہ اور تکلیف بالکل دور نہیں ہوئی ہے۔ یہ ابھی بھی اندر ہی اندر موجود ہے۔

’تاہم وہ سب انسان ہیں اور یہ وہ شخص ہے جس کے ساتھ وہ پلے بڑھے۔ لہٰذا وہ ان جذبات کے ساتھ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ان کا ماننا ہے کہ اس عمل میں بنیادی کردار جس چیز کا ہو گا وہ ’یہ ہے کہ اینا کا رد عمل کیسا ہوتا ہے۔‘

پوپکن کہتے ہیں کہ ’وہ جیل میں گزارے وقت سمیت کسی بھی معاملے میں کبھی بھی معذرت خواہ نہیں رہیں اور مجھے لگتا ہے کہ ان کے باہر آنے کے بعد یہ چیز بہت اہم ہو گی۔

’کیا وہ خاندان کے پاس پہنچے گیں اور انہیں کہیں گی کہ 'دیکھو میں نے جو کیا اس کی میرے پاس وجوہات ہیں۔ لیکن مجھے افسوس ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ کو اس سے دوچار کیا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ سے جھوٹ بولا؟‘

مسٹر پوپکن کہتے ہیں ’اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ اس سے تعمیر نو میں مدد ملے گی۔

’لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتیں اور ضد پر اڑی رہتی ہیں، اپنے کیے کا جواز پیش کرتی ہیں تو میرے خیال میں خاندان کے افراد خاص طور پر بہن بھائیوں کو انہیں قبول کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔ پھر یہ ایک بہت ہی پریشان کن تعلق رہے گا۔‘

مسٹر پوپکن کہتے ہیں مونٹیس نے نہ صرف اپنے ملک اور خاندان کو بلکہ ان لوگوں کو بھی دھوکہ دیا جن کے ساتھ وہ قریب رہ کر کام کرتی رہیں۔

بہت سے ساتھیوں کو صدمے سے دوچار کیا جو محسوس کرتے ہیں کہ اس نے ان کی زندگی بھر کے کام کو داغدار کر دیا۔

وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ مونٹیس کے کچھ ساتھی ان کی گرفتاری کی خبر سن کر اپنی میزوں پر رو رہے تھے۔

مسٹر پوپکن نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’ان میں سے کچھ آج بھی جو اس نے کیا تھا اس پر ناقابل یقین حد تک ناراض اور تکلیف میں ہیں۔

’میں اس کے ساتھ نزدیک رہ کر کام کرنے والے کچھ پیشہ ور افراد کی رائے لے چکا ہوں جو محسوس کرتے ہیں کہ اینا کے فریب اور غداری کی وجہ سے ان کی پوری پیشہ ورانہ زندگی بالکل ہی اکارت گئی۔

’اگر آپ انٹیلی جنس سے وابستہ ہیں اور آپ کا کام کیوبا کے بارے میں رپورٹ کرنا اور یہ جاننا ہے کہ کیوبا میں کیا چل رہا ہے اور آپ کا کیوبا کا کوئی ساتھی ہر وہ چیز جس کا آپ یا آپ کے اردگرد کے لوگ پتہ لگاتے ہیں، جو کیوبا میں امریکہ اور امریکی انٹیلی جنس براہ راست ہوانا بھیج رہی ہے وہ انہیں آگے کیوبا والوں کو پہنچا دیتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں جو کچھ کیا ہے وہ سب بے سود گیا۔ اور اسی لیے اینا کے لیے آج تک غصہ اور سخت جذبات ہیں جسے بہت سے لوگ کبھی ختم نہ کر سکیں گے۔‘

یہ واضح نہیں ہے کہ مونٹیس اپنی رہائی کے بعد کہاں جا سکتی ہیں۔ پورٹو ریکو میں ان کا خاندان، دوست اور حامی موجود ہیں جن میں سے کچھ انہیں لوک ہیرو سمجھتے ہیں۔

یقیناً یہ سوال بنتا ہے کہ کیا کیوبا کی طویل مدتی جاسوس اس ملک کو چھوڑ جائے گی جہاں اس نے باقی سب کو دھوکے میں رکھا۔

مسٹر پوپکن انہیں اب کوئی خطرہ نہیں سمجھتے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس جو بھی معلومات تھیں وہ آج کئی دہائیوں پرانی اور واضح طور پر ناکارہ ہو چکی ہیں۔

کئی برس ان پر تحقیق کرنے کے بعد بھی ان کے لیے یہ چیز معمہ بنی ہوئی ہے کہ وہ کیا وجوہات تھیں جن کے سبب مونٹیس نے یہ سب کیا۔

وہ دی انڈپینڈنٹ کو بتاتے ہیں کہ ’اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں نے پوری طرح کوشش نہیں کی بلکہ مکمل طور پر یہ سمجھنا بہت دشوار ہے کہ کوئی ایسا کیوں کرے گا اور کس طرح وہ خود کو جواز دیتا رہے گا۔

یہ تہ در تہ دھوکہ دہی پر مشتمل اتنا ڈرامائی فیصلہ تھا کہ میرے لیے یہ کہنا کافی وضاحت نہیں کہ 'وہ سیاسی ذہن رکھتی ہیں۔ وہ امریکہ مخالف ہیں۔ ان کے والد جو فوج میں تھے بدسلوکی کرتے تھے۔'

’میرے خیال میں یہ ان تمام عوامل کا مجموعہ ہے۔ لیکن جس چیز کو سمجھنا بہت مشکل ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ ان تمام عوامل کی بات کرتے ہیں تو ان کی ایک اور بہن بھی ہے جو بہت ساری چیزوں سے گزری، جو انہی حالات میں پلی بڑھی۔ لیکن وہ بہت مختلف نکلی، اس لیے یہاں تک کہ 15 سال پر محیط نزدیک سے مطالعہ کے بعد بھی اینا میرے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔‘

مسٹر پوپکن کا کہنا ہے کہ وحشت ناک لیکن سچی کہانی کے بے شمار عناصر، کیوبا کے جلاوطن، مجسم جاسوس، ایجنسیاں کو دھوکہ دینے والے اور یہاں تک کہ مینسن خاندان اور باقی سب چیزوں کے باوجود یہ بہن کا عنصر ہے جس کی طرف وہ بار بار پلٹتے ہیں۔

وہ دی انڈپینڈنٹ کو بتاتے ہیں کہ ’مجھے جاسوسی اور اس سے متعلق تمام چیزوں میں دلچسپی ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو چیز ان کو بعض حوالوں سے امریکہ میں حقیقی زندگی کی جاسوسی کہانیوں سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے ان کا خاندانی پہلو کہ ایک ہی خاندان سے اتنے مختلف قسم کے لوگ کیسے نکل سکتے ہیں۔ ان میں ایک تعلق ہے جو میرے خیال میں بہت سے لوگ سمجھ جائیں گے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ