رستم زماں گاما پہلوان پر فیچر فلم: ’گاما کون بنے گا؟‘

ناصر ادیب نے دعوٰی کیا کہ جب یہ فلم بن جائے گی تو دیکھنے والے اس میں 1878 سے 1947 تک کا دور دیکھیں گے۔’یہ ایک صدی کی کہانی ہے جسے ڈھائی گھنٹے میں بیان کیا جائے گا۔‘

ناصر ادیب کے مطابق: ’گاما پہلوان نہیں تھا، نا ہی وہ ناقابلِ تسخیر تھا۔ یہ گاما سپر پاور رکھتا ہے، یہ کافی مختلف پہلوان ہے‘ (وکی میڈیا کامنز)

جب مجھے 1979 کی فلم مولا جٹ اور 2022 کی دی لیجنڈ آف مولا جٹ کے مصنف ناصر ادیب کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اب رستم زماں گاما پہلوان پر فلم لکھ رہے ہیں وہ بھی پنجابی زبان میں، تو تعجب، دلچسپی اور اشتیاق تینوں کیفیات ایک ساتھ محسوس ہوئیں۔

لاہور پہنچ کر ناصر ادیب صاحب سے جب ملنے کی درخواست کی جو منظور کر لی گئی اور جب ملاقات ہوئی تو کہا گیا کہ ’میں خود آپ کے پاس آ رہا ہوں۔‘

جب سیاہ سوٹ پہنے اور سیاہ ٹائی لگائے ہوئے ناصر ادیب میرے ہوٹل پہنچے تو کافی سنجیدہ موڈ میں تھے، مگر کچھ دیر کی گفتگو کے بعد وہ مسکرانے لگے اور اپنے کام کے بارے میں بتانے پر آمادہ ہوئے۔

دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی ریلیز سے پہلے اور بعد میں ان سے بہت طویل گفتگو رہی ہے، اس لیے کچھ بے تکلفی تو ہو ہی چکی تھی، لیکن ان سے ان کے اگلے پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلات حاصل کرنا اور وہ بھی کیمرے پر کچھ آسان نہیں تھا۔

بہرحال میں میرا ان سے پہلا سوال یہی تھا کہ وہ رستم زماں، گاما پہلوان کی زندگی پر فلم کیوں اور کس کے کہنے پر بنا رہے ہیں۔

تو انہوں نے نسبتاً سپاٹ چہرے کے ساتھ تصدیق کی کہ وہ گاما پہلوان پر فلم لکھ رہے ہیں جس پر انہیں فخر ہے کیونکہ گاما پہلوان کو کبھی کوئی ہرا نہیں سکا تھا، وہ ناقابلِ تسخیر لوگوں کو پسند کرتے ہیں اور وہ خود بھی ناقابلِ تسخیر ہی رہنا چاہتے ہیں۔

ناصر ادیب نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پروڈیوسر شایان خان نے جب ان سے ملاقات کے لیے وقت مانگا تو اس وقت ان کا ارادہ تھا کہ وہ کسی بھی فلم لکھنے کی پیشکش کو منع کردیں گے کیونکہ دی لیجنڈ آف مولا جٹ کے بعد ان کے پاس ابھی کوئی دوسری کوئی ایسی کہانی نہیں تھی جو فخر سے بیان کی جاسکے۔

تاہم شایان نے آ کر ان سے کہا کہ وہ عظیم گاما پر فلم بنانا چاہتے ہیں، بس یہ سن کر فوراً ہی ہامی بھر دی کیونکہ ایک ناقابلِ تسخیر پہلوان کی کہانی لکھنا بہت عمدہ کام ہے اور اگر ہدایت کار اور پروڈیوسر ہمت کریں تو گاما پہلوان پر فلم اگر مولاجٹ سے بڑی نہیں تو کم از کم اس کے برابر کی تو بن جائے گی۔

شایان خان پروڈیوسر اور اداکار ہیں 2018 میں ان کی فلم ’نا بینڈ نا باراتی‘ سینیما میں پیش کی گئی تھی جس کے بعد انہوں نے دوسری فلم ’منی بیک گارنٹی‘ بنائی جس میں فواد خان اور وسیم اکرم اہم کردار ادا کررہے ہیں اور یہ رواں برس عیدالفطر پر پیش کی جائے گی۔

اس کے علاوہ وہ ’منڈی‘ کے نام سے ایک ویب سیریز بھی بناچکے میں جس میں ان کے ساتھ صبا قمر اور میکائل ذوالفقار کام کررہے ہیں۔

ناصر ادیب نے دعوٰی کیا کہ جب یہ فلم بن جائے گی تو دیکھنے والے اس میں 1878 سے 1947 تک کا دور دیکھیں گے، اس میں ہر چیز نظر آئے گی، ’یہ ایک صدی کی کہانی ہے جسے ڈھائی گھنٹے میں بیان کیا جائے گا۔‘

ناصر ادیب نے وضاحت کی کہ گاما پہلوان کی زندگی کے کسی بھی واقعے کو تبدیل نہیں کیا جائے گا، وہ من و عن آئیں گے، مگر وہ کیوں ہوں گے، یہ فلم کی کہانی ہے۔

’اس فلم میں مکمل مصالحے ہوں گے، یہ فلم ایک کمرشل فلم ہوگی، جس میں رومان، ہیروئین، اور یہاں تک کے ولن بھی ہوں گے بلکہ شاید ایک گیت بھی ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ مزاح اور جذبات بھی بھرپور نظر آئیں گے۔‘

تاہم ابھی اس سے زیادہ بتایا نہیں جاسکتا۔ البتہ انہوں نے کہا کہ گاما پہلوان دنیا کا سب سے طاقتور ترین آدمی تھا، اس فلم کا ولن اس سے بھی زیادہ طاقتور ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ناصر ادیب نے انکشاف کیا کہ اس فلم میں حکومت پاکستان نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے مگر ابھی یہ سب ابتدائی مرحلے میں ہے، دیکھتے ہیں کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ گاما پہلوان کا خاندان، میاں نواز شریف کی اہلیہ مرحومہ کلثوم نواز کا خاندان ہے، کیا آپ ان میں سے کسی سے رابطہ کیا گیا ہے، تو ناصر ادیب نے کہا کہ نہیں اب تک رابطہ نہیں کیا گیا۔

’ہماری نیت ٹھیک ہے، اس فلم کے ذریعے گاما پہلوان کا نام پوری دنیا میں روشن ہوگا، جو لوگ بھول چکے ہیں وہ بھی یاد کریں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس فلم میں کمرشل فلم کے تمام لوازمات کے ساتھ ان کی اکھاڑے والی زندگی اور ذاتی زندگی کے تمام اہم پہلو اجاگر کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسے مولاجٹ دیکھنے والے سکتے میں رہ گئے تھے، کیونکہ وہ جو کہانی اس فلم میں دیکھنے گئے تھے، فلم اس سے بالکل ہی مختلف تھی، بالکل اسی طرح جب لوگ گاما پہلوان کی یہ فلم دیکھیں گے تو وہ سکتے میں رہ جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی تک انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ گاما پہلوان کا کردار کون کرسکتا ہے، وہ جب فلم مکمل لکھ لی جائے گی تب فیصلہ ہوگا، تاہم اس وقت ان کے سامنے پروڈیوسر شایان خان تھے جنہیں کہہ دیا گیا کہ اس حالت میں تو وہ گاما پہلوان کا کردار ہرگز نہیں کرسکتے کیونکہ وہ پہلوان تھا، جس پر شایان نے کہا کہ وہ کرسکتے ہیں، تو ناصر ادیب نے کہا کہ ٹھیک ہے دیکھ لیں گے۔

ناصر ادیب نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بالی وڈ میں عامر خان کی ایک فلم دنگل آئی تھی جس میں عامر خان نے پہلوان بننے کے لیے وزن بڑھایا تھا، لیکن وہ گاما پہلوان نہیں تھا، نا ہی وہ ناقابلِ تسخیر تھا۔ یہ گاما سپر پاور رکھتا ہے، یہ کافی مختلف پہلوان ہے۔

یہ فلم کے ہدایتکار کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تمام ہی ہدایتکار بہت اچھے ہیں البتہ جن کے ساتھ کام کیا ہے ان میں پہلی خواہش ہے کہ یہ فلم بلال لاشاری بنائیں، اگر وہ نہیں تو پھر حسن عسکری، اس کے علاوہ دیگر بھی ہیں مگر جن کے ساتھ کام کیا ہے اس کے مطابق یہ دو نام ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم