جدید ریاضی کے باپ

سینیٹ انتخابات میں ریاضی کے نئے فارمولے کی کامیابی کے بعد اب ہر کوئی بلا خوف طعنہ و شرم کچھ بھی کہہ اور کر سکتا ہے۔

پاکستان میں ایجاد ہونے والا ریاضی کا نیا فارمولہ تجرباتی طور پر 2018  کے الیکشن میں استعمال ہو چکا ہے  (اے ایف پی)

ہماری تاریخ میں جید ریاضی دان گزرے ہیں جنہوں نے مغرب کو ریاضی کے اہم اصولوں سے نہ صرف واقفیت دی بلکہ آنے والی صدیوں میں سائنس کو دن دگنی اور رات چگنی ترقی کی راہ بھی دکھائی۔

صفر ہو یا الجبرا، عددی نظام ہو یا مربعی مساوات اور سہ رخی کے اصول، ہمارے آبا و اجداد نے تقریبا 600 سال سے لگ بھگ سائنس کی اس اہم شاخ پر بےتاج بادشاہی کی۔ الخوارزمی، البطانی، الکندی، الکراجی، البیرونی وہ چند نام ہیں جو حساب کی کتاب کے موجد سمجھے جاتے ہیں۔

مسلمانوں کی سائنسی اجارہ داری کے اس دور کے اختتام کے بعد ہمارا انحطاط شروع ہوا۔ ہر طرف بےنوری چھا گئی۔ نرگس روتی رہی مگر کوئی دیدہ ور پیدا نہ ہوا۔

سائنسی ترقی کے اس دور کے اختتام سے تنزلی کا ایسا آغاز ہوا کہ ہم ذہنی اور مادی غلام بن کر رہ گئے۔ مغرب ہمیں ٹھڈے مار کر اِدھر اُدھر دھکیلتا رہا، ہم پر ظلم ڈھائے گئے، ہم بلبلاتے اور بڑبڑاتے رہے مگر غلامی کی زنجیریں پہن کر رقص بھی جاری رکھنے پر مجبور رہے۔ آزادی کے بعد بھی آزادی نصیب نہ ہوئی، غلام ہی رہے۔

لیکن اگست 2019 میں روشنی کی ایک کرن پھوٹی ہے جس نے جسم کو گرما اور روح کو تڑپا دیا ہے۔ سائنس بالخصوص ریاضی کے میدان میں اسلاف کی بلند پروازیں اب دوبارہ سے دسترس میں نظر آنے لگی ہیں۔

ایک ایسا فارمولا ایجاد کیا ہے جس نے ریاضی کی دنیا میں مکمل طور پر انقلاب برپا کر کے مغربی نوبیل انعام یافتہ ریاضی دانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ سب اس پر اتفاق کرتے ہیں کہ یہ فارمولا پاکستان میں ہی بن سکتا تھا کیوں کہ صرف اسی مملکت خداداد میں ایسے سائنس دان بستے ہیں جو حسابی مساوات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنے کی نہ ختم ہونے والی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس فارمولے کے مطابق چھوٹا عدد بڑے عدد سے بڑا کیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ بڑے عدد کو ایک مرتبہ گننے سے ایک نتیجہ اور آدھے گھنٹے کے بعد دوبارہ گننے سے دوسرا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔

اس فارمولے کے تحت ایک عدد بولنے اور گننے میں کچھ اور بتانے میں کچھ اور ہو سکتا ہے۔ اس فارمولے کا حالیہ کامیاب تجربہ سینیٹ کے انتخابات میں کیا گیا جہاں پر 36،64 پر بھاری ہو گیا اور ریاضی کا یہ فارمولا شکست کھا گیا کہ بڑا عدد چھوٹے عدد کے جب بھی تابع ہو گا تو جواب منفی میں آئے گا۔

حکومتی سینیٹروں نے جس جوش و خروش سے تالیاں بجا کر چھوٹے عدد کی برتری کو مثبت ثابت کیا اور پھر فوج کے ترجمان نے اس حیرت انگیز نتیجے پر تنقید کرنے والوں کی ٹویٹ کے ذریعے جمہوری تربیت کی۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان میں چھوٹا بڑا اور بڑا چھوٹا ہے۔

اسی طرح عام اصول کے مطابق ریاضی کے اعداد بولنے اور لکھنے میں ایک جیسے ہوتے ہیں۔ یعنی 54 لکھنے میں بھی 54 ہی نظر آئے گا اور بولنے اور سننے میں بھی 54 ہی بولا اور سنا جائے گا۔

مگر ہمارے ریاضی کے نئے اصول کے مطابق 54 بولنے میں 54 اور لکھنے میں 50 ہو سکتا ہے اور ہوا بھی۔ پریزائیڈنگ آفیسر کے مائیک پر سنے جانے والا جملہ 54,54 پکار رہا تھا مگر اگلے لمحے کاغذ پر یہ 50 کی صورت میں نمودار ہوا۔

اس کامیاب تجربے کے بعد نہ صرف ریاضی کی بنیاد تبدیل ہو گئی ہے بلکہ ہماری زندگیاں اب ایک نئی ڈگر پر گامزن ہو جائیں گی۔

اس فارمولے کی ایجاد اتنی ہی اہم ہے جتنی ریاضی میں صفر کی اہمیت، جس طرح صفر کے بغیر ریاضی صفر ہے اسی طرح چھوٹے عدد کوبڑے پر برتر ثابت کیے بغیر ہم مستقبل قریب میں اپنی زندگی کے حساب کتاب کو نامکمل ہی سمجھیں گے۔

جس طرح صفر نے سائنسی تجربات، لین دین وغیرہ کے معاملات کو یکسر تبدیل کر کے آسان فہم اور بامقصد بنا دیا اسی طرح ہمارے موجدوں کی اس ایجاد کا اطلاق تقریبا ہر شعبہ ہائے زندگی پر ہو گا۔

مثلا ٹیکسوں اور مہنگائی کی دو طرفہ تلوار نے آپ کی ماہانہ آمدن یا تنخواہ اگر آدھی سے بھی کم کر دی ہے تو آپ اس فارمولے کو لاگو کر کے اپنے بچوں کو سمجھا سکتے ہیں کہ آپ کی آمدن و تنخواہ میں کمی اصل میں اضافہ ہے۔

اسی طرح اگر آپ اور آپ کے بچے پہلے کی نسبت کم خوراک کھا رہے ہیں تو آپ اس فارمولے پرعمل درآمد کرتے ہوئے خود کو پرمسرت کر سکتے ہیں کہ کم خوراک درحقیقت زیادہ خوراک ہے۔

یہ فارمولا دوسرے شعبوں میں بھی انتہائی کارآمد ہے۔ مثلا اخلاق کی گراوٹ اس فارمولے کے تحت اخلاقی ترقی ہے، گرتی ہوئی معیشت اصل میں ترقی کا نیا زینہ ہے۔ بےایمانی ایمانداری، انصاف کی پامالی عدل کی عظمت، جھوٹ سچ، سفارش عمدہ میرٹ اور اپنی نوکری، خصوصی مراعات کا تحفظ قومی ضرورت وغیرہ وغیرہ ہے۔

یہ فارمولا تجرباتی طور پر 2018 میں استعمال ہو چکا ہے۔ اس کے مختلف ٹکڑے پاکستان بھر میں پھیلی ہوئی چھوٹی چھوٹی لیبارٹریوں میں بنائے گئے اور پچھلے سال کے قومی اور صوبائی انتخابات میں ان کا بے دھڑک استعمال ہوا۔

اس فارمولے کی کامیابی کے لیے ایک طویل اہتمام کیا گیا جس کا آغاز جنرل راحیل شریف کے عظیم الشان دور سے ہوگیا تھا۔ وہ تمام عددی مرکب جن کو اوپر نیچے، اِدھر اُدھر یا دائیں بائیں کرنے سے نتائج تبدیل ہو سکتے تھے، احتیاط کے ساتھ قطار میں لگائے گئے، جو عدد فارمولے میں خرابی کا باعث بن رہا تھا اس کو کاٹ کر صفحے سے غائب کر دیا گیا۔

نئے اعداد بنا کر اس فارمولے کو مزید مستحکم کیا گیا اور پھر ملک کے تجزیہ نگار، صحافی، میڈیا مالکان اور منصفین کو بروئے کار لا کر چھوٹے کی بڑے پر برتری ثابت کی گئی۔

جیسا کہ تمام اہم تجربات میں ہوتا ہے عین وقت پر جب بڑا عدد پھر بھی بھاری ہونے لگا تو اس فارمولے کے اس حصے کو لاگو کر دیا گیا جس کے تحت اعداد گننے اور بولنے میں کچھ اور سننے اور درج ہونے میں کچھ ہو جاتے ہیں۔ اس طرح 2018 کے انتخابات سینیٹ کے انتخابات کی طرح انتہائی کامیابی سے اختتام پزیر ہوئے۔ الحمد للہ اللہ بڑا کارساز ہے۔

اسی فارمولے کی کرامت ہے کہ سینیٹ میں حکومتی سینیٹ چیئرمین کو بچانے کے بعد اس کا خیبر پختونخوا کی اسمبلی پر بھی اثر نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔

یہاں پر مہمند اور خیبر کے مکمل طور پر پشتون علاقوں سے منتخب ہونے والے مکمل طور پر پٹھان اراکین نے صوبہ بلوچستان میں جنم لینے والی بلوچستان عوامی پارٹی کو اپنا لیا ہے۔ یعنی اب پشتون علاقوں کے نمائندگان بلوچ پارٹی کے جھنڈے تلے پشتون بھائیوں، بہنوں اور بچوں کے حقوق کی تحفظ کی جنگ لڑیں گے۔

یہ صرف اسی وقت ممکن ہو سکتا تھا جب نیا فارمولا مکمل طور پر رائج ہونے کی صلاحیت پا لے۔ ظاہر ہے سینیٹ کے انتخابات میں اس فارمولے کی کامیابی کے بعد اب ہر کوئی بلا خوف طعنہ و شرم کچھ بھی کہہ اور کر سکتا ہے۔

ہمیں ذاتی اعتراضات ایک طرف رکھ کر اس فارمولے کے موجدوں کو سلام پیش کرنا چاہیے کہ جنہوں نے تمام ریاضی دانوں کو پیچھے چھوڑ کر صدیوں بعد مسلمانوں کا نام دوبارہ سے روشن کیا ہے۔ قوم کو ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ یہ جدید ریاضی کے باپ ہیں۔ ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر